عظیم الشان حقوق کراچی مارچ ہزار ہا افراد شریک ، شہر کو لاوارث نہیں چھوڑیں گے، سراج الحق

352
کراچی: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق اور امیر کراچی حافظ نعیم الرحمن عظیم الشان حقوق کراچی مارچ سے خطاب کررہے ہیں

 

کراچی(اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی کے تحت شاہراہ قائدین پر ہونے والے عظیم الشان اور تاریخی ’’حقوق کراچی مارچ ‘‘ میں 14اکتوبر ملک گیر سطح پر ’’یوم حقوق کراچی ‘‘منانے اور 15,16,17اکتوبر کو کراچی بھر میں حقو ق کراچی تحریک کے مطالبات کی منظوری کے لیے ’’عوامی ریفرنڈ م ‘‘کرانے کا اعلان کیا گیا ہے ،مارچ میں یہ بھی کہا گیا کہ کراچی کے عوام کے حقوق کے حصول کے لیے وزیر اعلیٰ ہاؤس یا سندھ اسمبلی کا گھیراؤ بھی کیا جاسکتا ہے ،عروس البلاد کراچی اور اس کے 3 کروڑ عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے ،کراچی کے عوام کے مسائل کے حل اور آئینی وقانونی اور جائز حق کے حصو ل کی جدوجہد جاری رہے گی-ان خیالات کا اظہار امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق اورکراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے شاہراہ قائدین پر مارچ میں شریک لاکھوں افراد سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مارچ میں ’’اعلان کراچی ‘‘ کے عنوان سے ایک مشترکہ اعلامیے بھی جاری کیا گیا جس میں ’’حقوق کراچی تحریک‘‘ اور عوام کے مسائل کے حل کے حوالے سے مختلف مطالبات کیے گئے ہیں۔ مارچ سے نائب امیر جماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی، ڈپٹی سیکرٹری کراچی عبدالرزاق خان ،رکن سندھ اسمبلی و امیر جماعت اسلامی ضلع جنوبی
سید عبد الرشید ، بلدیہ عظمیٰ میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر جنید مکاتی ،کورنگی انڈسٹریل اینڈ ٹریڈ ایسوسی ایشن کے سابق صدر زاہد سعید ،KNگروپ کے چیئرمین ،معروف صنعت کاروکالم نگارخلیل احمد نینی تال،معروف صنعتکار ادریس گگی ، فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن کے صدر عبد اللہ عابدودیگرنے بھی خطاب کیا ۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر اسد اللہ بھٹو،صوبائی امیر محمد حسین محنتی اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ عظیم الشان ’’حقوق کراچی مارچ‘‘ پر میں کراچی کے عوام اور جماعت اسلامی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ،کراچی منی پاکستان ہے،جب کراچی پریشان ہوتا ہے تو پورا ملک پریشان ہوتا ہے ،کراچی میں ملک کے ہر حصے اور ہر زبان بولنے والے لوگ رہتے ہیں ،کراچی کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور اس کی تباہی پورے ملک کی تباہی ہے ،ایوب خان سے لے کر آج تک کسی حکومت نے کراچی کو اس کا حق نہیں دیا ہے ،صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت نے بھی ہمیشہ کراچی کے لوگوں کا استحصال کیا ہے ،موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومت بھی کراچی کے ساتھ ناانصافی کررہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں مردم شماری پر اعتراضات ہیں لیکن وفاقی حکومت نے ابھی تک اعلان کے باوجود مردم شماری کو درست کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔جماعت اسلامی کراچی کے ساتھ ہے اور 14اکتوبر کو ملک بھر میں یوم حقوق کراچی منارہے ہیں ،شہر کے بزر گ ،جوانو۔ ماؤں ،بہنوں ، بیٹیوں اور پورے کراچی کے عوام کے لیے ملک بھرمیں اظہار یکجہتی کریں گے ، اس وقت کراچی ہی نہیں اندرون سندھ کے عوام بھی سخت پریشان ہیں،ہم جماعت اسلامی کراچی کے اعلامیے کی مکمل حمایت کرتے ہیں ،کراچی کو بااختیار شہری حکومت دی جائے ،مردم شماری درست کی جائے ،عوام کو بجلی ،پانی سمیت جو بے شمار مسائل درپیش ہیں ان سے نجات دلائی جائے ۔انہوں نے کہاکہ موجودہ وفاقی حکومت کے 780دن ان کی ناکامیوں کی داستان ہے ، معیشت تباہ اور عوام بدحال ہیں،ریاست مدینہ کے دعویدار حکومت بچے ، بچیوں اور خواتین سے عصمت دری کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کرسکی،عوام کو آٹا 60روپے فی کلو مل رہا ہے ،دال ، چاول، چینی کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے ،چینی 105روپے میں فروخت ہورہی ہے ،دوائیوں کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا ،کراچی کی معصوم بچی ،نوشہرہ ، ڈی آئی خان میں بچے ،بچیاں زیادتی کا شکار ہوئی ہیں اور مجرم کیفر کردار تک نہیں پہنچ سکے،حکومت نئے پاکستان کی تعمیر کے لیے پرانی مشینری لائی ہے اور ان سب نے مل کر جو حشر کردیا ہے وہ سب کے سامنے ہے،انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی ملک بھر میں عوام کی نمائندہ اور ترجمان بنے گی ،کراچی کے عوام کو بھی ہم ہرگز تنہا نہیں چھوڑیں گے ،کراچی کے حکمران جماعتوں نے اس شہر کو تباہ کیا ہے یہ اسے سنوارنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ،صرف جماعت اسلامی ہی مسائل حل کرسکتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ملک میں کرپشن بڑھ رہی ہے پہلے لوگ ناجائز کاموں کے لیے رشوت دیتے تھے ا ب جائز کاموں کے لیے بھی دینا پڑتی ہے ،وزیر اعظم یو ٹرن لینے کے حامی ہیں ہم کہتے ہیں کہ وہ رائیٹ ٹرن لے لیں اور عوام پر رحم کریں ،حکومت کی کشمیر پالیسی ناکام ہوگئی ہے اور کشمیریوں کو اس حکومت نے بھی مایوس کیا ہے ،حکومت کی معاشی پالیسی انڈے ، مرغیوں سے شروع ہوئی تھی،اب کہتے ہیں کہ بھنگ پیدا کر کے معیشت بہتر کریں گے ۔ایسے لوگ حکومت کیسے چلاسکتے ہیں اور عوام کے مسائل کیسے حل کرسکتے ہیں ؟حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ آج کراچی کی جو تصویر نظر آرہی ہے وہ سب کے سامنے ہے اب اس کو واضح کرنے اور بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، شہر کراچی پورے ملک کی معیشت کا پہیہ چلاتا ہے ، یہ ایک گلدستہ اور منی پاکستان ہے ،67فیصد سے زائد ریونیو جمع کراتا ہے ، یہ شہر ملک کے ماتھے کا جھومر ہے ،حکمرانوں نے اس شہر کو لاوارث اور تنہا کردیا ہے، حالیہ بارشوں نے حکمران طبقے کو مکمل ایکسپوز کردیا ہے ،حکمرانوں نے اس شہر کو بجلی ،گیس اور پانی سے محروم کردیا ہے ،یہ ملک کا دارالخلافہ رہ چکا ہے لیکن آج یہ بدحال ہے ۔المیہ یہ ہے کہ اس شہر کی نمائندگی کرنے والوں کی موجودگی میں شہر کی آبادی آدھی کردی گئی ،وہ خاموش رہے ،آج کے اس عظیم الشان ’’حقوق کراچی مارچ‘‘ میں ہم کہتے ہیں اب کراچی کو مزید لاوارث نہیں رہنے دیا جائے گا ،جماعت اسلامی کا اس شہر سے جسم وجان اور قلب و روح کا تعلق ہے ،ہم اسے تنہا نہیں چھوڑیں گے ،ماضی میں عبد الستار افغانی اور نعمت اللہ خان نے کراچی کی خدمت کی ہے ، آئندہ بھی ہم ہی کراچی کے مسائل حل کریں گے ،ماضی میں عبد الستار افغانی کی بلدیہ کو کراچی کا حق موٹر ویکل ٹیکس مانگنے پر توڑ دیا گیا لیکن انہوں نے کراچی کے حقوق کی جنگ جاری رکھی ،2005ء میں کے ای ایس سی کو ایم کیو ایم نے جنرل مشرف کے ساتھ مل کر فروخت کیا اور پھر زرداری کے دور میں بھی ایم کیو ایم ان کے ساتھ شامل تھی جب اسے دوبارہ فروخت کیا گیا ،کے الیکٹرک کا اصل مالک کون ہے اس کا تو پتا نہیں چل سکا ،آج عارف نقوی کے پاس ہے یہ ادارہ اور عارف نقوی عمران خان کا دوست ہے اور عمران خان مسلسل کے الیکٹرک کی حمایت کررہے ہیں ،کراچی کی مردم شماری جعلی ہے ،ہم اس فراڈ مردم شماری کو تسلیم نہیں کرتے ،مردم شماری دوبارہ کروائی جائے ،CCIنے طے کیا تھا کہ 5فیصد بلاکس دوبارہ کھولے جائیں گے مگر آج تک ایسا نہیں کیا گیا ،پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم، کوئی بھی آبادی کو کم گننے پر احتجاج نہیں کرتا ۔عمران خان بتائیں کراچی کے لیے 1100ارب روپے کا پیکیج ڈیڑھ کروڑ آبادی کے لیے ہے یا تین کروڑ لوگوں کے لیے ؟، اگر کراچی کو کراچی کی اصل نمائندگی اور حق مل جائے تو بہت سے مسائل حل ہوں گے اور کراچی پر حق جتانے والے ناکام ہوجائیں گے ،کراچی کو خیراتی پیکیج نہیں اس کا حق دیا جائے ۔کراچی میں ملک کے ہر حصے کے لوگ آباد ہیں ،بااختیار شہری حکومت سے کسی ایک زبان بولنے والے کا نہیں بلکہ ہر شہری کا مسئلہ حل ہوگا ، ہم نے ماضی میں بھی لسانیت اور عصبیت کے خلاف بات کی تھی ہم آج بھی لسانیت کو دفن کرتے ہیں ، ہم ہر زبان اور ہر علاقے کے لوگوں کے مسائل کے حل کی جدوجہد کررہے ہیں ،کوٹہ سسٹم میرٹ کا قتل عام ہے ،ہم سندھ کے دانشوروں سے بات کرنا چاہتے ہیں ،کوٹہ سسٹم سے حق تلفی پر بات کرنا چاہتے ہیں ،کراچی کے نوجوانوں کو روزگار ملنا چاہیئے ۔ہم 15,16,17اکتوبر کو کراچی میں عوامی ریفرنڈم کروائیں گے اور ہماری حقوق کراچی تحریک میں جو مطالبات رکھے گئے ہیں اس پر عوام کی رائے کو سامنے لا یا جائے گا ،عوام کے ساتھ مل کر کراچی کو حق دلائیں گے ۔ہم کراچی کے حق کے لیے سندھ اسمبلی اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کا گھیراؤ کرنے کا آپشن رکھتے ہیں کیونکہ سندھ کے اندر وڈیرے اور جاگیردار ہاریوں اور کسانوں کا استحصا ل کرتے ہیں اور ان کی رائے پر ڈاکے ڈالتے ہیں ،یہ نہ ان کو حق دیتے ہیں اور نہ شہری علاقوں کے ساتھ انصاف کرتے ہیں ۔ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہاکہ آج کا دن ان شاء اللہ کراچی کی تاریخ کو بدلنے کا د ن ثابت ہوگا ، ہم پورے شہر کو جوڑنے اور ایک اکائی بنانے کے لیے مصروف عمل ہیں،آج کراچی کے عوام اپنے حق کے لیے گھروں سے نکل کر شاہراہ قائدین پر جمع ہیں ، ہمارا ایجنڈا کسی خاص طبقے کے لیے بلکہ پورے تین کروڑ انسانوں کے لیے ہے، جب تین کروڑ انسان اپنی حیثیت سمجھ لیں گے تو پھر کوئی ان کے حقو ق سلب نہیں کرسکتا ،جماعت اسلامی کراچی کے تین کروڑ عوام کی آواز بنے گی ۔عبد الرزاق خان نے کہاکہ حقوق کراچی مارچ کا مقصد ہے کہ کراچی کو دوبارہ عبد الستار افغانی اور نعمت اللہ خان کا کراچی بنانا چاہتے ہیں ،جس شہر کے اندر امن اور سکون تھا اور کراچی کے عوام کے لیے بڑے پیمانے پر تعمیر و ترقی کے کام ہوئے ، ہم اس شہر کو پاکستان کی پہچان بنائیں گے ،آج کراچی میں ہر طبقے اور زبان بولنے والا شہری پریشان ہے ،شہر کا پورا انفرااسٹرکچر تباہ ہوگیا ہے کوئی اس کو بنانے اور سنوارنے والا نہیں ہے،نوجوانوں کو روزگار میسر نہیں ،آج کراچی کو صرف جماعت اسلامی کی اہل اور دیانت دار قیادت ہی مسائل کے چنگل سے نکال سکتی ہے ۔سید عبد الرشید نے کہاکہ جماعت اسلامی کراچی میں خدمت اور جدوجہد اور درخشاں تاریخ کا نام ہے ،سید منور حسن ، پروفیسر غفور احمد ، عبد الستار افغانی اور نعمت اللہ خان تھے کراچی کے روشن ستارے ہیں ، آج کی حکومت نے سرجانی سے لیاری تک ،ملیر ، کورنگی اور نیو کراچی ہر جگہ شہر کو گٹر میں بدل دیا ہے ،عوام کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے ،عوام کوبنیادی سہولیات میسر نہیں ،کراچی کے عوام کے مسائل ایک بار پھر جماعت اسلامی ہی حل کرے گی ۔جنید مکاتی نے کہاکہ آج کراچی کے عوام نے فیصلہ دے دیا ہے کہ اس شہر کے اصل نمائندے اور قیادت جماعت اسلامی ہے ،تاریخ بتاتی ہے کہ کراچی کو جب بھی پانی فراہم کیا گیا وہ صرف عبد الستار افغانی اور نعمت اللہ خان نے فراہم کیا،کراچی میں جماعت اسلامی کی قیادت نے جو ترقیاتی کام کرائے وہ کسی اور پارٹی کی بلدیہ اور سٹی حکومت نے نہیں کرائے ،گزشتہ سال کراچی نے 2600ارب روپے کا ٹیکس دیا لیکن آج کراچی ایک گوٹھ اور تبا ہ حال شہر کی شکل اختیار کرچکا ہے ۔زاہد سعید نے کہاکہ ہماری تاجر اور صعتکار برادری کی آرمی چیف سے ملاقات ہوئی تھی ہم نے ان سے پہلا مطالبہ یہی کیا تھا کہ کراچی کی آبادی کو درست شما ر کیا جائے کیونکہ کراچی کی آبادی کو درست شمار کیے بغیر کراچی کے لیے کوئی پلان اور پیکیج کامیاب نہیں ہوسکتا ۔خلیل احمد نینی تال نے کہاکہ ہم نے دو سال قبل پی ٹی آئی سے توقع کی تھی کہ وہ کراچی کے مسائل حل کرے گی مگر اس نے ہم سب کو بہت مایوس کیا اب امید ہے کہ جماعت اسلامی ہی مسائل حل کرے گی ۔ ادریس گگی نے کہاکہ جماعت اسلامی کی مردم شماری درست کرنے کے مطالبے کے بعد ہی کراچی کے مسائل حل ہوسکتے ہیں ،کراچی ملک کو 70فیصد ریونیو دیتا ہے ،صرف لیاقت آباد مارکیٹ لاہور سے زیادہ ریونیو قومی خزانے میں جمع کراتی ہے ،ہم کہتے ہیں کہ کراچی کے لیے یہاں کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر جدوجہد کرنی چاہیئے ،بجلی ،گیس اور پانی کے بڑے مسائل ہیں ،وسائل کی تقسیم میں بھی کراچی کے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے جسے اب ختم ہونا چاہیے۔ بزنس کمیونٹی پریشان حال ہے ۔عبد اللہ عارف نے کہاکہ کراچی کے ساتھ یتیموں کا ساسلوک بند کیا جائے ،کراچی پورا ملک اور صوبہ چلاتا ہے لیکن آج اس کو دینے والا کوئی نہیں ہے اور یہ شہر لاوارث محسوس ہوتا ہے ،جماعت اسلامی سے درخواست ہے کہ تاجروں کے لیے حقیقی جدوجہد کی جائے ۔مارچ میں پاکستان بزنس فورم کراچی کے صدر شکیل ہاشمی ، فیڈریل بی ایریا انڈسٹریل ایریا کے سابق صدر بابر خان ،سندھ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ی عبد الحسیب جمالی ، کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک ،سابق صدر نعیم قریشی ،پائلر کے سربراہ کرامت حسین ،این ایل ایف کراچی کے صدر خالد خان،صاحبزادہ شاہ حسین الدین جمالی ،ڈاکٹر سعد خالد نیاز ،حاجی ناظم ، پیما کراچی کے صدر ڈاکٹر محمد عظیم ،انٹرنیشنل بشپ سلمان منظور ،جماعت اسلامی منارٹی ونگ کے صدر یونس سوہن ایڈووکیٹ اور دیگر شخصیات نے بھی شرکت کی ۔