طالبان جنگ بندی پر تیار نہیں ، امریکی نمائندہ خصوصی ۔ عبداللہ عبداللہ آج پاکستان آئینگے

145

 

واشنگٹن/کابل/اسلام آباد(صباح نیوز+آن لائن) امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے اعتراف کیا ہے کہ افغانستان میں سیاسی سمجھوتا ہونے تک طالبان جامع اور مستقل جنگ بندی پر کسی بھی صورت تیار نہیں۔ امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تنازعات کا شکار دنیا کے دیگر علاقوں میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے، اس لیے مستقل جنگ بندی پر طالبان کا تیار ہونا غیرمعمولی بات نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ تجاویز سامنے آئیں تو طالبان پرتشدد واقعات میں کمی پر آمادہ ہوسکتے ہیں، امریکا اس معاملے پر افغان حکومت اور طالبان کے ساتھ کام کرنے کے لیے
تیار ہے۔افغان طالبان کے اعلیٰ مذاکرات کار عبدالسلام حنفی نے کہا ہے کہ رواں سال فروری میں طے پانے والے امن معاہدے کے بعد ان کے گروپ نے اپنی زیادہ تر عسکری سرگرمیاں ترک کر دی ہیں۔ حنفی کے بقول نہ تو اس سال موسم بہار میں حملوں کا سلسلہ شروع کیا گیا، نہ صوبائی دارالحکومتوں کو نشانہ بنایا گیا اور نہ ہی بڑے شہروں میں منظم حملے کیے گئے۔ انہوں نے کابل حکومت کے دستوں پر حملے بڑھانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ طالبان اکثریتی طور پر اپنے دفاع میں لڑتے رہے ہیں۔ ادھر افغان مفاہمتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ آج(پیر کو ) پاکستان آئیں گے، وہ صدر مملکت عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان سے ملاقاتیں کریں گے جبکہ انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز میں خطاب بھی کریں گے۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اعلیٰ کونسل کا وفد ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے ہمراہ ہوگا۔