بین الافغان مذاکرات میں تمام فریقوں کو صبر تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا، عمران خان

141

 

اسلام آباد (اے پی پی) وزیر اعظم عمران خان نے خبردار کیا ہے کہ بین الافغان مذاکراتی عمل میں مزید مشکلات آ سکتی ہیں تاہم اس کے لیے تمام فریقین کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا‘ مذاکراتی عمل میں سست روی اور دشواری بھی آسکتی ہیں‘ یہاں تک کے کبھی کبھار ڈیڈ لاک بھی پیدا ہوسکتا ہے کیونکہ افغان اپنے مستقبل کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں‘ ایسے مواقع پر ہم اپنا کردار ادا کرتے ہوئے انہیں یاد دلاتے رہیں گے کہ مذاکرات کی میز پر بغیر کسی خون خرابے کے ڈیڈ لاک میدان جنگ میں خون ریزی کے حل سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار واشنگٹن
پوسٹ کے تازہ ترین شمارے میں ایک آرٹیکل میں اپنی رائے دیتے ہوئے کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان سے اقوام عالم کا جلد بازی میںانخلا غیر دانشمندانہ ہو گا‘ ہمیں ان علاقائی عناصر سے بھی بچنا ہوگا جن کی امن عمل میں سرمایہ کاری نہیں اور وہ اپنے جغرافیائی مفادات کی خاطر افغانستان میں بدامنی دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک متحدہ ، آزاد اور خود مختار افغانستان کی جدوجہد میں افغان عوام کی حمایت جاری رکھے گا جس سے افغانستان کے ساتھ ساتھ ہمسایہ ممالک میں امن قائم ہوگا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ تمام فریقین کشیدگی کو کم کریں‘ افغان حکومت نے طالبان کو سیاسی حقیقت کے طور پر تسلیم کیا ہے‘ امید ہے کہ طالبان اس کو پیش رفت کو قبول کریں گے‘ جو اب تک افغان حکومت نے کی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ امریکا کی طرح پاکستان بھی کبھی نہیں چاہتا کہ افغانستان پھر کبھی بین الاقوامی دہشت گردی کی آماجگاہ بنے‘ سانحہ نائن الیون کے بعد سے اب تک80 ہزار سے زیادہ پاکستانی سیکورٹی اہلکار اور شہری دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی اور کامیاب ترین جنگ میں اپنی جانوں کے نظرانے پیش کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پھر بھی پاکستان کو افغانستان میں مقیم باہر سے آئے دہشت گرد گروپوں کی طرف سے مسلسل حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے‘ یہ دہشت گرد گروپ عالمی امن کے لیے واضح خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے آرٹیکل میں کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ افغان حکومت اپنی حدود میں ان کے ٹھکانوں کو ختم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے گی جہاں سے دہشت گرد گروپ افغان عوام، افغانستان میں قیام پذیر بین الاقوامی اتحادی افواج اور پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک پر حملے کرتے ہیں‘ اب وقت آگیا ہے کہ آنے والے کل کے لیے منصوبہ بندی کی جائے کہ جنگ کے بعد کے افغانستان میں پائیدار امن کے لیے دنیا کیسے مدد کرسکتی ہے ؟ کیسے پاکستان اور دیگر ممالک میں مقیم لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے لیے ساز گار ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ افغان حکومت اور طالبان کے وفود قطر کے دارالحکومت دوحا میں مذاکرات ہوئے جس سے افغان جنگ کا خاتمہ ہوگا۔