فوج کا جانباز ہوں،اپوزیشن استعفے نہیں دے گی،شیخ رشید

53
لاہور: وزیر ریلوے شیخ رشید احمد پریس کانفرنس کررہے ہیں

لاہور (نمائندہ جسارت) وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ میں پاک فوج کا جانباز ہوں‘ اپوزیشن استعفے نہیں دے گی‘ نواز شریف نے اے پی سی سے بھارت کے اثر و رسوخ کے حامل ایجنٹ پر خطاب کیا‘ مسلم لیگ (ن) اور (ش) میں سے کہیں ط (طوطا لیگ) ہی نہ نکل آئے کیونکہ یہ سارے لوگ استعفا نہیں دیں گے۔ لاہور میں پریس کانفرنس میں انہوں نے نواز شریف سے 10 سوالات کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اسامہ بن لادن سے کتنی ملاقاتیں کیں اور کتنے پیسے بطور چندہ وصول کیے؟ اجمل قصاب کے گھر کا پتا خبررساں ادارے رائٹرز کو کس نے دیا؟ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے بھارت کو اجمل قصاب کا ڈیٹا فراہم کیا؟ مودی کو رائیونڈ میں بلاکر کیا باتیں کیں؟ مودی کو ملک سے باہر فون کیوں کرتے تھے؟ کیا پاکستان کے اندر آپ کو خطرات تھے کہ آپ کی باتیں ملک کی سلامتی کے خلاف ہوں گی وہ سامنے آجائیں گی؟ آپ نے جتنی کالز مودی کو کیں‘ ان کی تعداد اور ایجنڈا بتائیں؟ لاہور سے حملہ آوروں کی بسیں اسلام آباد لے جاکر چیف جسٹس سجاد شاہ کی موجودگی میںعدالت عظمیٰ پر یلغار کس نے کی‘ کس نے پنجاب ہاؤس میں صبح ناشتہ کرا کر عدالت عظمیٰ پر حملہ کرایا؟ بیماری کا بہانہ کرکے آپ ملک سے گئے‘ ووٹ کی بات کرتے ہیں تو کورٹ کی بات کیوں نہیں کرتے؟ وہ کونسا سیاست دان ہے، اس ملک میں جب کورٹ اسے طلب کرتی ہے اور وہ بیماری کا بہانہ بناتا ہے کہ کورونا وائرس تھا تاہم جب پاکستان کی سلامتی اور اداروں کے خلاف تقریر کرنی ہو تو ایک ایک گھنٹہ خطاب کرتا ہے؟ ڈان لیکس کے پیچھے کون تھا؟ آج اعتراف کرلیا تو پہلے انکار کیوں کیا تھا؟ 2013ء کے انتخابات میں کتنا پیسا خرچ کیا اور سیف الرحمٰن کے ذریعے قطر سے آپ کو کتنی رقم وصول ہوئی؟ احتساب عدالت پر پتھراؤ کی منصوبہ بندی لندن سے کتنے دنوں میں ہوئی؟ اور وہ کیمرے جنہوں نے اس فوٹیج کو کور کیا اسے روکنے کے لیے کتنی کوششیں کیں؟ ۔ شیخ رشید نے آخری سوال کیا کہ ‘بینظیر کی کردار کشی کے لیے پیٹر گیلبرتھ کے جعلی دستخط سے حسین حقانی کے ذریعے خط کس نے جاری کرایا۔ انہوں نے کہا کہ میں آج یہ 10 سوالات چھوڑ کر جارہا ہوں‘ مجھے امید ہے کہ پیر تک ان کے جوابات مل جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میرے لیے یہ اعزاز ہے کہ میں قمر جاوید باجوہ یا ڈی جی آئی ایس آئی سے ملتا ہوں‘ وہ لوگ جو اندھیروں میں ملتے ہیں وہ بزدل لوگ ہیں‘ پیپلزپارٹی کسی قیمت پر سندھ سے استعفا نہیں دے گی‘ مسلم لیگ (ن) کے کئی لوگ استعفا نہیں دیں گے لیکن جو دیں گے وہاں انتخابات کرائیں گے اور میں نے بھی جنوری تک کی تاریخ دی ہے‘ سب راز سامنے آجائیں گے اور یہ ٹائی ٹائی فش ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ میری پارٹی (ش) لیگ تو استعفا دینا نہیں چاہتی وہ بہتری کا راستہ اختیار کرنا چاہتی ہے لیکن مسلم لیگ (ن) اور (م) کا آپس کا اتحاد ہے اور یہ پتھراؤ کی سیاست کی منصوبہ بندی لندن میں ہوئی۔