لبنان ،نامزد وزیراعظم مستعفی سیاسی بحران شدید تر ہوگیا

117
بیروت: لبنانی وزیر اعظم استعفے سے قبل صدر میشال عون سے ملاقات کرہے ہیں

بیروت (انٹرنیشنل ڈیسک) لبنان کے نامزد وزیر اعظم مصطفی ادیب نے عہدہ سنبھالنے کے ایک ماہ بعد ہی استعفا دے دیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق وہ ملکی کابینہ تشکیل دینے میں بری طرح ناکام ہوگئے تھے،جس کے باعث وہ انتہائی فیصلہ کرنے پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے صدارتی محل میں صدر میشال عون سے ملاقات کے بعد ٹیلی وژن پر تقریر میں حکومت سازی کے عمل کو مزید جاری رکھنے سے معذرت کرلی۔ اس سے قبل وہ جرمنی میں لبنان کے سفیر کے طور پر تعینات تھے اور انہیں گزشتہ ماہ وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں کی جانب سے لبنان میں مختلف دھڑوں میں کسی ایک سیاسی امیدوار کا نام پیش کے مطالبے پر کیا گیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ ان کا اچانک مستعفی ہوجانا فرانسیسی سفارتی حلقے کے لیے نیا دھچکا ہے ۔ ادھر لبنان کی ابتر معاشی صورت حال اور دارالحکومت بیروت میںہونے والے ہول ناک دھماکے کے بعد ان کے فیصلے سے حالات مزید خراب ہوجائیں گے۔ اپنی تقریر میں مصطفی ادیب کا کہنا تھا کہ لبنان میں حکومتی تشکیل کے سلسلے میں سیاسی موافقت نہیں رہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیاسی گروہوں نے حکومتی تشکیل کو سیاسی رنگ نہ دینے کے حوالے سے میری شرط پوری نہیں کی۔ کابینہ میں غیر جانبدار ماہرین کو شامل کیا جانا تھا،جو ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے اصلاحات نافذ کریں،تاہم کسی جماعت نے اس پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ادھر فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں کا بھی کہنا تھا کہ حکومت کی تشکیل میں ناکامی میں لبنان کی سیاسی جماعتوں کا ہاتھ ہے ۔ لبنانی جماعتیں اجتماعی غداری کا ارتکاب کررہی ہیں۔ ادھر سابق وزیراعظم سعد الحریری نے کہا ہے کہ حکومت میں تشکیل میں ناکامی خوشی منانے کا موقع نہیںہے۔ جو بھی اس موقع پر خوشی منا رہا ہے تو اسے بعد میں وقت کے ضیاع پر پچھتانا پڑے گا۔