یونان نے مشرقی بیحرہ روم میں فوج تعینات کردی،کشیدگی میں اضافہ

131

ایتھنز (انٹرنیشنل ڈیسک) یونان نے مشرقی بحیرہ روم کے ساحل کے قریب اپنی فوج تعینات کردی۔ ایتھنز حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہاگیا کہ حالیہ اقدام ترکی کی طرف سے مشرقی بحیرہ روم کے ساحل پر فوج تعینات کرنے کے جواب میں کیا گیا ہے۔ ذرائع ابلا غ کے مطابق بحیرئہ روم کے تناظر میں ترکی اور یونان کے درمیان جاری تنازع سنگین صورت اختیار کرتا جارہا ہے اور فریقین کے درمیان مسلح تصادم کے خطرات بڑھتے جارہے ہیں۔ ادھر تُرک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ انقرہ کے جاں باز سمندری حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے جان کی بازی لگادیں گے۔ انہوں نے ’’ ترک یوم بحریہ ‘‘کی مناسبت سے خصوصی پیغام جاری کیا ،جس میں 1538 ء میں لڑی گئی بحری جنگ میں خیرا لدین بربروس کی کمان میں عثمانی بحری بیڑے کی صلیبی فوجوں کے خلاف فتح کا ذکر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بحری فوج کو ورثے میں خاص صلاحیتیں ملی ہیں،جن پر ہمیں فخر ہے۔ تُرکی اس وقت دنیا بھر میں جہازوں کی صنعت میں خود کفیل ہونے والے 10ممالک میں سے ایک ہے ۔ واضح رہے کہ یورپی اور تُرکی کے درمیان تنازع اس وقت شروع ہوا جب انقرہ نے مشرقی بحیرئہ روم میں تیل و گیس کی تلاش کے لیے کھدائی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ ترکی کی جانب سے بحیرہ روم میں فوجی مداخلت اور قدرتی وسائل کی تلاش یورپی مفادات کے منافی ہے۔ انقرہ حکومت کی پالیسی سے یونان کو تشویش لاحق ہے اور اس سے خطے میں تناؤ میں اضافہ ہوا ۔ اس دوران تُرکی نے کئی بار یورپی یونین اور یونان کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی،تاہم وہ کھدائی کا عمل روکنے تک کسی بات چیت پر آمادہ نہیں ہوئے۔ انقرہ کا موقف ہے کہ وہ تیل وگیس کی تلاش کی تمام تر سرگرمیاں قبرص کی حدود میں ہورہی ہیں اور اس کا یونان اور شمالی قبرص سے کوئی تعلق نہیں۔ تاہم ایتھنز حکومت اسے اپنی حدود میں دراندازی قرار دے کر مسلسل عالمی سطح پر واویلا کررہی ہے۔