جامشورو ،تعلیمی و سیاسی گڑھ کہلانے والا شہر مسائلستان میں تبدیل

126

جامشورو (نمائندہ جسارت) جامشورو تعلیمی و سیاسی گڑھ کھلوانے والا شہر انتطامیہ کی نااہلی کی وجہ سے بے انتہا مسائل کا شکار ہوگیا ۔ جامشورو کی سما جی تنظیموں اور شہریوں کی جانب سے مسلسل احتجاج، احتجاجی مظاہرے اور بھوک ہڑتالیں بھی ضلعی انتظامیہ کی آنکھیں نہ کھول سکیں۔اس سلسلے میں جامشوروجدوجہد کمیٹی رہنماؤںچیف آرگنائزر محمد قنبرانی،پیر بخش سہارن، عرفان برفت، دیدار بھلائی ،اسماعیل چانڈیو،صبغت اﷲ بازری،محمد سلیمان بھلائی، حق نواز برہمانی، ایڈووکیٹ صادق بلیدی، مظہر ملاح، ایڈورکیٹ ذوالفقار مہر، این بی کھوسو، سرمد سہارن، لاہوتی حبیب اﷲ آمڑو، علی جان سندھی، وقار عباسی، عبدالغنی مگسی،ثابت علی اعوان اور عبدالنبی برہمانی کی قیادت میں ہنگامی پریس کانفرنس منعقد کی گئی۔منعقدہ کانفرنس میں خوبصورت شہر کو کھنڈرات اورکچرا کُنڈی میں بدلنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سندھ اور ضلعی اِنتظامیہ سے جامشورو سے غیر اعلانیہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کاخاتمہ، واٹر سپلائی سسٹم VDAسے واپس لے کر شہر میں فلٹر پلانٹ تعمیر کرکے شہر یو ں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے،سینڈوز روڈ اور نالوں کی جلداز جلد تعمیر کرکے شہریوں کی آمد رفت میں سہولیات دی جا ئیں ، شہر میں گرلز اور بوائز کالجز قائم کیے جائیں ، شہر میں نادرا آفس قائم کرکے شہریوں کو سخت اذیت سے نجات دلائی جائے ، جامشورو کو تعلقہ کا درجہ دیا جائے ،UCرائلو میان کی آفس خانپور سے ختم کرکے گوٹھ سائیں ڈِنو ملاح میں قائم کی جائے،جامشورو کے آر بی بی کالونی میں گور نمنٹ بوائز ہائی اسکول کا ادھورے چھوڑے تعمیراتی کام جلد مکمل کرنے اورسیدآباد میں گرلز اسکول کی تعمیر جلد مکمل کرکے تدریسی عمل شر وع کیا جائے۔ جامشورو سٹی میں گورنمنٹ لائبریری کا قیام اور شہر میں بسوں، ویگنوں رکشا اسٹینڈبنانے کے مطالبات کیے گئے۔پریس کانفرنس میں 26تاریخ سے مرحلے وار بھوک ہڑتال کا اعلان کیا۔