حکومت اور فوج میں ہم آہنگی تاریخی ہے‘ عمران خان

106
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان قومی صحت کارڈ پروگرام سے متعلق اجلاس کی صدارت کررہے ہیں؎

اسلام آباد(نمائندہ جسارت+مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انہیں اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں،اپوزیشن کا ایجنڈا ہے کہ حکومت اور فوج کو لڑا دیا جائے، حکومت اور فوج کے درمیان موجودہ ہم آہنگی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے۔مختلف ٹی وی چینلز
کے ڈائریکٹر نیوز سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ نواز شریف مایوس ہو چکے ہیں، نواز شریف کی پالیسی ہے نہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے، نواز شریف کی فوج کے خلاف تقریر کی خوشیاں بھارت میں منائی گئیں۔وزیراعظم نے کہا کہ یہ مولانا فضل الرحمن کو اس لیے ساتھ رکھتے ہیں کیونکہ ان کے پاس لانے کے لیے لوگ نہیں، اپوزیشن کو تکلیف ہے کہ فوج صرف ان کی پالیسی پر چلتی ہے، جب بھی مسئلہ آتا ہے فوج حکومت کے پیچھے کھڑی ہوتی ہے، نواز شریف حکومت اور فوج کے درمیان اس تاریخی ہم آہنگی کو توڑنا چاہتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ معاملہ چاہے افغانستان سے متعلق ہو یا بھارت سے متعلق، چاہے پائلٹ کا معاملہ ہو، چاہے کرتار پور ہو ، فوج میری پالیسی پر عمل کرتی ہے، جب بھی مسئلہ آتا ہے فوج حکومت کے پیچھے کھڑی ہوتی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف کی تقریر اخلاقی اعتبار سے نہیں دکھانی چاہیے تھی،اگر تقریر روکتے تو آزادی اظہار کا مسئلہ بن جاتا، کسی بھی معاملے پر سمجھوتا کرسکتے ہیں لیکن این آر او نہیں دیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان والا اجلاس سیکورٹی سے متعلق تھا،بھارت گلگت بلتستان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے، فوجی قیادت کی ملاقاتوں کا مجھے پتا ہوتا ہے، جو فوجی قیادت سے چھپ کر ملتے ہیں ان کے بارے میں کیا کہوں، میں نواز شریف اور آصف زرداری کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں دیکھتا،’’ن‘‘ہو یا ’’ش ‘‘ہو دونوں جماعتیں نہیں چل سکتیں ،اسی لیے جی ایچ کیو بھاگ کر جاتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن اسمبلیوں سے استعفے دے گی تو ضمنی انتخابات کرا دیں گے،اپوزیشن ضمنی انتخابات میں ایک سیٹ بھی نہیں لے سکے گی۔انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف نے این آر او دینے کی غلطی کی تھی، میں نے پرویز مشرف کو این آر او دینے پر ہی چھوڑا تھا، یوٹرن ہمیشہ ایک مقصد کے لیے ہوتا ہے، میں مانتا ہوں میری حکومت میں میڈیا سے رابطوں کا فقدان ہے، میں نے پاکستان میں سب سے زیادہ اسٹریٹ پاور استعمال کی ہے،مجھے سب سے زیادہ اسٹریٹ پاور استعمال کرنے کا پتا ہے۔عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شوگرمافیا سے نمٹ رہے ہیں، جس طرح چینی کی قیمتیں بڑھی ہیں ہم ایکشن لے رے ہیں، ہم آئندہ اس طرح مافیا کو چینی کی قیمتیں نہیں بڑھانے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ 15برس سے زندگی بچانے والی ادویات کی قیمتیں نہیں بڑھیں جس کی وجہ سے زندگی بچانے والی ادویات مارکیٹ سے غائب ہو گئی تھیں،اب قیمتیں بڑھائی ہیں تاکہ مارکیٹ میں سپلائی بہتر ہو۔انہوں نے کہا کہ پچھلے سال گندم کی پیداوار کم ہوئی جس کاہمیں بتایا بھی نہیں گیا، 18ویں ترمیم میں زرعی شعبہ صوبوں کو دے دیا گیا جو نہیں دینا چاہیے تھا، پاکستان کا مستقبل روشن ہے ، 2 ، 3سال میں پاکستان تمام مشکلات سے باہر آ جائے گا،اچھی بات یہ ہے کہ چین کو پاکستان کی اتنی ضرورت ہے جتنی پاکستان کو چین کی، ہماری حکومت ابھی بھی نئی ہے،ہماری کابینہ میں ایسے بھی وزرا ہیں جو اپنی طرف ہی گول کر دیتے ہیں ۔