الگ صوبے کا نعرہ اپنی ناکامی چھپانے کے لیے ہے، فاروق ستار

113

کراچی(آن لائن )سربراہ تنظیم (ایم کیو ایم پاکستان ) بحالی کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار نے اپنی رہائشگاء پی آئی بی کالونی میںپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 11 سو ارب کے پیکج کا کریڈٹ کراچی کو جاتا ہے۔جب کراچی ڈوبا تو اربابِ اقتدار کی توجہ کا مرکز بنا۔آرمی چیف بھی کراچی آئے۔مجھے نہیں معلوم کہ وہ اصل اسٹیک ہولڈرز سے ملے کہ نہیں، خبروں میں ہے کہ وہ قومی سطح کے لیڈرز سے ملے۔کراچی کو سمجھنے کے لیے کراچی، کراچی کے لوگوں کو دینا ہوگا۔یہاں کی سیاست کراچی کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں دینا ہوگی۔یہی کراچی کی بقاء کی ضمانت ہے۔گیس کی لوڈشیڈنگ مصنوعی ہے۔وزیر اعظم کی ناکام معاشی پالیسیوں نے معیشت کو تباہ برباد کیا۔بے روزگاری کی انتہا ہوگئی،کوورنا نے مزید بے روزگاری بڑھا دی۔کورونا کے باعث اور حالیہ بارشوں نے اور زیادہ کراچی کو معاشی طور پر بدترین تباہی سے دو چار کیا ہے۔بڑی صنعتیں اور چھوٹی صنعتوں سے 35 سے 40 لاکھ افراد کا روزگار وابستہ ہے۔مزدور اور ملازمین کو فارغ کیا گیا۔ٹیکسٹائل انڈسٹری میں 15 سے 25 لاکھ مزدور کام کرتے ہیں۔8 لاکھ تک مزدور فارغ ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اب بھی صرف سیاسی نعروں کی سیاست کررہے ہیں۔اپنی ناکام ترین کارکردگی کو چھپانے کے لیے ایک الگ صوبے بنانے کا نعرہ لگا رہے ہیں یہ نعرہ کھوکھلا ہے۔میرے ساتھ کاروباری افراد موجود ہیں۔ہمیں آر ایل این جی گیس دینے کی کوشش ہورہان کی لاٹری لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔سندھ کی گیس پنجاب کو دی ہے۔آرٹیکل 158 کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔کراچی سے جو ٹیکس جمع ہو رہا ہے۔جہاں 65 سے 70 فیصد صنعتیں ہیں انہیں ہی گیس فراہم نہیں کی جائے۔ کراچی کو ٹریڈ ہاؤس بنایا جارہا ہے۔کراچی کی صنعتوں کو بند کرنے کی پلاننگ ہورہی ہے۔وزیر خزانہ، وزیر توانائی اور اسد عمر بچے نہیں ہے۔کراچی میں چودہ سیٹیں ملی ہیں۔ایم کیو ایم کو سنگین غلطیوں سے مسترد کر دیا گیا۔ایم کیو ایم نے اپنی غلطیوں سے بہت کچھ کھویا ہے۔ایم کیو ایم میں آپس کی لڑائی کی پرسیپشن کے باعث ووٹ بینک کو کم کردیا۔