حقوق کراچی مارچ

198

کراچی جو پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی حب ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے مصائب ومشکلات کا شکار ہے۔ حالیہ بارشوں نے تو سب کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ کراچی میں بندرگاہ، صنعتیں، تجارتی مرکز ہونے کی وجہ سے اِسے ایک خاص اہمیت حاصل ہے اور پاکستان کی معیشت میں 75فی صد سے زائد ریونیو اس شہر ہی سے حاصل کیا جاتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سونے کا انڈا دینے والی اس مرغی کا سب خیال رکھتے۔ لیکن اپنے بے گانے سب نے گدھ کی طرح اس شہر کو نوچا ہے۔ شہر کا اسٹریکچر جان بوجھ کر تباہ کیا گیا۔ گزشتہ 30سال سے متحدہ اور پیپلز پارٹی بلاشرکت غیرے اس شہر کی والی وارث بنی بیٹھی تھیں۔ متحدہ نے پہلے اس شہر کے پارک، کھیل کے میدان اور رفاحی پلاٹوں پر قبضہ کیا اور اپنے دفاتر قائم کیے پھر کے ڈی اے اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ملی بھگت سے اربوں کھربوں روپے کی زمینوں پر ناجائز قبضہ کر کے یہاں چائنا کٹنگ کر کے فروخت کیا گیا۔ کراچی کے عوام کا پینے کا پانی واٹر بورڈ کی مافیا کی ملی بھگت سے بند کر کے ٹینکر مافیا کو دوام بخشا گیا۔ کراچی کے عوام پانی کی بوند بوند کو ترستے رہے اور یہ ظالم مافیا کراچی کا پانی کراچی ہی کے عوام کو فروخت کرتے رہے اور یہ اتنا منافع بخش کاروبار بن گیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ہیروئن اور منشیات کی فروخت سے زیادہ اس کاروبار میں فائدہ ہے۔ کراچی کے جن ہائیڈرنٹ کو لائنس جاری کیے گئے وہاں دیدہ دلیری کے ساتھ چوبیس چوبیس گھنٹے ہائیڈرنٹ چلایا جارہا ہے۔ جہاں دو یا تین نل (وال) کی اجازت تھی وہاں چھ چھ نلوں کے ذریعے پانی بیچا جارہا ہے۔ سیکورٹی کے نام پر ٹھیکیداروں نے فوج کے ریٹارڈ افسران کو بھرتی کرلیا ہے اور ایسا تاثر دیا جاتا ہے یہ سب ہمارے اداروں کی ملی بھگت سے ہورہا ہے جب کہ سارا پیسہ ان مافیائوں کی جیب میں جا رہا ہے جو عرصے دراز سے اس شہر کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں۔
کے الیکٹرک کے مظالم اپنی انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں اور میں نہ مانو کے مصداق کراچی کے عوام کی پیٹھ پر اوور بلوں کے چھتر برسائے جا رہے ہیں۔ نیپرا اور عدالت عالیہ نے بھی کے الیکٹرک کی نااہلی پر اپنے تحفظات اور برہمی کا اظہار کیا لیکن انہیں شرم نہیں آتی اور وہ اپنے ایجنڈے پر کاربند رہتے ہوئے ’’لوٹو اور پھوٹو‘‘ کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ گزشتہ دنوں کے الیکٹرک کیخلاف عوامی سماعت کے دوران اسٹیک ہولڈر کا کے الیکٹرک سے معاہدہ ختم اور بجلی کی نئی کمپنی بنانے کا مطالبہ کیا گیاکہ کے الیکٹرک کی لوٹ مار بند کر کے اسے مزید کام کرنے کا موقع نہ دیا جائے اور کمپنی کو قومی تحویل میں لیکرفرانزک آڈٹ کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ کے الیکٹرک اور ان کی سرپرستی کرنے والوں نے حالات کنٹرول سے بے قابو ہونے پر جان بوجھ کر سماعت کا ماحول خراب کیا جس کے باعث ہونے والی ہنگامہ آرائی پر سماعت ملتوی کردی گئی۔ نیپرا نے کے الیکٹرک کے خلاف جلد فیصلہ سنانے کا اعلان کیا ہے۔ اسی طرح گزشتہ دنوں ٹریفک پولیس میں چالیس ہزار اہلکاروں کی بھرتیاں کی گئی اور ان تمام اہلکاروں کو اندرون سندھ سے بھرتی کیا گیا۔ اس طرز عمل سے لسانیت اور نفرت کی سیاست کو تقویت پہنچی اور لسانی قوتوںکو بغلیں بجانے کا موقع بھی ملا۔
کراچی کی حالیہ بارشوں نے تو کراچی کا نقشہ ہی تبدیل کر کے رکھ دیا۔ برساتی نالوں کی صفائی کے نام پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے لیکن یہ صفائی کاغذوں تک ہی محدود رہی۔ جس کی وجہ سے پورا کراچی ندی نالے کا منظر پیش کر رہا تھا۔ کراچی کی تباہ حال سڑکیں موہن جودڑو کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے 11سو ارب روپے کے پیکیج کا اعلان کیا ہے لیکن کراچی کے عوام سمجھتے ہیں کہ یہ پیکیج بھی آنکھوں میں دھول جھوکنے کے مترادف ہے۔ کراچی کی موجودہ تباہی کی ذمے دار متحدہ کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف بھی ہیں۔ جن کی ناہلی کی وجہ سے آج ڈیفنس، کلفٹن سے لیکر لانڈھی، کورنگی، سرجانی، گلستان جوہر، لیاقت آباد، گلشن اقبال، بلدیہ، اورنگی ٹائون، نیا اور پرانا ناظم آباد سب پانی میں ڈوبے رہے۔
لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد اور اب پشاور میں بھی اب گرین لائن اور یلو لائن بس سروس چلائی جا رہی ہے جو بہت اچھی بات ہے۔ سفرکی بہترین اور جدید سہولتوں کی فراہمی عوام کا حق ہے۔ ہمیں بھی لاہور، راولپنڈی اور اسلام آباد میں گرین لائن اور یلو لائن بس سروس میں بیٹھنے کا اتفاق ہوا اور 20روپے میں اتنی شاندار سروس پر دل عش عش کر اٹھا اور دوسری جانب شہر کراچی کے تین کروڑ عوام بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں اور بسوں، مزدا، کوچز کی چھتوں پر سفر طے کرنے پر مجبور ہیں۔ ایم کیو ایم پیپلز پارٹی، مسلم لیگ، پرویز مشرف اور عمران خان کے چرنوں میں بیٹھ کر بھی اہل کراچی کے لیے وہ سب کچھ حاصل نہیں کر سکی جو لاہور اور پنڈی اسلام آباد کے شہریوں کو حاصل ہے۔ انصاف اور عدل کی عدم فراہمی نے نفرت کی سیاست کو پروان چڑھایا ہے۔ اہل کراچی کو اب اپنے حق کے لیے میدان عمل میں نکلنا ہوگا۔کراچی کے عوام کے ووٹوں سے براجمان اراکین اسمبلی اور وزیروں کو کراچی کے عوام کی پریشانیوں اور مشکلات کا احساس نہیں ہے۔ ان کی جیبوں،گاڑیوں، محلات، بینک دولت اور خزانے میں تو بہت اضافہ ہوگیا ہے لیکن وہ کراچی کے عوام کو ان کا حق دینے میں ناکام رہے ہیں۔ کراچی کو میگا سٹی کا درجہ دے کر ہی اس کی مشکلات کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ حکمران کراچی کو کبھی وفاق کے ماتحت اور کوئی پارٹی اسے صوبہ بنانے کا نعرہ لگا کر لولی پاپ دینے کی کوشش کرتی ہے لیکن کراچی کے عوام کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہوچکا ہے۔ جان بوجھ کر کراچی کے نوجوانوں کا استیصال کیا جارہاہے۔ کوٹا سسٹم کے نام پر کراچی کے نوجوانوں کے حق پر ڈاکا ڈالا جارہا ہے۔ 25سال قبل یہ گھنائونا اور ظالم ایکٹ ختم ہوچکا ہے لیکن زبردستی اسے نافذ کر کے شہری اور دیہی کی تفریق پھیلائی جا رہی ہے۔
جماعت اسلامی جس کا ہاتھ ہمیشہ عوام کی نبض پر ہوتا ہے اور اس جماعت نے ہمیشہ عوام کے جذبات کی ترجمانی کی ہے۔ کراچی شاہراہ قائدین پر 27ستمبر کو حقوق کراچی مارچ سینیٹر سراج الحق کی قیادت میں منعقد ہو رہا ہے اور اس مارچ کی تیاریاں بھی بڑے زور وشور کے ساتھ جاری ہیں۔ اہل کراچی خوش قسمت ہیں کہ حافظ نعیم الرحمن کی شکل میں انہیں ایک ایسا مسیحا اور رہنما مل گیا ہے جو جرأت بہادری کے ساتھ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کراچی کے حقوق کی بات کر رہا ہے۔ کراچی کے عوام کی بھی ذمے داری ہے وہ اپنے قائد کی اپیل پر لبیک کہتے ہوئے اس مارچ میں شریک ہوکر اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں کیونکہ نکلیں گے تو مسئلے حل ہوںگے۔ دوسری جانب حکومت کی بھی ذمے داری ہے کہ کراچی اور اہل کراچی کو مزید تختۂ مشق نہ بنائے، کراچی کی ترقی پاکستان کی ترقی اور کراچی کی خوشحالی پاکستان کی خوشحالی ہے۔ کراچی منی پاکستان ہے اور پاکستان بھر سے لاکھوں افراد روزگار کے حصول کے لیے اس شہر میں آبسے ہیں اور اس شہر نے بھی ایک ماں کی طرح اپنی گود میں انہیں سمویا ہے۔ یہ تو حکمرانوں کی نااہلی ہے کہ اس نے ان افراد کو ان کے گھروں کے پاس روزگار فراہم نہیں کیا۔ جس کی وجہ سے وہ ہزاروں میل کا سفر کر کے یہاں آبسے ہیں تاکہ وہ باآسانی اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پال سکیں اور ان لوگوں نے شہر کی ترقی اور خوشحالی میں نمایاں کردار ادا کیا اور ان ہی لوگوںکی رات دن کی محنت اور مشقت کے بعد یہ شہر روشنیوں کا شہر بنا کیونکہ ہر شخص جانتا ہے کہ قیام پاکستان کے وقت کراچی ایک چھوٹی سی بستی تھی اور اولڈ سٹی تک ہی محدود تھی اس کی آبادی بھی اس وقت ڈیڈھ لاکھ کی نفسوس پر مشتمل تھی لیکن ہندوستان سے آنے والے مہاجرین نے اس شہر کو آباد کر کے اور اپنا خون پسینہ اس شہر پر لگایا اور اسے کلاچی سے کراچی بنادیا۔ لہٰذا اب اس شہر کے باسیوں کی ذمے داری ہے کہ وہ اس شہر کو بچانے کے لیے میدان عمل میں نکلیں۔ وفاقی اور صوبائی حکمرانوں سے خیر کی امید نہ کی جائے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے متعدد بار کہا کہ ہم اپنے گڑھ لاڑکانہ کو کراچی بنائیں گے لیکن افسوس انہوں نے لاڑکانہ کو کراچی بنانے کے بجائے کراچی کو ہی لاڑکانہ بنا دیا۔