بھارت کو سبق سکھانا ضروری ہے

420

ترجمان چینی وزارت خارجہ نے لداخ میں ایک بار پھر چین اور بھارت کے درمیان کشیدگی پر بیان میں کہا ہے کہ بھارت تمام اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے۔ بھارت غیرقانونی طور پر سرحد پار کرنے والے اپنے فوجی فوری پیچھے ہٹائے۔ بھارت صورتحال کشیدہ اور خراب کرنے والے تمام اقدامات سے اجتناب کرے۔ بھارتی اقدام سے چین کی علاقائی خود مختاری کی شدید خلاف ورزی ہوئی ہے۔ بھارتی فوج نے چین بھارت معاہدوں اور اتفاق رائے کو نقصان پہنچایا ہے۔ بھارتی اقدام سے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام کو بھی نقصان پہنچا۔ بھارتی افواج کا یہ عمل تنائو کم کرنے کی سابق کوششوں کے برعکس ہے۔ چین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت مقابلہ کرنا چاہتا ہے تو اس کو ماضی کے برعکس زیادہ فوجی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ چینی حکومت کے حمایت یافتہ اخبار گلوبل ٹائمز نے منگل کو اپنے اداریے میں لکھا کہ بھارتی اخبار دی ہندو نے دعویٰ کیا ہے کہ مرکزی حکومت کو ملنے والی انٹیلی جنس معلومات کے مطابق لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے ساتھ لداخ کا تقریباً ایک ہزار مربع کلو میٹر کا علاقہ اس وقت چین کے زیرکنٹرول ہے۔ بھارت چین اسٹینڈ آف اور پاکستان بھارت کشیدگی کا جنگ کے قریب قریب کی نوبت تک پہنچنے کا بنیادی سبب بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے آئین میں اسٹیٹس تبدیل کرکے آبادی کے توازن کو بدلنے کی کوشش اور لداخ کو یونین ٹیریٹری میں شامل کرنا تھا۔ اس پر کشمیریوں نے شدید احتجاج کیا تو بھارت نے کرفیو نافذ کرکے ان کے انسانی حقوق غصب کرلیے۔ کشمیریوں کے لیے ایک سال سے زائد عرصہ سے ان کے مادرِ وطن کو ان کے لیے جہنم زار بنا دیا گیا ہے۔ پاکستان نے بھارت کے اس غیرقانونی‘ غیراخلاقی اور غیرانسانی اقدام کی مذمت کی۔ اس کا جمہوریت کی اوٹ میں چھپا فسطائیت کا چہرہ دنیا کے سامنے رکھتے ہوئے کشمیریوں کی مظلومیت آشکار کی تو بھارت نے پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دینے کی سازشیں تیز کر دیں اور کنٹرول لائن پر شرانگیزی میں اضافہ کر دیا۔ پلوامہ حملے کا ڈراما رچا کر وہ پہلے ہی پاکستان کو موردِالزام ٹھیرا کر ’’اندر گھس کے ماریں گے‘‘ کی دھمکیاں دیتا رہا تھا اور پھر جب 26 فروری 2019ء کو رات کے اندھیرے میں پاکستانی حدود میں گھس کر مارنے آئے تو پاکستانی طیاروں کے تعاقب کے خوف سے بے نیل و مرام پے لوڈ گرا کر بھاگ لیے۔ پاکستان نے زیادہ دیر یہ ادھار نہ رکھا۔ اگلے روز پھر گھس کر مارنے کے ارادے سے آنے والے دو بھارتی جہاز پاکستانی حدود میں داخل ہوئے تو پہلے سے چوکس پاک فوج کے شاہینوں نے انہیں دبوچ لیا اور دو جہاز مار گرائے‘ ایک پائلٹ جہاز کے ساتھ بھسم اور دوسرا جان بچانے کی کوشش میں بیل آئوٹ کرنے پر گرفتار کرلیا گیا۔
لداخ چین اور بھارت کے مابین متنازع علاقہ ہے۔ اسے مودی سرکار نے آئین میں وفاق کے زیرکنٹرول کرنے کی ترمیم کی تو اس پر چین کی طرف سے شدید احتجاج کیا گیا۔ معاملہ اقوام متحدہ تک بھی گیا مگر اصلاح احوال ہو سکی نہ اس کی کوئی اُمید نظر آئی۔ اس سے شہ پا کر بھارت نے چین کی سرحد کے قریب متنازع علاقے میں دفاعی تنصیبات کی تعمیر شروع کردی۔ بھارت کا یہ غیرقانونی اقدام چین کو مشتعل کرنے کا باعث بنا۔ چین نے متنازع علاقہ سے بھارتی فوجیوں کو مار بھگایا۔ اس کے بعد بھارتی اہلکاروں نے چین کی سرزمین میں داخل ہونے کی کوشش کی تو دو درجن کے قریب چینی فوج کے ڈنڈوں کی ضربوں اور بھاگتے ہوئے یخ بستہ دریا کے پانی میں ڈوب کر مر گئے۔ بھارت نے منت سماجت سے چین کو متنازع علاقے سے واپس جانے پر قائل کرنے کی کوشش کی اور فریقین بفرزون کے قیام پر متفق ہو گئے۔ اس حوالے سے مزید بات چیت جاری تھی کہ اگست کے آخری دنوں میں بھارتی فورسز نے ایک بار پھر چینی علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ اس پر چین کا شدید ردعمل سامنے آیا جس کا اظہار گلوبل ٹائمز کے اداریے میں کیا گیا۔
ایک طرف بھارت چین کے ساتھ مذاکرات کررہا تھا تو دوسری طرف حملے کی تیاری بھی جاری تھی۔ بغل میں چھری منہ میں رام رام کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہو سکتی ہے۔ پاکستان کے معاملے میں بھی بھارت کی یہی ذہنیت رہی ہے۔ ممبئی حملوں کی ڈرامے بازی اس وقت کی گئی جب پاکستانی وزیر خارجہ دہلی میں جامع مذاکرات کے لیے موجود تھے۔ بھارت کی ایسی منافقانہ ذہنیت سے بھی اقوام عالم کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ چین نے یہ سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ میری 21 اگست کو دورہ چین کے دوران چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی کے ساتھ ملاقات ہوئی انہوں نے مجھے لداخ کی صورتحال، بھارت کی جانب سے کیے گئے غیر قانونی اقدامات اور چین کی طرف سے کیے گئے دفاعی اقدامات سے تفصیلاً آگاہ کیا۔ بھارت کے دعوئوں میں کوئی دم خم نہیں ہے۔ بھارت نے پہلے بھی چین کے ساتھ پنجہ آزمائی کی اور اپنے فوجیوں کی لاشیں چھوڑ کر بھاگے۔ بھارت کی طرف سے پاکستان اور چین کو بیک وقت سبق سکھانے کی بڑ ماری جاتی ہے۔ حالانکہ وہ چین کا انفرادی طور پر بھی مقابلہ نہیں کر سکتا جبکہ پاکستان نے بھی کئی بار اس کے دانت کھٹے کیے ہیں۔ اب بھارت اگر پاکستان کو دفاعی حوالے سے ایک نظر سے دیکھتا ہے تو پاکستان اور چین مزید ایک دوسرے کے قریب آکر بھارت کی جارحیت کی صورت میں مشترکہ طور پر جواب دینے کے معاہدے پر غور کریں۔ بھارت کی ہٹ دھرمی سب پر عیاں ہے‘ اس لیے عالمی قوتیں اسے راہ راست پر لانے کے لیے اقدامات کریں ورنہ اس کی جنونیت کرۂ ارض کو تباہی سے دوچار کردے گی۔