سانحہ اے پی ایس کا سبب سیکورٹی ناکامی تھا، کمیشن کی رپورٹ

210

اسلام آباد(صباح نیوز)عدالت عظمیٰ کے حکم پر جوڈیشل انکوائری کمیشن نے سانحہ آرمی پبلک اسکول کی رپورٹ عام کردی ہے۔کمیشن نے اپنی رپورٹ میںاس سانحے کو سیکورٹی کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے نے ہمارے سیکورٹی نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ واضح رہے کہ آرمی پبلک سکول کی سیکورٹی کا انتظام فوج کے ذمے ہوتا ہے تاہم یہ ضروری نہیں کہ اس کے لیے فوج کے اپنے ہی اہلکار مامور ہوں۔ تحقیقاتی کمیشن سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے طلبہ اور اساتذہ کے والدین کی درخواست پر 2018 میں قائم کیا تھا۔کمیشن کی جانب سے اس واقعے میں زخمی ہونے والے بچوں اور مارے جانے والے بچوں کے والدین سمیت 132 افراد کے بیانات ریکارڈ کیے گئے جن میں 101 عام شہری اور 31 سیکورٹی اہلکار اور افسران شامل تھے۔عدالتی کمیشن پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس محمد ابراہیم خان پر مشتمل تھا اور اس نے 500 سے زائد صفحات پر مشتمل سانحہ آرمی پبلک سکول کی رپورٹ جولائی 2020 میں چیف جسٹس آف پاکستان کو بھیجی تھی۔ عدالت عظمیٰ نے جمعہ کو اس کیس کی سماعت کے دوران کمیشن کی رپورٹ عام کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے ذمے داروں کے خلاف سخت کارروائی کی بھی ہدایت کی۔ جوڈیشل کمیشن رپورٹ میں دھمکیوں کے بعد سیکورٹی گارڈز کی کم تعداد اور درست مقامات پر عدم تعیناتی کی نشاندہی کی گئی ہے۔رپورٹ میں کمیشن نے اسکول کی سیکورٹی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ دھمکیوں کے باوجود سیکورٹی گارڈز کی کم تعداد اور درست مقامات پر عدم تعیناتی بھی نقصان کا سبب بنی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دھماکوں اور شدید فائرنگ میں سیکورٹی گارڈز جمود کا شکار تھے، دہشت گرد اسکول کے عقب سے بغیر کسی مزاحمت داخل ہوئے، اگر سیکورٹی گارڈز مزاحمت کرتے تو شاید جانی نقصان اتنا نہ ہوتا۔جوڈیشل انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیاغداری سے سیکورٹی پر سمجھوتا ہوا اور دہشت گردوں کا منصوبہ کامیاب ہوا۔رپورٹ کے مطابق افغانستان سے دہشت گرد ممکنہ طور پر مہاجرین کے روپ میں داخل ہوئے اور انہیں مقامی افراد کی طرف سے سہولت کاری ملی جو ناقابل معافی ہے، اپنا ہی خون غداری کر جائے تو نتائج بہت سنگین ہوتے ہیں، کوئی ایجنسی ایسے حملوں کا تدارک نہیں کرسکتی بالخصوص جب دشمن اندر سے ہو۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گشت پر مامور سیکورٹی اہلکار دہشت گردوں کی جانب سے جلائی گئی گاڑی کی جانب چلے گئے، آگ سیکورٹی اہلکاروں کو دھوکا دینے کے لیے لگائی تھی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیکٹا نے عسکری مراکز، حکام اور ان کی فیملیز پر حملوں کا عمومی الرٹ جاری کیا، نیکٹا الرٹ کے بعد فوج نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں شروع کیں لیکن سانحہ اے پی ایس نے فوج کی کامیابیوں کو پس پشت ڈالا۔اس سے قبل چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے 3 رکنی بینچ نے سانحہ آرمی پبلک سکول سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ میں انکوائری کمیشن رپورٹ پر جواب جمع کرایا اور کہا واقعے میں ذمے دار افراد کے خلاف ہر ممکن کارروائی کی جا رہی ہے۔ جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آپ اوپر سے کارروائی کا آغاز کریں، ذمے داران کے خلاف سخت کارروائی کریں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچ سکیں، انکوائری کمیشن رپورٹ اور حکومتی جواب کی کاپی والدین کو فراہم کریں۔چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ سیکورٹی اداروں کو اس حملے کی منصوبہ بندی اور سازش کے بارے میں اطلاع ہونی چاہیے تھی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اتنی سیکورٹی میں بھی عوام محفوظ نہیں ہیں تو یہ بات لمحہ فکریہ ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ کس کی غفلت سے ہوا اس بارے میں کسی نے کوئی معلومات فراہم نہیں کیں جو کہ قابل افسوس امر ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پاکستان میں یہ المیہ رہا ہے کہ کسی بھی واقعے میں نیچے والوں کو پکڑا جاتا ہے جبکہ بڑے لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی ۔انہوں نے کہا کہ کم از کم آرمی پبلک اسکول کے واقعے میں ایسا نہیں ہونا چاہیے اور اوپر والے لوگوں کو پکڑا جانا چاہیے، جو بھی فرائض میں غفلت کا مرتکب پایا گیا ہو۔انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے پوری قوم کو رنجیدہ کر دیا تھا۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ وہ لوگ جو مقصد حاصل کرنا چاہتے تھے اس میں کامیاب رہے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جب عوام محفوظ نہیں ہیں تو اتنا بڑا ملک اور نظام کیسے چلایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایسے اقدامات کرنا چاہیے جس سے مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جاسکے۔اس واقعے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے والدین کا کہنا تھا کہ وہ زندہ لاشوں کی طرح گھوم رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کی زندگی میں ہی ان ذمے داروں کو سزا مل جائے جو ان بچوں کی ہلاکت کے ذمے دار ہیں۔دوران سماعت طلب علموں کے والدین نے عدالت کو بتایا کہ یہ واقعہ دہشت گردی کا نہیں بلکہ ’ٹارگٹ کلنگ‘ کا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اس عدالتی کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں اپنے بچوں کا کیس لڑنا چاہتے ہیں۔عدالت نے حکم دیا کہ انکوائری کمیشن کی رپورٹ اور اس پر وفاق کا جواب بھی عام کردیا جائے،حکومت کمیشن رپورٹ پر لائحہ عمل بنائے۔ عدالت عظمیٰ نے امان اللہ کنرانی کو عدالتی معاون مقرر کردیا۔ چیف جسٹس نے 16دسمبر کو آرمی پبلک اسکول کے شہدا کے والدین کی دعائیہ تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کرلی۔ عدالت عظمیٰ نے کیس کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی۔سماعت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے شہید بچوں اور اساتذہ کے والدین انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہے کہ فائرنگ کس نے کی بلکہ انہیں تو صرف یہ غرض ہے کہ اصل ذمے داروں کا تعین ہو۔انہوں نے کہا کہ ان کے بچے تو واپس نہیں آسکتے لیکن اس اقدام سے دوسرے بچوں کو تحفظ ملے گا،اس واقعے سے متعلق حکمرانوں نے جس طرح کی تحقیقات کروائی ہیں اس سے وہ کسی طرح بھی مطمئن نہیں ہیں اور اگر وہ عدالتی فیصلے سے مطمئن نہ ہوئے تو اگلے اقدام کے بارے میں سوچیں گے، اس واقعے کی جامع تحقیقات کا مطالبہ اس لیے کیے جارہا ہے کہ تاکہ مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہ آئے۔والدین کا یہی مطالبہ رہا ہے کہ اس سلسلے میں ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور جن کی غفلت یا لاپرواہی سے یہ حملہ ہوا ہے انہیں سزا دی جائے۔یاد رہے کہ پشاور کے وارسک روڈ پر قائم آرمی پبلک سکول پر شدت پسندوں نے 16 دسمبر 2014 ء کو حملہ کرکے طلبہ، اساتذہ اور عملے کے ارکان کو نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے میں 147 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔