مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی انتہاہوگئی، اسلام فوبیا کیخلاف عالمی دن منایا جائے، عمران خان

226

اسلام آباد( نمائندہ جسارت)وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور گستاخانہ خاکوں کا معاملہ اٹھادیا۔انہوںنے جنرل اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ اسلاموفوبیا کا خاتمہ کرنے کے لیے عالمی دن منانے کا اعلان کیا جائے۔جمعہ کو اقوام متحدہ کے 75 ویں جنرل اسمبلی اجلاس سے تقریباً 27 منٹ پر محیط اپنے خطاب میں انہوںنے کورونا وائرس، خطے میں اسلحے کی دوڑ، گستاخانہ خاکوں کی اشاعت، کشمیر میں بھارتی مظالم، فلسطین اسرائیل تنازع، ماحولیات اور اقوام متحدہ و سلامتی کونسل میں بڑے پیمانے پر اصلاحات جیسے اہم معاملات پر گفتگو کی۔ وزیراعظم کا ریکارڈ شدہ خطاب نشر کرنے سے قبل جنرل اسمبلی میں موجود اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے ابتدائیہ کلمات ادا کیے۔اپنے خطاب میں سب سے پہلی عمران خان نے پاکستان میں اپنی حکومت قائم ہونے کے بعد بنیادی اصلاحات کے حوالے سے گفتگو کی اور بتایا کہ انہوں نے اقتدار سنبھالنے کے بعد نئے پاکستان کی بنیاد ریاست مدینہ کے اصولوں پر رکھی۔ان کا کہنا تھاکہ ملک میں ریاست مدینہ کی طرز کی حکومت قائم کرنے کے لیے ہمیں امن و استحکام کی ضرورت ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی میں علاقائی امن و سلامتی کو اولیت حاصل ہے اور ہمارا مؤقف ہے کہ تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل ہونے چاہئیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی 75 ویں سالگرہ انتہائی اہم سنگ میل ہے، ہم اس اہم موقع کو امن، استحکام اور پر امن ہمسائیگی کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں کیوں کہ اقوام متحدہ ہی واحد ادارہ ہے جو ہماری مدد کرسکتا ہے،اس موقع پر ہمیں اس بات کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے کہ کیا جو وعدے بطور اقوام متحدہ ہم نے اقوام سے کیے تھے وہ پورے کرسکے؟ آج طاقت کے یکطرفہ استعمال سے لوگوں کے حق خود ارادیت کو دبایا جارہا ہے، اقوام کی خود مختاری پر حملے کیے جارہے ہیں، داخلی معاملات میں مداخلت کی جارہی ہے اور منظم طریقے سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ عالمی معاہدوں کو پس پشت ڈالا جارہا ہے، سپر پاور بننے کے خواہاں ممالک کے درمیان اسلحہ کی نئی دوڑ شروع ہوچکی ہے، تنازعات شدت اختیار کررہے ہیں، فوجی مداخلت اور غیر قانونی انضمام کے ذریعے لوگوں کے حق خود ارادیت کو دبایا جارہا ہے۔انہوں نے نوم چومسکی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا ہے کہ انسانیت کو اس وقت پہلی اور دوسری جنگ عظیم سے بھی زیادہ خطرات لاحق ہیں اور ایسا اس لیے ہے کہ جوہری تصادم کا خطرہ بڑھ رہا ہے، ماحولیاتی تبدیلی عروج پر ہے اور آمرانہ حکومتیں اقتدار میں آرہی ہیں۔وزیراعظم کے بقول مذکورہ خطرات سے نمٹنے کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، عالمی تعلقات میں باہمی تعاون کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہونی چاہیے جو کہ عالمی قوانین سے مطابقت رکھتا ہو۔عمران خان نے کہا کہ دنیا میں ایک ایسا بھی ملک ہے جہاں ریاستی سرپرستی میں اسلام مخالف سرگرمیاں جاری ہیں اور وہ ملک بھارت ہے، اس کی وجہ آر ایس ایس کا نظریہ ہے جو بدقسمتی سے اس وقت بھارت میں برسر اقتدار ہے، آر ایس ایس کا نظریہ ہے کہ بھارت صرف ہندوؤں کے لیے ہے اور دیگر مذاہب کے لوگ کمتر ہیں، بھارت میں سیکولرازم کی جگہ ہندو راشٹریہ نے لے لی۔وزیراعظم نے بتایا کہ 1992ء میں آر ایس ایس نے بابری مسجد کو شہید کیا، 2002ء میں گجرات میں مسلمانوں کو قتل عام کیا گیا اور یہ سب اس وقت کے وزیراعلیٰ گجرات نریندر مودی کی نگرانی میں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد 2007 ء میں 50 سے زائد مسلمانوں کو آر ایس ایس کے بلوائیوں نے سمجھوتا ایکسپریس میں زندہ جلادیا، اس کے علاوہ آسام میں لاکھوں مسلمانوں کو یکطرفہ طور پر شہریت سے محروم کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔وزیراعظم کاکہنا تھا کہ بات یہیں نہیں ختم ہوئی مسلمانوں کو کورونا وائرس پھیلانے کا ذمے دار بھی قرار دیا گیا اور کورونا سے متاثرہ مسلمانوں کو کئی مواقع پر طبی امداد فراہم کرنے سے بھی انکار کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ بھارت بھر میں گاؤ رکشا کے نام پر انتہاپسند ہندو کھلے عام مسلمانوں کو قتل کردیتے ہیں، بھارت میں تقریباً 30 کروڑ مسلمانوں، عیسائیوں اور سکھوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے، اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی اور یہ خود بھارت کے حق میں بہتر نہیں ہوگا۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ لوگوں کے حقوق سلب کرنے اور انہیں دیوار سے لگانے سے ان میں شدت پسندی جنم لیتی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ فوجی قبضے اور غیر قانونی توسیعی پسندانہ اقدامات سے کشمیریوں کے حق خودارادیت کودبایاجا رہاہے۔انہوں نے کہا کہ 72 سال سے بھارت کا کشمیر پر قبضہ ہے اور بھارتی فورسز وہاں ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہیں۔ بھارت مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی کررہا ہے۔ وزیراعظم کے مطابق گزشتہ برس 5 اگست کو بھارت نے غیر قانونی اور یکطرفہ طور پر مقبوضہ علاقے کا اسٹیٹس تبدیل کرنے کی کوشش کی اور وہاں اضافی فوجی تعینات کیے جس کے بعد وہاں موجود فوجیوں کی تعداد 9 لاکھ ہوگئی ہے تاکہ وہاں 80 لاکھ کشمیریوں پر فوجی محاصرہ کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد بھارت نے حریت رہنماؤں کو گرفتار کرلیا، مواصلاتی نظام بند کردیا، انٹرنیٹ اور موبائل سروس معطل کرکے مکمل بلیک آؤٹ کردیا گیا۔ اس کے علاوہ بھارتی فورسز کشمیریوں کیخلاف طاقت کا بے رحمانہ استعمال بھی کرتے ہیں، ان پر پیلیٹ گنز استعمال کی جاتی ہیں جس سے سیکڑوں کشمیری بینائی سے محروم ہوچکے ہیں، بھارتی افواج نے جعلی مقابلوں اور سرچ آپریشن کی آڑ میں سیکڑوں کشمیریوں کو شہید بھی کیا اور دفنانے کے لیے لواحقین کو لاشیں بھی نہیں دی جاتیں۔عمران خان نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری کو کشمیر میں بھارتی مظالم کا نوٹس لینا چاہیے اور انسانیت سوز جرائم پر بھارتی سول و عسکری قیادت کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ آر ایس ایس اور ہندوتوا نظریے سے متاثر بی جے پی حکومت فوج کی مدد سے مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کررہی ہے تاکہ مستقبل میں اگر کبھی استصواب رائے کرایا جائے تو اس کے نتائج ان کی مرضی کے ہوں، بھارت کا یہ اقدام اقوام متحدہ کے چارٹر اور جنیوا کنونشن کے خلاف ہے جس کے تحت مقبوضہ علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنا جنگی جرم ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بہادر کشمیری کبھی بھی بھارتی قبضے اور ظلم و ستم کے سامنے نہیں جھکیں گے، ان کی جدوجہد مقامی ہے، وہ اپنے حق کے لیے لڑ رہے ہیں، اور نسل در نسل اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں تاکہ بھارتی قبضے سے آزادی حاصل کرسکیں۔عمران خا ن نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ امیر ملک منی لانڈرنگ کرنے والوں کو تحفظ دے کر انصاف کی بات نہیں کرسکتے،وہ پیسہ جو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوسکتا ہے وہ کرپٹ سیاستدان ملک سے باہر لے جاتے ہیں اور زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی سے کرنسی کی قدر گر جاتی ہے اور پھر مہنگائی اور غربت بڑھتی ہے، چوری ہونے والے اس پیسے کو واپس لانا قریب قریب ناممکن ہے کیوں کہ اس عمل میں کافی پیچیدگیاں ہیں اور طاقت ور منی لانڈررز ایسا ہونے نہیں دیتے کیوں کہ انہیں بہترین وکلا کی خدمات حاصل ہوتی ہیں اور بدقسمتی سے چونکہ امیر ملک کو غریب ملک سے آنے والے پیسے سے فائدہ ہوتا ہے لہٰذا وہ امیر ملک بھی اسے روکنے کی زیادہ کوشش نہیں کرتے۔ان کا کہنا تھاکہ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو امیر اور غریب ممالک کے درمیان فرق مزید بڑھ جائے گا اور بالآخر ہمیں بہت بڑے عالمی بحران کا سامنا ہوگا جو حالیہ مہاجرین بحران سے بھی بڑا ہوگا۔وزیراعظم نے کہا کہ جنرل اسمبلی پر زور دیتا ہوں کہ وہ ممالک سے غیر قانونی طریقے سے رقوم کی ترسیل کو روکنے کے لیے ایک عالمی فریم ورک تشکیل دے اور چوری شدہ رقم کی متعلقہ ملک کو واپسی یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔عمران خان کے بقول یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ عالمی امداد کے نام پر غریب ممالک کو ملنے والی رقم اس رقم کے مقابلے میں بہت چھوٹی ہوتی ہے جو اس ملک کے کرپٹ لوگ غیر قانونی طریقے سے ملک سے باہر لے جاتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ کورونا وائرس دنیا کو متحد کرنے کا بہترین موقع تھا لیکن اس کے بجائے بدقسمتی سے مختلف ممالک، قوموں، مذاہب اور فرقوں کے درمیان مزید اختلافات بڑھ گئے، ان ہی اختلافات نے اسلام مخالف جذبات کو بھڑکایا اور مختلف ممالک میں مسلمانوں کو بے دردی سے نشانہ بنایا گیا، مزارات کو توڑا گیا، ہمارے نبی ﷺ کی توہین کی گئی، قرآن پاک کے بے حرمتی کی گئی اور یہ سب کچھ آزادی اظہار رائے کے نام پر کیا گیا، چارلی ہیبڈو میں دوبارہ شائع ہونے والے گستاخانہ خاکے اس کی مثال ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیرس معاہدے پر مکمل طور پر عمل کرنا چاہیے۔ موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی پر ہمیں پریشان ہونا چاہیے تاکہ آنے والی نسلوں کو بہتر دنیا دے سکیں، گلوبل وارمنگ کی وجہ سے موسم شدید ہوگئے ہیں، آسٹریلیا، امریکا کی جنگلوں میں آگ لگ رہی ہے، دنیا بھر میں بارشوں اور سیلاب میں اضافہ ہوگیا ہے۔خیال رہے کہ کورونا وبا کے سبب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا یہ سالانہ اجلاس اس بار ورچوئل ہورہا ہے جب کہ اجلاس میں رہنماؤں کا ریکارڈ کیا گیا خطاب نشر کیا جارہا ہے۔