سانحہ اے پی ایس: عدالت کا رپورٹ پبلک کرنے کا حکم

224

سپریم کورٹ نے سانحہ آرمی پبلک اسکول سے متعلق جوڈیشل کمیشن رپورٹ پبلک کرنے کا حکم دے دیا.

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سانحہ آرمی پبلک اسکول ازخود نوٹس کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی.

چیف جسٹس گلزار احمد نے دوران سماعت اپنے ریمارکس میں کہا کہ حکومت کو ایکشن لینا چاہیے ایسے واقعات نہ ہوں، بڑوں سے کچھ پوچھا نہیں جاتا لیکن وہ لوگ جو مقصد حاصل کرنا چاہتے تھے انھوں نے حاصل کیا مگر ملک کا المیہ ہے کہ حادثے کے بعد صرف چھوٹے اہلکاروں پر ذمے داری ڈال دی جاتی ہے، یہ روایت ختم ہونی چاہیے.

جسٹس اعجازالاحسن نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ صرف آپ کا دکھ نہیں ہم سب کا دکھ ہے، سانحہ آرمی پبلک پوری قوم کا دکھ ہے.

جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ آپ چاہتے ہیں سیکیورٹی میں غفلت کے ذمے داروں کو بھی سزا ملے؟

عدالت میں موجود شہدا کے والدین کا کہنا تھا کہ سانحہ آرمی پبلک ٹارگٹ کلنگ ہے، ہم زندہ دفن ہوچکے ہیں، ایک ہال میں سب کو جمع کرکے قتل کیا گیا.

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب سن لیں، یہ متاثرین کیا چاہتے ہیں، اب اس روایت کو ختم کرنا ہوگا، آپ کو سزا اوپر سے شروع کرنا ہوگی، ذمہ داران کیخلاف سخت کارروائی کریں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچ سکیں، سیکیورٹی اداروں کے پاس اطلاعات تو ہونی چاہیے تھیں، اتنی سیکیورٹی میں بھی عوام محفوظ نہیں تو بڑی سیکیورٹی کیوں رکھی جائے.

اٹارنی جنرل نے انکوائری کمیشن رپورٹ پر جواب جمع کرادیا اور کہا کہ واقعہ میں ذمہ دار افراد کیخلاف ہرممکن کارروائی کی جارہی ہے.

بعدازاں عدالت نے انکوائری کمیشن اور وفاقی حکومت کی رپورٹ پبلک کرنے کا حکم دیتے ہوئے سانحہ اے پی ایس کیس کی سماعت ایک ماہ تک ملتوی کردی.