اسلاموفوبیا کے خاتمے کیلیے عالمی دن منایا جائے، وزیراعظم کا مطالبہ

256

پاکستان :وزیر اعظم عمران خان  نےجنرل اسمبلی سے مطالبہ کرتے ہوئےکہا کہ اسلاموفوبیا کا خاتمہ کرنے کے لیے عالمی یوم منانے کا اعلان کیا جائے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کورونانے دنیاکوایک دوسرےسےقریب ہونے کا موقع فراہم کیا لیکن افسوس اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے بجائے مختلف ممالک نے اسلام مخالف جذبات کو بھڑکایا اورمسلمانوں کو بے دردی سے نشانہ بنایا گیا،مزارات کو توڑا گیا، کسی ملک میں  ہمارے نبی ﷺ کی توہین کی تو کسی ملک میں قرآن پاک کے بے حرمتی کی گئی اور یہ سب کچھ آزادی اظہار رائے کے نام پر کیا گیا، چارلی ہیبڈو میں دوبارہ شائع ہونے والے گستاخانہ خاکے اس کی مثال ہیں۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ  عالمی برادری  کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرے، اقوام متحدہ کشمیر کے مسئلے کے حل کیلئے عملی اقدامات کرے ،بھارتی فوج مقبوضہ کشمیرمیں پرامن مظاہرین پرتشدد کررہی ہے،پیلٹ گن استعمال کررہی ہے، شہریوں کو بنیادی حقوق کی فراہمی کے لیے امن ضروری ہے ،فوجی قبضے سے حق خودارادیت کو دبایا جارہاہے،پاکستان خطے میں امن کا خواہش مند ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ 80لاکھ کشمیریوں کو محصور کرنے کے لیے فوج تعینات کی گئی،5اگست کو مقبوضہ کشمیر کی قانونی حیثیت یکطرفہ تبدیل کی گئی،پرامن مظاہرین پر بھارتی افواج نے پیلٹ گن کا استعمال کیا،بھارت باربار اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی خلاف ورزی کررہاہے۔

وزیر اعظم نے کہاکہ آر ایس ایس نے بابری مسجد کو شہید کیا،ہم ریاست مدینہ کے اصولوں کے مطابق پڑوسیوں سے امن کے خواہاں ہیں، تنازعات بڑھیں تو شدت اختیار کر جاتے ہیں، 2007 میں سمجھوتہ ایکسپریس میں مسلمانوں کو زندہ جلایا گیا،2002 میں بھارت کے شہر گجرات میں مسلمانوں کا قتل کیا گیا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ علاقے کا آبادی کا تناسب تبدیل کرنا جنگی جرم ہے،کشمیریوں نے بھارتی قبضے سے آزادی کے لیے نسل درنسل اپنی جانوں کی قربانیاں دیتے چلے آرہے ہیں۔

عمران خان نے کہاکہ جنرل اسمبلی کوغیرقانونی مالیاتی منتقلی،لوٹی گئی رقم کی واپسی کیلئےموثر قانونی فریم ورک تشکیل دینا چاہیے، منی لانڈرنگ کرنیوالےطاقت ورعناصر کی رسائی بہترین وکلا تک ہے، چوری شدہ وسائل کی واپسی تقریباً ناممکن ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات ہے کہ جوپیساانسانی وسائل کےفروغ کیلئےاستعمال کیاجاسکتاہےوہ بد عنوان اشرافیہ کےہاتھ چلاجاتا ہے۔

عمران خان نے  کہاکہ ہم نےغریب طبقےکو لاک ڈاؤن کےشدیداثرات سےمحفوظ رکھا،جس کی وجہ سے آج پاکستان وباپرکامیابی سےقابوپانےوالےممالک کی فہرست میں ہے، ہم اب بھی کوروناسےبچاؤ کیلئے اقدامات کر رہےہیں، ترقی پذیر ممالک کو بھی کورونابحران سےنمٹنے کیلئے مالی وسائل درکار تھے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہم نےنبی پاکؐ کی ریاست مدینہ کےتصورپرنئےپاکستان کاماڈل تشکیل دی ہے، کورونا کے دوران احساس پروگرام کےتحت چھوٹےکاروبار اورغریب افرادکونقد رقم دی گئی، حکومت کی تمام پالیسیوں کامقصد شہریوں کےمعیار زندگی میں اضافہ ہے۔

وزیر اعظم پاکستان نے اقوام متحدہ کی 75 ویں سالگرہ پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ یو این کی 75 ویں سالگرہ انتہائی اہم سنگ میل ہے، وولکن اوسکر کو جنرل اسمبلی کا 75واں صدر منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔