آذربائیجان کے سفیر نے بھارت کو بے نقاب کردیا

280

غیرملکی سفارتکاروں نے اپنے ٹویٹس میں گزشتہ روز کا لائن آف کنٹرول دورہ اجاگر کیا، ٹویٹس پیغامات میں ایل او سی وزٹ کے بہترین انتظام پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا شکریہ ادا کیا.

تفصیلات کے مطابق آذربائیجان کے سفیر نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں یاد کرا دیا بھارت اصل حقائق جاننے کا موقع نہیں دیتا جبکہ دوسری جانب پاکستان مبصرین کو مکمل رسائی اور سہولت دیتا ہے تاہم گزشتہ روز بھی سفارتکاروں نے اپنی مرضی سے جس سے چاہا بات کی.

آذربائیجان کے سفیر نے واپسی پر خیروعافیت اور محفوظ واپسی کا ٹویٹ بھی کیا جبکہ ٹویٹ سے دوسری جانب محفوظ رسائی فراہم نہ ہونے کا معاملہ بھی تازہ ہوا.

یورپی یونین سفیر کے سفیر نے اپنے پیغام میں کہا کہ ایل او سی تنازع سے متاثرہ کچھ لوگوں سے بات چیت کا موقع ملا اور دورے میں کشمیر کی خوبصورتی بھی دیکھنے کو ملی، یورپی یونین سفیر نے خوبصورت فضائی مناظر اور دورے کی تصاویر بھی شیئرکیں.

برطانوی ڈیفنس ونگ کے سفارتکار نے ایل او سی پر بک شاپ پر طویل وقت گزارا اور تعلیم کی سہولتوں کی مکمل فراہمی کا مشاہدہ بھی کیا جبکہ فرنچ اور آسٹریلین ہائی کمشنرز نے دکانداروں کیساتھ تصاویر بنوانے کے ساتھ ساتھ جورابازار اور رہائشی علاقوں میں آزادانہ گھومتے رہے.

یاد رہے کہ گزشتہ روز 24 ممالک کے دفاعی اتاشیوں، سفیر اور سفارتکاروں کے وفد نے ایل او سی کا دورہ کیا جہاں انہیں بھارتی فورسز کی خلاف ورزیوں سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

ترجمان پاک فوج ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے 31، 30 جولائی کو نیلم ویلی میں کلسٹر ایمونیشن کا استعمال کیا، اور آرٹلری کے ذریعے کلسٹر ایمونیشن کے ذریعے شہریوں کو ٹارگٹ کیا گیا.

ایل او سی کا دورہ کرنے والے وفد میں آذربائیجان، بوسنیا، یورپی یونین، پرتگال، سعودی عرب، جنوبی افریقا، ترکی، فلسطین، یونان، آسٹریلیا، ایران، کرغزستان، عراق، برطانیہ، اٹلی، پولینڈ، ازبکستان، جرمنی، سویٹزرلینڈ، فرانس، مصر، لیبیا، یمن اور افغانستان کے سفیر اور دفاعی اتاشی شامل ہیں جب کہ عالمی ادارہ برائے خوراک کے نمائندے بھی وفد کا حصہ ہیں۔