مودی سرکار کیخلاف کسان سڑکوں پر ، پولیس کا تشدد

84
مشرقی پنجاب: مودی کیخلاف احتجاج کرنے والے کسان ریلوے لائن پر لیٹے ہوئے ہیں‘ پولیس مظاہرین پر تشدد کررہی ہے‘ قافلہ دہلی کی جانب بڑھ رہا ہے

 

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں کسانوں سے متعلق متنازع قوانین کی منظوری کے بعد ملک بھر میں حکومت پر شدید تنقید جاری ہے جب کہ پارلیمان اور خود کسان تنظیموں کی جانب سے ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق بھارت کے مختلف شہروں میں کسان دشمن حکومتی پالیسیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہوگئے ہیں، جس میں حکومتی اقدامات کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ ان سے کسانوں کا استیصال ہوگا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اپوزیشن جماعتوں اور کسان تنظیموں کے سیکڑوں کارکن ریاست ہریانہ کے شہر انبالا میں احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور راستے بند کرکے مظاہرہ کیا۔ مشتعل افراد کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے پولیس نے طاقت کا استعمال کیا۔ اس دوران جھڑپوں میں کچھ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ دوسری جانب ریاست پنجاب میں کسان تنظیموں کے تحت ہونے والے احتجاج میں کارکنوں نے ریل کی پٹڑی پر دھرنا دے دیا، جس سے ٹرینوں کی آمد و رفت معطل ہو گئی۔ علاوہ ازیں کئی شہروں سے سیکڑوں افراد پر مشتمل احتجاجی قافلے نئی دہلی کی جانب گامزن ہیں۔ واضح رہے کہ اپوزیشن کی حمایت سے کسان تنظیموں نے 25 ستمبر کو ملک گیر احتجاج اور ہڑتال کی کال دے رکھی ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ نئے منظور کیے جانے والے حکومتی قوانین کسانوں کی موت کا پروانہ ثابت ہوں گے جب کہ ماہرین ن کہا ہے کہ توڑ مروڑ کر پیش کیے گئے قوانین سے متوقع نتائج حاصل کرنا ممکن نہیں۔