کشمیر اور موجودہ عالمی منظرنامہ

187

 مقبوضہ کشمیر میں فوج اور کشمیریوں کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات آرہی ہیں۔ جیسا کہ ابھی سری نگر بٹ مالو میں ایک گھر کو گھیرے میں لیا گیا کئی گھنٹوں کی فائرنگ کے تبادلے کے بعد چار کشمیری مجاہدین مارے گئے، سیکورٹی فورسز نے ٹیوٹر پیغام میں انہیں مقامی تسلیم کیا، ان چار افراد میں ایک گھریلو خاتون بھی شامل تھیں۔ جیسا کہ خبر ہی سے ظاہر ہے کہ کشمیری نوجوانوں کو گھیر کر مارا گیا۔ جیسے ہی یہ خبر عام ہوئی سیکڑوں کی تعداد میں کشمیری احتجاج کرتے ہوئے اپنے گھروں سے نکل آئے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مظاہرین انتہائی جوش میں تھے اور پاکستان زندہ باد اور ہم آزادی چاہتے ہیں کہ جیسے نعرے لگارہے تھے۔ سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل اور پیلٹ گنوں کا استعمال کیا۔ بھارتی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں کشمیریوں کی ہلاکت کے جو واقعات اس قدر تسلسل اور تواتر سے ہورہے ہیں کہ شاید ہی کوئی دن گزرتا ہو کہ ایسا نہ ہوتا ہو۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ واقعہ سری نگر کے علاقے میں ہوا۔ چار افراد کی ہلاکت سے ایک دن پہلے ایک چھتیس سالہ نوجوان کو سوپور میں مار کر پھینکا گیا۔ اس نوجوان کو سیکورٹی فورسز کی حراست میں لیے جانے کے چند گھنٹے ہی ہوئے تھے۔ اہل خانہ کے مطابق اس کو تشدد کرکے ہلاک کیا گیا اور لاش کھلی جگہ پر پھینک دی گئی۔ یہ کشمیریوں کو خوف میں مبتلا کرنے کی کوشش ہے۔ ابھی ایک ماہ قبل اپنے دادا کے ساتھ باہر جانے والے ایک بچے کی تصویر انٹرنیٹ پر شیئر کی گئی۔ اس کے دادا کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا اور بچہ اپنے دادا کے سینے پر بیٹھا تھا۔ یہ کارنامہ بھی بھارتی فوج کا تھا۔ ایک تصویر میں تو بھارتی فوج اپنا بوٹ دادا کے سینے پر رکھے ہے، کشمیریوں میں خوف پیدا کرنے والے جان لیں کہ اس طرح کے واقعات سے کشمیریوں کے دل میں خوف پیدا کرنے کے بجائے اُن کے دل سے موت کا خوف نکال رہے ہیں۔
اسرائیل سے مشورے کے بعد بھارت جن نکات کے تحت کشمیریوں پر ظلم کی ایک نئی اور انوکھی داستان رقم کرنے کا ارادہ کیے ہوئے ہے اس کے بعد کشمیری نوجوان بھی کوئی نئی اور انوکھی دانستان رقم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پڑھے لکھے کشمیری کہتے ہیں کہ بھارت نواز سیاست دان جو پچھلے دنوں کشمیری سیاست اور انتخابات میں حصہ لیتے رہے ہیں اب وہ بھی کسی بھی دلیل سے محروم ہو کر رہ گئے ہیں بلکہ بھارت کے اگست کے فیصلے سے انہیں احساس شکست ہوا ہے۔ ذلت اور رسوائی کا سامنا ہے۔ پچھلے اگست کے بعد جب تمام سیاست دانوں کو قید اور نظر بند کردیا گیا ہے اب تک وہ مکمل خاموش ہیں ایسے جیسے کہ بھارت کے اقدام نے ان سے اُن کی قوت گویائی چھین لی ہو۔ نوجوان اور تعلیم یافتہ نسل جان گئی ہے کہ بھارت کے پاس سوائے تشدد اور زبان بندی کے اور کوئی حل نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں ہمارے سیاست دان جنہوں نے بھارت نوازی کی اور انتخابات کا حصہ بنے وہ بھی آج قید و بند میں ہیں۔ بھارت تشدد کے سوا اور کوئی زبان نہیں سمجھتا۔ اور یہ بات آج کشمیری قوم اچھی طرح جان گئی ہے۔ موت اٹل ہے اور وطن کی آزادی کے لیے جان نثار کرنا اُس درندگی کا شکار ہونے سے بہتر ہے جس کا وہ عشروں سے شکار ہیں۔ جس نے کشمیری نسلوں کو قبرستان میں دفنا دیا ہے۔
آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد بھارت کشمیر میں کرفیو لگا کر بند کرکے مطمئن ہے، بھارتی سوشل میڈیا پر جشن مناتے رہے ہیں کہ کشمیری دلہن لانے کا موقع ملے گا۔ ٹک ٹاک پر ایک شہری کی پوسٹ بہت زیادہ شیئر کی گئی جو اپنی دکان کے باہر کھڑا ہے، ایک دوسرا مرد پوچھتا ہے کہ آخر آرٹیکل 370 ہٹانے کا فائدہ کیا ہوگا؟ تو وہ جواب دیتا ہے کہ کشمیر میں ترنگا لہرائے گا اور پھر سینہ ٹھونک کر کہتا ہے کہ کشمیر کی (لگائی) دلہن ملے گی ہمیں، اور تیسرا دوست اعلان کرتا ہے کہ کشمیر کو اب ہم ’’کاشی‘‘ کہا کریں گے اور پھر تینوں مل کر بندے ماترم کا نعرہ لگاتے ہیں۔ یہ ہندو بھارتی نوجوانوں کی خواہشات ہیں۔ ذرا زیادہ محتاط بھارتی ہندو کشمیر میں ڈومیسائل کے حصول، زمینوں اور جائدادوں کی خریداری اور کاروبار کی ابتدا کے بارے میں پُرجوش ہیں۔ بھارتیوں کی ان خواہشات کے پیچھے وہ فتح مند ذہن نظر آرہا ہے جو اپنی مفتوح نسل کو خصوصاً لڑکیوں کو غلام بنا کر بدلہ لیا کرتی ہے۔ دولت، جائداد اور کاروبار کو للچائی نظروں سے دیکھنے والے بھارتیوں کی ٹپکتی رالوں سے جس قدر خباثت ٹپکتی ہے، بھارتی حکومت کی ذہنی حالت بھی اُن سے کم نہیں ہے۔ زیادہ ہی ہوسکتی ہے۔ کشمیر کی خاموشی کو آسان سمجھنا بھارتی حکومت کے لیے دھوکا ثابت ہوگا۔ کشمیر تو بارود کا وہ ڈھیر ہے کہ جس کو ایک چنگاری پورے بھارت کو بھڑکتے آلائو میں تبدیل کردے گی۔ یہ سب درست لیکن پاکستان کشمیر کو ترجیحات کے کس مقام پر رکھتا ہے؟ کشمیر کو نقشے میں اپنا حصہ ظاہر کرکے بھارت کو کڑوا سچ اور پیغام تو دے دیا گیا ہے لیکن آگے استصواب رائے کے مطالبے کے لیے ستر سال سے ہم کوئی عالمی دبائو ہی نہیں بنا سکے۔ ہم اپنی اسلامی شناخت کو بھی اسلامی ممالک میں اپنی لابی بنانے کے لیے کام میں نہیں لاسکے۔ راحیل شریف سعودی عرب کو فراہم کرنا بھی سود مند نہ ہوا تو اب کیا سود مند ہوگا یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ ایک طرف روس اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری ہوئی ہے، روس کے جنوب میں ہونے والی فوجی مشقوں میں پاکستان اور چین شامل ہیں۔ روسی تجزیہ نگار میت نیل بورس کا کہنا ہے کہ مودی کی پالیسیوں کے باعث روس، چین، پاکستان، ایران اور ترکی کا عالمی اتحاد اُبھر رہا ہے۔ بھارت تنہا ہوتا جارہا ہے اور پاکستان روز بروز مضبوط ہورہا ہے۔ پاکستان اب امریکا اور سعودی عرب جیسے دوستوں سے بھی دور ہورہا ہے۔ ایک اور اہم منظرنامہ ہے کہ افغانستان سے امریکا شکست کھا کر نکل رہا ہے۔ دیکھیے کہ پاکستان کی حکومت اسٹیبلشمنٹ اور میڈیا اس اُبھرتے موقع سے کیسے فائدہ اٹھاتے ہیں۔