درآمدات پر کیش مارجن کی شرط نرم کردی،اسٹیٹ بینک

102

کراچی(اسٹاف رپورٹر)اسٹیٹ بینک نے اشیا ء ساز اور صنعتی شعبوں کی مدد کے لیے بعض اقسام کے خام مال کی درآمد پر 100فیصد کیش مارجن کی شرط نرم کر دی ہے تاکہ ان اداروں کی استعداد مزید بڑھائی جائے جس کے بعد وہ کوروناوائرس کے بعد کے دور میں معیشت کی بحالی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ابتدا میں کیش مارجن کی شرط 2017 میں 404 ایچ ایس کوڈز پر اور بعد ازاں 2018 میں مزید 131 اشیا پر نافذکی گئی تھی تاکہ بیشتر صارفی مصنوعات کی درآمد محدود کی جائے اور نمو کو فروغ دینے والی زیادہ اشیا ء کی درآمد کے لیے گنجائش نکالی جائے۔اشیا ء سازی کے شعبے اور دیگر اقتصادی زمروں کو کورونا سے درپیش چیلنجوں کے پیشِ نظر اور اس حوالے سے متعدد کاروباری اداروں اور تنظیموں کے مطالبے پر اسٹیٹ بینک نے کیش مارجن کی شرائط کا دوبارہ جائزہ لیا اورفیصلہ کیا کہ 106 اشیا ء/ ایچ ایس کوڈز پر سے یہ شرط ہٹا دی جائے۔ان اشیا ء پر سے کیش مارجن کی شرائط ہٹانے سے کاروباری اداروں کے نقد رقوم کے بہاؤ اور سیالیت (لیکوڈیٹی)میں مدد ملے گی کیونکہ درآمدات کے عوض کیش مارجن کے تحت بینکوں کی تحویل میں پہلے سے رکھی رقوم انہیںدستیاب ہو جائیں گی اور یہ رقوم نمو اور ترقی کے کاموں میں استعمال ہوں گی جس سے معیشت کو فائدہ ہوگا۔