عدالتوں میں کشمیریوں کی توانا آواز بابر قادری سری نگرمیں شہید کردیے گئے

153

سرینگر (خبر ایجنسیاں) مقبوضہ جموںوکشمیر میں سرینگر کے علاقے حول میں جمعرات کو نامعلوم مسلح افرادنے ممتاز کشمیری وکیل اور سماجی رہنما بابر قادری کو شہید کردیا۔ ایڈووکیٹ بابر قادری کوحملے کے فوری بعد سری نگر کے صورہ اسپتال منتقل کیاگیا تاہم وہ پہلے ہی دم توڑ چکے تھے۔بابر قادری نے ایک بار ٹی وی مباحثے میں بلند آوازسے پاکستان زندہ باد اور ہندوستان مردہ باد کا نعرہ بھی لگایا تھا۔ وہ کشمیر کے بارے میں بی جے پی کی پالیسیوں کے سخت ناقد تھے اور انہوں نے متعدد کانفرنسوں اور سیمیناروں میں شرکت کی جہاں انہوں نے اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔بابر قادری اپنی سوشل میڈیا مہم میں مقبوضہ جموںوکشمیر میں فوج کے ہاتھوںانسانی حقوق کی سنگین پامالی کے خلاف آواز اٹھاتے رہے۔ وہ عدالتوں میں حریت رہنماؤں اور آزادی پسند کارکنوں کے مقدمات کی پیروی بھی کرتے رہے۔ کشمیر پر ٹی وی مباحثوں کے دوران انہیں آر ایس ایس سے وابستہ ایک دہشت گرد ٹی وی اینکر ار ناب گوسوامی نے متعدد بار جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی ۔دوسری جانب بھارتی فورسز نے ضلع پلوامہ میں نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کرکے مزید ایک کشمیری نوجوان کو شہید کردیا۔ادھر سابق ہند نواز وزیر اعلیٰ فاروق عبد اللہ نے بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری اب خود کو بھارت کا حصہ نہیں سمجھتے، احتجاج روکنے کے لیے گلی گلی بھارتی فوج تعینات ہے، کشمیری بھارت سے جان چھڑانے کے لیے چینی حکومت قبول کرنے کو تیار ہیں۔فاروق عبد اللہ نے کہا کہ مودی سرکار لداخ کے بدھوں کو بھی ہندو بنانے پر کام کر رہی ہے،فاروق عبد اللہ نے قائد اعظم محمد علی جناح کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب نہرو نے جناح کو متحدہ ہندوستان کا وزیر اعظم بننے کی پیشکش کی تو انہوں نے انکار کردیا تھا کیونکہ جناح کو پتا تھا ہندو انہیں قبول نہیں کریں گے اور چند دن بعدانہیں نکال باہر کریں گے۔