مقبوضہ کشمیر: مودی سرکار کے مظالم جاری، 1 اور کشمیری شہید

180

سرینگر: جنت نظیر وادی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز نے ریاستی دہشت گردی کرتے ہوئے مزید 1 کشمیری نوجوان کو شہید کردیا.

کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں قابض بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی اور بربریت کا سلسلہ تھم نہ سکی کہ تازہ کارروائی کرتے ہوئے ضلع پلوامہ میں نام نہاد اور سرچ آپریشن کی آڑ میں ایک اور کشمیری نوجوان کو شہید کردیا.

کے ایم ایس کے مطابق قابض بھارتی فوج کا مقبوضہ کشمیر کے دارلحکومت سری نگر، پلواما، شوپیاں، کپواڑہ، اسلام آباد سمیت متعدد علاقوں کا محاصرہ کرکے گھر گھر تلاشی کا عمل جاری ہے جبکہ علاقے کے داخلی وخارجی راستوں کو بھی بند کردیا گیا ہے اور علاقے میں انٹرنیٹ، موبائل فون سروس سمیت تمام مواصلاتی سسٹم معطل کردیا گیا ہے.

قابض بھارتی فوج کی جانب سے مقبوضہ وادی میں جاری ظالمانہ کارروائیوں کے خلاف کشمیریوں کا احتجاج جاری ہے۔

دوسری جانب سینئر حریت رہنما غلام محمد خان سوپوری نے سری نگر میں اپنے ایک بیان میں ترال میں ہندوستانی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے نوجوانوں کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے علاقے میں ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سنگین صورتحال تنازعات حل نہ ہونے کی وجہ سے ہوئی ہے۔

انہوں نے ہندوستان پر زور دیا کہ وہ کشمیر میں اپنی مداخلت ترک کرے اور کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق اس کو حل کرنے کے لئے مذاکرات کی میز پر آئے۔

خیال رہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی اور الگ حیثیت کا خاتمہ کرکے اسے بھارت کا غیر قانونی طور پر حصہ بنا لیا تھا جبکہ مقبوضہ وادی پر قابض بھارت کے کرفیو کو 13 ماہ سے زائد ہوچکے ہیں.