سعودی شاہی نظام کیخلاف سیاسی مزاحمت کا اعلان

445

ریاض: سعودی عرب کے امریکا اور برطانیہ میں موجود جلا وطن رہنماؤں نے فرمانروا”شاہ سلمان” کے شاہی نظام کیخلاف پہلی منظم سیاسی مزاحمت کرنے کا اعلان کردیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق  سعودی عرب میں اختلاف ِرائے اور آزادیِ اظہار کیخلاف جلاوطن رہنماؤں نے “قومی اسمبلی پارٹی” کی تشکیل کی سالگرہ کہ موقع پر سیاسی مزاحمت کا اعلان کیا  ۔

قومی اسمبلی پارٹی کے جلاوطن رہنماؤں نےکہا کہ ہمارا مقصد سعودی عرب کے بادشاہی نظام میں جمہوری طرز پر حکومت تشکیل کرنا ہے،پارٹی عہدیداروں نے کہا کہ ہمارا مقصد عرب دنیا کے طاقتور ترین حکمران خاندان کے اختیار کو کمزور یامجروح کرنا نہیں  بلکہ ہمارا چیلنج خام تیل کی کم قیمتوں پر قابو پانا ہے اور نومبر میں کورونا وبا کے درمیان جی 20 سربراہی اجلاس کی میزبانی ہے۔

غیرملکی نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ  قومی اسمبلی پارٹی کی سربراہی لندن میں مقیم انسانی حقوق کے ممتاز کارکن یحییٰ اسیری کررہے ہیں جبکہ دیگر اراکین میں مدوی الرشید، سعید بن ناصر الغامدی، امریکا میں مقیم عبداللہ علاؤد اور عمر عبد العزیز شامل ہیں۔

قومی اسمبلی پارٹی کے سربراہ یحییٰ اسیری نے کہا کہ ‘ہم نے اپنی پارٹی کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا ہے کہ جب سعودی عرب مشکلات کا شکار ہے،ہم اس وقت اپنے ملک کے شہریوں اور ان کی امنگوں پر پورا ترناچاہتے ہیں۔

یاد رہے کہ یحییٰ اسیری اس سے قبل سعودی شاہی خاندان کے ائیر فورس آفیسر تھے، انہوں لندن میں القسط  نامی انسانی حقوق کی تنظیم کی بنیاد رکھی، جس نے بعد میں شاہی خاندان کے کچھ افراد کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ‘شاہی کنبے کے اراکین کی گرفتاریاں وسیع پیمانے پر بدلاؤ ہے’۔

واضح رہے کہ 2007 سے 2011 کے درمیان بھی خلیجی ریاستوں میں بغاوت کی کوشش کی گئی تھی جیسے دبا دیا گیا تھا۔