منتخب نمائندوں کے پاکستان کو لبرل بنانے کے اعلانات آئین پاکستان سے کھلی بغاوت ہے، سراج الحق

237

لاہور:امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ وزیر اعظم ہر مشکل کے وقت غائب ہوجاتے ہیں،عدلیہ ،مقننہ ،انتظامیہ اور دفاعی ادارے اپنے اپنے دائرے میں رہ کر کام کریں تو خرابیوں پر قابو پایا جاسکتا ہے،ملک میں 31لاکھ مقدمات زیر التواءہیں مگرایک سابق چیف جسٹس صاحب نے مقدمات نپٹانے کی بجائے ڈیم بنانااور آبادی کم کرنا شروع کردی ۔ ڈیم بنے نہ آبادی کم ہوئی اور نہ کسی کو انصاف ملا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامع مسجد منصورہ میں تحفظ ختم نبوت ﷺ وعظمت صحابہ ؓ کانفرنس سے خطاب اور میڈیا کے نمائندوں سے کرتے ہوئے کیا۔انہوں نےکہاکہ حکمرانوں کے پےدرپے خلاف شریعت اور آئین و نظریہ پاکستان کے منافی اقدامات و بیانات ناقابل برداشت ہیں،پاکستان کی بنیاد کلمہ طیبہ،پاکستان کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان، ریاستی مذہب اسلام اور قرار داد مقاصد آئین کا لازمی حصہ ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اسی آئین کے مطابق حلف اٹھانے والوں کی طرف سے پاکستان کو لبرل بنانے کے اعلانا ت اور اسلامی دفعات کے منافی اقدامات،آئین پاکستان سے کھلی بغاوت اور بانیان پاکستان و شہیدان وطن کی روحوں سے بے وفائی ہے ۔

انہوں نےکہا کہ صحابہ کرام ؓ کی عظمت پر جان نچھاور کرنا ہر مسلما ن اپنے لئے سعادت سمجھتا ہے،مغرب و بھارت پاکستان میں فرقہ وارانہ آگ بھڑکا کر ہماری قومی یکجہتی ختم کرنے اور پاکستان کو اسلام کی منزل سے ہٹانے کے خواب دیکھ رہا ہے جبکہ مٹھی بھر سیکولر و بے دین طبقہ مغرب کے ناپاک عزائم کی تکمیل میں لگا ہوا ہے لیکن محب وطن و محب اسلام عوام ان کے عزائم خاک میں ملا دیں گے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت قادیانیوں کو بڑے بڑے عہدوں سے ہٹائے،قادیانی پاکستان اور اسلام کے غدار ہیں۔295سی پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے،26 ماہ میں حکومت نے مہنگائی ، بے روزگاری میں اضافہ کرنے اور عوام کو سبز باغ دکھانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ تحفظ ختم نبوت ﷺ و ناموس رسالت اور عشق مصطفی ﷺ امت مسلمہ کا قیمتی سرمایہ ہے،اسلام دشمن قوتوں کوخوش کرنے کے لیے حکومت نے پہلے دن سے ہی قادیانیوں کی سرپرستی شروع کردی تھی،پاکستان کے اسلامی تشخص قانون ناموس رسالت ﷺاور قانون عقیدہ ختم نبوت کو عملاً غیر موثر بنانے کی سازشیں جاری ہیں جن سے اسلامیان پاکستان کے دلوں کو چھلنی کیا جارہاہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت تحفظ ناموس رسالت ﷺ اور تحفظ ختم نبوت ﷺ کے سلسلہ میںتمام آئینی و قانونی تقاضوں پر فی الفور اور مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائے ۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ توہین رسالت کے جرم میں جیلوں میں بند تمام مجرموں کے کیسوں کے قانون کے مطابق فوری فیصلے کئے جائیںاور عدالتوں سے دی گئی سزاﺅں پر فوری عمل درآمد کیاجائے۔حکمرا ن رسول اللہ اور صحابہ کرام ؓ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو حکومت پروٹوکول کے ساتھ رات برات ملک سے فرار کرادیتی ہے

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکمران اپنی ناکامیوں کا اعتراف کررہے ہیں،وزیر اعظم کہتے ہیں کہ انہیں چاروں طرف سے مافیاز نے گھیر رکھا ہے ۔خارجہ اور داخلہ محاذ پر حکومت کی ناکامیوں کی ایک لمبی فہرست ہے،عوام حکمرانوں کی تبدیلی چاہتے ہیں مگر حکمران ہرروز بیوروکریسی کے تبادلے کرکے سمجھتی ہے کہ تبدیلی کا وعدہ پورا ہوگیا۔حکومت اوور سیز پاکستانیوں پر ظلم کررہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ کرونا وبا کے دوران جب مختلف ملکوں سے پاکستانی واپس آئے حکومت نے انہیں ایئر پورٹ پر لوٹ لیا اور اب واپس جارہے ہیں تو حکومت چالیس پچاس ہزار کی بجائے لاکھ اور ڈیڑھ لاکھ کرایہ وصول کرکے ان کا خون پسینہ نچوڑ رہی ہے، اربوں ڈالر زرمبادلہ بھجوانے والے اوورسیز پاکستانیوں کو حکومت سہولت دے اور چھ ماہ بے روز گار رہنے والوں سے باہر جانے کا کرایہ وصول نہ کرے ۔

سینیٹر سراج الحق نے اقوام متحدہ میں پوری جرا ¿ت سے مسئلہ کشمیر اٹھانے پر ترکی کے صدر طیب اردگان اور عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہمارے حکمران مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں،سقوط ڈھاکہ کی طرح سقوط سری نگر ہوا تو یہ قوم ان حکمرانوں کو معاف نہیں کرے گی،کشمیر پاکستان کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے مگر حکمران اس مسئلے کو اپنا مسئلہ سمجھنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔