دبئی کے بعد ابوظہبی میں بلا روک ٹوک شراب دستیاب

116

ابوظبی (انٹرنیشنل ڈیسک) متحدہ عرب امارات کی ریاست ابوظہبی میں حکومت نے شراب خریدنے اور پینے کے لیے ضروری اجازت نامے کا قانون ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ ہمسایہ ریاست دبئی پہلے ہی ان ضابطوں میں نرمی کا اعلان کرچکی ہے۔ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی 7 امارات میں شامل یہ دونوں ریاستیں کورونا وائرس کی وجہ سے پابندی سے اپنی سیاحتی صنعت کو ہونے والے نقصانات کی تلافی کرنا چاہتی ہیں۔ اس کا ایک اور مقصد اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے لیے ہونے والے معاہدے کے بعد اسرائیل سے آنے والے سیاحوں کو تمام سہولیات فراہم کرنا بھی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق وزارت ثقافت اور سیاحت کی طرف سے جاری کردہ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ہم شراب کے لیے اجازت نامے کی شرط کو ختم کرنے کااعلان کرتے ہیں، اور اب مقیم غیرملکی اور سیاح دکانوں سے شراب خرید سکتے ہیں۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ شراب خریدنے والے شخص کی عمر کم از کم 21 سال ہونی چاہیے اور اسے نجی جگہ یا پھر اس مقصد کے لیے مخصوص جگہ جیسے کلب میں پیا جاسکتا ہے۔ البتہ اس حکم نامے میں یہ ابہام موجود ہے کہ آیا مسلمان بھی شراب خرید کرپی سکتے ہیں یا نہیں۔ اس سے قبل مسلمانوں کو شراب خریدنے کے لیے اجازت نامے جاری نہیں کیے جاتے تھے۔ اس حکم نامے کے اجرا کے ساتھ ابوظبی میں شراب کے فروخت پر قانونی پابندی ختم ہوگئی ہے۔ دبئی نے بھی اس سال اجازت نامے کے نظام میں نرمی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد لوگوں کو شراب خریدنے کے لیے اپنے آجر سے این او سی حاصل کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔