سنکیانگ کی طرح تبت بھی غیر اعلانیہ جیل بن گیا

100

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) تحقیقاتی مطالعے کے ایک امریکی ادارے کا کہنا ہے کہ چین تبت میں لاکھوں افراد کو فوجی طرز کے پیشہ ورانہ تربیتی مراکز میں داخل کر رہا ہے۔ جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن نے یہ بات اپنی ایک رپورٹ میں کہی ہے ، جو سرکاری میڈیا رپورٹس، پالیسی دستاویزات اور سیٹلائٹ سے لی جانے والی تصاویر پر مبنی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ اس مطالعے میں سنکیانگ کے خطے میں ایغوروں کے ساتھ ہونے والے ریکارڈ شدہ واقعات کے ساتھ موازنہ بھی کیا گیا ہے۔ تبت ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں ایک دور دراز علاقہ ہے، جہاں بنیادی طور پر بدھ مت کے پیروکار آباد ہیں۔ اس کی حیثیت ایک خود مختار خطے کی ہے، جس پر چین حکومت کرتا ہے۔ مطالعے میں جو تفصیل سامنے آئی ہے، وہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جس وسیع پیمانے پر وہاں پروگرام جاری ہے، وہ اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔ تبت اور سنکیانگ کے ایک آزاد محقق ایڈرین زینز کی تصنیف کردہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2020ء کے پہلے 7 ماہ میں 5 لاکھ افراد کو تربیت دی گئی، جن میں زیادہ تر لوگ بنیادی طور پر کسان اور گلہ بان ہیں۔ حکام نے ان تربیت یافتہ مزدوروں کو بڑے پیمانے پر تبت اور چین کے دوسرے حصوں میں منتقل کرنے کے لیے کوٹا طے کیا ہے۔ رپورٹ میں حوالے کے ساتھ کہا گیا ہے کہ حکومت نے تربیتی اسکیموں کے تحت ان مزدوروں کو نظم و ضبط، چینی زبان اور اخلاقیات کی تربیت دی گئی ہے۔