افسوس! فرعون کو یکساں نصاب کی نہ سوجھی (آخری قسط)

295

عمران خان کے قول وفعل کے تضاد، یوٹرنز، کو دیکھیں، ان کی کابینہ کے اراکین کے ہونق چہروں کو دیکھیں، کیا ان کے پاس اتنی سوچ اور فکری سرمایہ ہے کہ تعلیم جیسے نازک معاملے پر اتنا دور رس سوچ سکیں۔ کیا ان کے پاس گہری دانائی کے حامل ایسے علماء کرام، اسکالرز، تعلیمی ماہرین اور قابل اساتذہ ہیں جنہوں نے برسوں کسی تعلیمی کمیٹی میں یکجا ہوکر تعلیمی مواد کو اسلامی اور قومی تقاضوں کے مطابق ترتیب دینے کی کوئی کوشش کی ہو جس کا نتیجہ یکساں نصاب تعلیم ہو؟ واحد قومی نصاب اقوام متحدہ کے ایس ڈی جی ہدف 4.7 کی اندھی تقلید ہے۔ جس کا مقصد امت مسلمہ کی اجتماعی زندگی سے اسلامی تصورات کی جڑیں کاٹنا ہے۔
تمام مسلمان ایک امت واحدہ ہیں، واحد قومی نصاب اس کی جگہ علاقے اور نسل کی بنیاد پر قومیت کے مغربی تصور کو رائج کرتا ہے۔ چوتھی اور پانچویں جماعت کی معاشرتی علوم کی کتاب میں یہ کہا گیا ہے کہ ’’اس نصاب کا ہدف وطن پرستی کو فروغ دینا ہے‘‘۔ طلبہ لازم طور پر اس قابل ہونے چاہییں کہ وہ ’’پاکستانی ہونے پر فخر اور وطن سے محبت کی وجوہات کو بیان کرسکیں‘‘۔ یہ وہی وطن پرستی ہے جس کے بارے میں اقبال نے کہا تھا:
ان تازہ خدائوں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
یہ بت کہ تراشیدۂ تہذیب نوی ہے
غارت گر کاشانۂ دین نبوی ہے
نیشنل ازم، وطن پرستی اور فرقہ واریت کو اسلام نے رد کیا ہے۔ امت کے بچوں کے لیے یہ درست حوالے نہیں ہیں۔ درست حوالہ، تعلق اور ربط اسلام کی آئیڈیولوجی ہے جو تمام مسلمانوں کو استعمار کی کھینچی گئی لکیروں سے بے نیاز کرکے اسلامی بھائی چارے کی لڑی میں پرودیتی ہے۔ سورہ آل عمران میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے ’’اور سب مل کر اللہ کی (ہدایت کی) رسی کو مضبوط پکڑے رہنا اور متفرق نہ ہونا اور اللہ کی اس مہربانی کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے تو اللہ نے تمہیں اس سے بچا لیا‘‘۔ اسلام کو چھوڑ کر کسی بھی دوسری چیز کو اجتماعی طور پر مسلمانوں کے درمیان ربط وتعلق کی بنیاد بنانا بہت بڑا گناہ ہے۔ عالی مرتبت رسول اکرمؐ کا ارشاد ہے ’’جو شخص اندھی تقلید میں کسی کے جھنڈے تلے مارا گیا جو (رنگ نسل علاقے) عصبیت کی دعوت دیتا تھا اور عصبیت کی مدد کرتا تھا اس کی موت جاہلیت کی موت ہے‘‘۔ (مسلم)
واحد قومی نصاب باطل کو مسترد نہیں کرتا بلکہ یہ باطل کی عزت اور تکریم پیدا کرتا ہے۔ جماعت اول سے پانچویں تک کا انگریزی نصاب محض انگریزی زبان سکھانے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں حق وباطل کو آپس میں ملا دیا گیا ہے۔ انگریزی نصاب کا ہدف پانچ مہارتیں پیدا کرنا ہے۔ مہارت نمبر پانچ میں مناسب اخلاقی اور سماجی ترقی کے ضمن میں نصاب یہ لازم قرار دیتا ہے کہ طلبہ لازمی طور پر خود میں رواداری، احترام اور برابری کی خصوصیات پیدا کریں۔ مزید زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تعلیمی مواد لازمی ’’ثقافتی غیر جانبداری‘‘ کا مظاہرہ کرے اور اس میں ایسا کوئی مواد نہیں ہونا چاہیے جو ’’جانبدار یا متعصب‘‘ ہو۔ اس شوگر کوٹڈ پیغام کا مطلب یہ ہے کہ تمام مذاہب اور تمام ثقافتیں برابر ہیں اور طلبہ کی نظر میں ایک جیسی عزت اور قدر کی حقدار ہونی چاہییں۔ طلبہ اسلام پر عمل کریں یا کسی اور مذہب اور ثقافت پر سب برابر ہیں سب قابل عزت اور لائق تکریم ہیں۔ اسلام اس نقطہ نظر کو مسترد کرتا ہے۔ اسلام ایک مکمل دین ہے جو مسلمانوں کو واضح طور پر جانبدار اور طرفدار بناتا ہے کہ وہ تمام معاملات کو صرف اسلام کے پیمانے سے پرکھ سکتے ہیں۔ اسلام کے سوا تمام مذاہب اور ثقافتیں رد ہیں۔ اللہ کی آخری کتاب قرار دیتی ہے ’’حق کو باطل کے ساتھ نہ ملائو اور سچی بات کو جان بوجھ کر نہ چھپائو (البقرہ: 2:42)‘‘ اسلام اس نقطۂ نظرکو تسلیم نہیں کرتا کہ جو ایمان نہیں رکھتے وہ اہل ایمان کے برابر ہیں۔ ’’اہل دوزخ اور اہل بہشت برابر نہیں، اہل بہشت تو کامیابی حاصل کرنے والے ہیں (الحشر: 59:20)‘‘ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کے لیے ایک ہی معیار مقرر کیا ہے وہ یہ کہ اسلام ہی واحد سچا دین ہے اور باقی تمام مذاہب، نظریات، آئیڈیا لوجیز اور طرز زندگی باطل اور جھوٹ ہیں۔
واحد قومی نصاب (SNC) میں جماعت اول سے سوم کے لیے معلومات عامہ کے نصاب 2020 میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’’اخلاقیات ایسی چیز ہیں جو تمام مذاہب میں یکساں ہیں‘‘۔ نصاب میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’اخلاقی اقدار اسلام کی اصل روح ہیں اور یہ اخلاقی اقدار تمام مذاہب میں مشترک ہیں‘‘۔ اس طرح اسلام اور کفر کو ایک ہی مقام پر کھڑا کردیا گیا ہے۔ ’’اخلاقی اقدار‘‘ ایک مغربی تصور ہے جہاں اقدار کا تعین انسان کے عقلی مباحث کی بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے۔ کیا حلال ہے کیا حرام ہے۔ کون سا اخلاقی رویہ فائدہ مند ہے اور کون سا نقصان دہ۔ مغرب کے اخلاقی تصورات مستقل اور پائیدار نہیں ہیں۔ مغرب میں اخلاقیات اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی رضا کا ذریعہ نہیں بلکہ نفع نقصان سے منسلک ہیں۔ اسلام میں اخلاقیات اللہ سبحانہ تعالیٰ کے کسی حکم پر عمل کرنے یا کسی عمل سے رکنے کی پابند ہیں۔ انفرادی عبادت ہو یا اجتماعی معاملات۔ اسلام میں اخلاق ممکنہ فائدے یا ممکنہ نقصان کی بنا پر تبدیل نہیں ہوتے۔
واحد قومی نصاب اسلامی نظام حکومت کے بجائے مغربی نظام حکومت یعنی جمہوریت کی ترویج کرتا ہے جس میں قوانین انسانوں کی خواہشات اور مرضی کے مطابق بنائے جاتے ہیں جب کہ اسلام میں قانون ساز اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہے اور حکمرانی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی وحی کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ معاشرتی علوم کے موضوعات برائے جماعت چہارم اور پنجم میں بیان کیا گیا ہے کہ طالب علم کو لازمی طور پر ریاست اور حکومت کی تعریف اور جمہوریت کے بارے میں پڑھایا جائے۔ معاشرتی علوم کا نصاب اس بات پرزور دیتا ہے کہ طالب علم لازماً ’’سب سے مقبول طرز حکمرانی جمہوریت کے تصور کی وضاحت کریں اور یہ کہ کیوں جمہوریت کو ترجیح حاصل ہے‘‘۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا فرمان ہے ’’اور (اے محمدؐ) جو (قانون) اللہ نے نازل فرمایا ہے اسی کے مطابق ان میں فیصلہ کرنا اور ان کی خواہشات کی پیروی کبھی نہ کرنا اور ان سے بچتے رہنا کہ کسی حکم سے جو اللہ نے نازل فرمایا ہے یہ کہیں آپ کو بہکا نہ دیں (المائدہ: 5:49)‘‘ اسلامی ریاست اور اسلامی نظام میں وہی قانون نافذ کیا جاسکتا ہے جو قرآن وسنت سے اخذ کیا گیا ہو۔
اسلام اللہ سبحانہ تعالیٰ کی اطاعت سے محبت اور نافرمانی سے سخت نفرت کے جذبات کی مضبوط بنیادوں پر تعمیر کرتا ہے لیکن واحد قومی نصاب پہلی کلاس کے نصاب ’’ابتدائی بچپن کی دیکھ بھال اور تعلیم‘‘ میں ننھے بچوں کو تعلیم دیتا ہے کہ طلبہ لازمی طور پر اپنے مذہب سے قطع نظر دوسروں کے احساسات اور نظریات کو عزت دیں۔ اقوام متحدہ کے ایس ڈی جی ہدف 4.7کی مکمل پیروی کرتے ہوئے بنایا جانے والا واحد قومی نصاب ہمارے مستقبل کی نسل کی ذہنی سازی کے لیے ایک استعماری حملہ ہے۔ واحد قومی نصاب نے اسلام کو دیگر مذاہب کے برابر کھڑا کردیا ہے۔ جب کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے مطابق واحد دین حق صرف اسلام ہے۔ مغرب کے لیے سب سے پریشان کن بات مسلمانوں کی اسلام سے محبت اور اس پر عمل کرنے کی خواہش ہے۔ واحد قومی نصاب میں بڑے ملفوف انداز میں اس محبت اور عمل کی خواہش کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔