خمینی یا الطاف حسین؟

338

اسلام آباد میں گیارہ اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس نے عمران خان ان کی حکومت اور سیاسی جماعت کے ساتھ ساتھ میاں نوازشریف ان کے گھرانے، سیاسی جماعت اور سیاسی مستقبل کے آگے بھی ایک سوالیہ نشان ڈال دیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے اگلے لائحہ عمل میں پہلا نکتہ ہی یہ رکھا کہ وزیر اعظم استعفا دیں بصورت دیگر ایک مرحلہ وار تحریک چلائی جائے گی۔ ظاہر ہے وزیراعظم کسی مطالبے پر استعفا دیں گے نہ حکومت محض شریفانہ مطالبے پر گھر کی راہ لے گی۔ اپوزیشن اگر اپنی مرحلہ وار تحریک کی طرف جائے گی تو یہ ایجی ٹیشن کا رخ اختیار کرسکتی ہے ایسی صورت میں وزیر اعظم عمران خان اور ان کی حکومت کے مستقبل کا سوال اُٹھنا لازمی ہے۔ حکومت اور اہل حکومت کے مستقبل سے زیادہ اب آل پارٹیز کانفرنس کے مدارالمہام میاں نوازشریف ان کے گھرانے اور جماعت کا مستقبل ایک سوالیہ نشان بن کر اُبھرا ہے۔ کانفرنس کی میزبانی پیپلزپارٹی نے کی مگر یہ مولانا فضل الرحمن کے دیرینہ خواب کی تعبیر تھی۔ وہ خواب جو انہوںنے موجودہ حکومت کے قیام کے پہلے لمحے سے دیکھنا شروع کیا تھا۔ اس تقریب کا مرکزی کردار میاں نواشریف تھے۔ میاں نوازشریف اور آصف زرداری نے کانفرنس سے وڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔ آصف زرداری تو بچ بچا کر کھیل گئے۔ انہوں نے جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے ذومعنی جملوں سے کام لیا مگر لندن میں مقیم میاں نواز شریف کا خطاب حسب روایت جارحانہ رہا۔ نواز شریف کا خطاب جمہوریت کی نوحہ خوانی پر مبنی تھا۔ انہوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ عمران خان ان کا مخاطب ہیں نہ ہدف بلکہ وہ انہیں لانے والوں کے خلاف ہیں۔ اس طرح انہوں نے ملکی اسٹیبلشمنٹ کو للکار ا بھی اور لتاڑا بھی۔ ان کا مجموعی خطاب مسلم لیگ ن کے سوشل میڈیا ونگز کی پوسٹوں کا خلاصہ ہے جس میں اسٹیبلشمنٹ کو پہلے ہدف کے طور پر سامنے رکھا جاتا ہے۔ ان کے خطاب سے یہ بات جھلک رہی تھی کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اپنا لہجہ اور سوچ مزید سخت کرنے جا رہے ہیں۔ ان کا خطاب عوام کے حافظے کا امتحان تھا۔
یہ ملک سول اور فوجی حکمرانی دونوں میں بس اسی طرح چلتا رہا ہے اور جانے کب تک یونہی چلے۔ جمہوریت میں شہنشاہیت کی خُو بُو اور خواہش جھلکتی رہی تو فوجی حکمرانی کے دماغ پر جمہوری بننے کا خبط سوار ہوتا رہا۔ اسٹیبلشمنٹ نے جو لیڈر تراشے اور تلاشے وہ تھوڑی سی جڑ پکڑ کر ہاتھ چھڑا کر عالمی اسٹیبلشمنٹ کا دامن پکڑ کر چلنے لگ جاتے اور یوں ملک کی طاقتور ہئیت مقتدرہ نے تراشیدم، پرستیدم، شکستم کی تجربات میں ایک عمر بتادی۔ ان کے دکھ کا انداز ہ کون لگا سکتا ہے جو بار بار اس صورت حال کا سامنے کرنے پر مجبور ہوئے ہوں کہ جنہیں ارمانوں اور خوابوں کے ساتھے اپنے ہاتھوں سے تراشا انہیں تھوڑی دیر اور تھوڑی دور تک چاہا اور پھر توڑ دیا۔ اسمبلی میں ایک نشست رکھنے والے ظفراللہ جمالی کو بے ضرور جان کر وزیراعظم بنایا گیا مگر وہ بھی ہاتھ چھڑا کر کہیں اور دیکھنے لگ گئے چار وناچار انہیں رخصت کرنا پڑا ان کی طاقت اور اقتدار کون سا ووٹ کو ملنے والی عزت کا نتیجہ تھا وہ صرف پرویز مشرف کے تیر نظر کا شکار ہوئے تھے کچھ یہی حال محمد خان جونیجو کا تھا جو پیر پگارہ اور جنرل ضیاء الحق کی مشترکہ نظر کرم کے نتیجے میں حکومت میں آئے مگر پھرکہیں اور چل دیے۔ یوں معاملہ ووٹوں کا، عوامی طاقت اور جمہوریت کا نہیں بلکہ ملکی اور عالمی اسٹیبشلمنٹ کے درمیان جاری آنکھ مچولی کا ہے۔ یہ کشمکش اس وقت تک کم نہیں ہو سکتی جب تک کہ عالمی ہیئت مقتدرہ کا اثررسوخ محدود یا ختم نہیں ہوتا جس کے بعد مقامی ہیئت مقتدر خود اعتمادی کے ساتھ پیچھے ہٹنا شروع ہوجائے گی۔
نواز شریف جو ایک بڑا حلقہ اثر رکھتے ہیں اور سب سے زیادہ طاقتور وزیر اعظم کے طور پر کام کرتے رہے ہیں اس کھینچا تانی کی علامت بن کر رہ گئے ہیں۔ تین بار وزیر اعظم بنے مگر ہر بار کسی سیاسی حادثے نے ان کو گھر کا راستہ دکھایا۔ ان کا تجربہ بہت امیدوں کے ساتھ کیا گیا تھا کہ پنجاب سے جو لیڈر مقبول بن کر اُبھرے گا وہ جہاں ایک طرف فرینڈلی ہوگا وہیں وہ پیپلزپارٹی کا حلقہ اثر محدود کرے گا، پیپلزپارٹی کا حلقہ اثر تو وہ محدود کر گئے مگر وہ ہاتھ چھڑا کر کہیں اور نکل گئے۔ اس طرح ملک میں جاری طاقت کی کشمکش کو ایک نیا عنوان ملا۔ میاں نواز شریف نے اس عالم میں بھی حسب ضرورت اور حسب ذائقہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل بھی کی، ڈھیل بھی لی اور ان کے لتے بھی لیے۔ ان کی حالیہ بیرون ملک روانگی میں یہی پہلو نمایاں ہے۔ خواجہ آصف نے اسمبلی میں عمران خان کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’او آپ سے این آر او کون مانگتا ہے۔ آپ کس کو این آر او دے سکتے ہیں۔ جب میاں نواز شریف نے جانا ہوگا چلے جائیں گے اور آپ کے سر پر آسمان گرے گا‘‘۔ کچھ ہی عرصہ بعد میاں نواز شریف عدلیہ کا سہارا لے کر عمران حکومت کو روتا بلکتا تڑپتا چھوڑ کر لندن سدھار گئے۔ نوازشریف نے آل پارٹیز کانفرنس میں جو لائن لی اس نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کے تعلقات کو مزید خراب کر دیا۔ وہ وطن کیسے آئیں گے؟ اس کا جواب کیپٹن صفدر نے دیا ہے کہ نوازشریف اب خمینی بن کر آئیں گے۔ یہ وہی جملہ ہے جو اسی کی دہائی میں ایک مختلف کردار کو سامنے رکھ کر پیپلزپارٹی کے کارکن دہرایا کرتے تھے۔ یہ مقبول جملہ تھا کہ بے نظیر بھٹو کوری اکینو بن کر آئیں گی اور ضیاء الحق مارکوس بن کر بھاگ جائیں گے۔ عین انہی
دنوں میں فلپائن کی جلاوطن لیڈر مسز کوری اکینو امام خمینی کے اسٹائل ہی میں منیلا ائرپورٹ پر فاتحانہ انداز میں اُتری تھیں اور فلپائن کے آمر مارکوس عوامی طاقت کے آگے کے سپر ڈال کر محل کے پچھلے دروازے سے فرار ہوگئے تھے۔ جنرل ضیاء الحق اقتدار سے رخصت تو ہوئے مگر وہ مارکوس بنے نہ مفرور ہوئے بلکہ فرشتہ اجل نے انہیں جالیا۔
اول تو میاں نوازشریف اور قُم کے مصلح، مدرس، بوریا نشین اور سخت کوش انقلابی کا موازنہ بنتا ہی نہیں جو ایک انقلاب لائے اور انقلاب بھی ایسا کہ جس نے ایران کو لہو سے تربہ تر کر دیا۔ پھر یہ انقلاب مقامی حکمرانوں ہی نہیں وقت کی عالمی اسٹیبشلمنٹ کے خلاف بھی برپا ہوا تھا یہاں تو معاملہ قطعی اُلٹ ہے یہاں تو عالمی اسٹیبلشمنٹ کے جھولے میں بیٹھ کر ملکی اسٹیبلشمنٹ کو اکھاڑ پھینکنے کے ارادے ہیں۔ یہ تجربہ ترکی میں ناکام ہوچکا ہے جہاں امریکا کی میزبانی سے لطف اندوز ہونے والے فتح اللہ گولن نے فوج کے ایک چھوٹے سے گروہ کو ساتھ ملا کر طیب اردوان کو نہ صرف اقتدار سے الگ کرنے بلکہ جان سے مارنے کی کوشش کی۔ ترک حکومت عوام اور فوجی اسٹیبشلمنٹ نے مل کر امریکا سے امپورٹ ہونے والے اس انقلاب کو ناکام بنایا۔ جدید عالمی سیاست اور واقعات وتجربات بتاتے ہیں کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ جس انقلاب کا خواب دکھاتی ہے اس کی تعبیر شام، عراق اور لیبیا جیسی ہوتی ہے۔ اب وقت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ نوازشریف خمینی بن کر آتے ہیں یا الطاف حسین کی طرح لندن میں اپنے قیام کو طوالت دے کر آن لائن خطاب کے ذریعے قوم کو جگانے کی کوششیں کرتے چلے جاتے ہیں؟۔ شہبازشریف کو صلاحیت آزمانے کا موقع ملا تو وہ انہیں ان دونوں کرداروں سے بچا کر ’’نوازشریف‘‘ بنا کر واپس لاسکتے ہیں بالکل ایسے ہی کہ جس طرح وہ ماضی میں کئی بار آتے رہے ہیں اور اس انداز کی رفت پر نہ ہمالیہ روتا تھا اور نہ ہی ایسی آمد پر پتا ہلتا اور گملا ٹوٹتا تھا۔