انصاف ہو گیا!!!264 کے بدلے صرف 2

297

پاکستان کے 9/11 سانحہ بلدیہ فیکٹری کے 8 برس بعد انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فیصلہ سنا دیا ہے جس کے مطابق ایم کیو ایم کے سیکٹر انچارج رحمن بھولا اور زبیر چریا کو 264 مرتبہ سزائے موت دینے کا حکم سنایا ہے۔ عدالت نے ایم کیو ایم رہنما سابق وزیر رئوف صدیقی سمیت 4 ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پربری کر دیا۔ ان مجرموں نے 25 کروڑ روپے بھتا مانگا تھا، نہ ملنے پر فیکٹری کو آگ لگائی اور تالے ڈال کر ملازمین کو بند کردیا تاکہ وہ زندہ جل جائیں۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کہا ہے کہ آگ لگی نہیں لگائی گئی۔ سہولت کاروں نے مجرموں کو کیمیکل کے ساتھ فیکٹری میں جانے میں مدد دی اور اس کیمیکل سے 264 افراد کو زندہ جلا دیا گیا۔ انسدا دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 8 برس اس کی سماعت کی۔ نئی جے آئی ٹی بنی اور پھر پونے دو سو سماعتوں کے بعد نتیجہ یہ نکلا کہ دو کارندوں کو سزا ہوگئی۔ اس فیصلے کے بعد بلدیہ فیکٹری کے مرحوم ملازمین کے ورثا نے شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ بیشتر کا کہنا ہے کہ فیصلہ ادھورا ہے۔ مالکان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے تھا۔ کچھ نے شکوہ کیا ہے کہ متاثرین کے لیے جو رقم فیکٹری مالکان نے دی تھی وہ بھی متحدہ کے ایک رہنما کو ملی لیکن ہمیں نہیں ملی۔ این ایل ایف کے رہنما نے کہا کہ حکومتی اتحادی باعزت بری ہو گئے۔ جس بنیاد پر لوگ پریشان ہیں اور ان کی امیدوں پر پانی پھرا ہے وہ صرف دو افراد کو سزائے موت اور 4 کو عمر قید ہے۔ 264 کے بدلے 2 جانیں۔ ان کو 264 بار سزائے موت لکھنے سے کچھ فرق تو نہیں پڑے گا موت تو پہلی مرتبہ میں آجائے گی۔ لیکن ہر زبان پر یہی سوال ہے کہ کیا انصاف ہو گیا۔ اس مقدمے کی وہ بنیادیں اہم ہیں جن پر فیصلہ دیا گیا ہے اور یہ کمزور اور سیاسی دبائو کا شکار پولیس ہے جس نے تفتیش کا رخ ہی اس طرح متعین کیا کہ ماسٹر مائنڈ یا بھتا حاصل کرنے والے اصل مجرم بچ جائیں۔ مختلف خصوصی عدالتوں نے بعض حساس مقدمات میں حملہ آوروں سے قبل ماسٹر مائنڈ کو پکڑ کر سزا بھی سنائی ہے۔ لیکن 264 افراد کے قتل کے مقدمے میں ماسٹر مائنڈ صاف بچ گئے اور صرف دو کارندوں کو سزا ہوئی۔ یہ گویا بھارتی فلم شعلے کے ہیرو تھے جو دو تھے انہوں نے درجنوں ڈاکوئوں کا صفایا کر دیا تھا۔ یہ کارروائی زیادہ لوگوں کی تھی۔ ایم کیو ایم کے ان دو افراد نے فیکٹری کو تالے لگائے، دو منزلوں پر آگ بھی لگائی اور مزے سے چلتے بنے اور 264 افراد زندہ جل گئے۔ تفتیش کاروں کو اس مقدمے سے ماسٹر مائنڈ یا اصل مجرموں کو بچانے اور نکالنے کے لیے راستہ ڈھونڈنے میں 8 برس لگ گئے۔ یہ بہت واضح ڈراما ہے۔ متحدہ کے بھتے کے نظام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس قدر شفاف تھا کہ تنظیم کے نام پر لیا گیا دس ہزار روپیہ بھی اگر اکائونٹ (حساب) میں نہیں آیا تو لینے والے کی چھٹی۔ اور یہ چھٹی تنظیم سے نہیں زندگی سے ہوتی تھی۔ مختلف مواقع پر اچانک وزرا کو تبدیل کیا جاتا تھا اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ بھتے کی رقم میں سے کچھ بچا کر اپنے اثاثے بھی بنا رہے تھے تو 25 کروڑ کی رقم سے متحدہ کے ذمے داران کیونکر لاتعلق ہو سکتے ہیں۔ عدالت نے جو فیصلہ سنایا ہے وہ تفتیش کے نتائج کی روشنی ہی میں سنایا ہے۔ 264 افراد کے قتل پر صرف دو افراد کو سزائے موت دینا حیرت انگیز امر ہے۔ لیکن اس پورے مقدمے میں پارٹی صاف بچ گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابھی اس پارٹی سے کام لینا ہے۔ لیکن ابھی معاملہ ختم نہیں ہوا ہے۔ ابھی سزا یافتگان ہائی کورٹ میں اپیل کر سکیں گے۔ اسی طرح متاثرین نے بھی کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ مالکان کو بھی سزا ہونی چاہیے تھی۔ مالکان اس اعتبار سے کہ اگر وہ بھتے دیتے تھے تو کیوں دیتے تھے۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ دہشت گرد اور یہ مجرم خود کو فیکٹری مالکان کا دوست کہتے تھے اور مالکان نے کبھی اس کی تردید بھی نہیں کی۔ امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے بھی سانحہ کے منصوبہ سازوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا ہے کہ جرمن کمپنی کی جانب سے دیے گئے 52 کروڑ روپے کہاں گئے۔ متاثرین نے سوال کیا ہے کہ حماد صدیقی کو سزا کیوں نہیں دی گئی۔ یہ بات قابل غور ہے کہ اس کے صرف وارنٹ جاری ہوئے ہیں۔ اگر یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ مقدمے کے مطابق حماد صدیقی کے حکم پر آگ لگائی گئی ہے تو اسے کوئی سزا تو سنائی جاتی۔ صرف وارنٹ سے تو ایک قدم پیچھے ہٹا ہے۔ پورے مقدمے سے یہ حقیقت مستحکم ہوگئی ہے کہ متحدہ اس معاملے میں ملوث تھی لیکن اس پر متحدہ کے اہم رہنما فاروق ستار جو اپنا لندن والوں سے تعلق ظاہر بھی نہیں کرتے اور لاتعلقی کا اعلان بھی نہیں کرتے۔ کہتے ہیں کہ فیصلے سے ثابت ہوگیا کہ یہ ایم کیو ایم کا فعل نہیں چند کارکنوں کا ذاتی فعل تھا۔ اس مقدمے کے حوالے سے کئی برس سے ایم کیو ایم کو بدنام کیا جارہا تھا لیکن عدالتی فیصلے سے ثابت ہوگیا کہ اس سے ایم کیو ایم کی بڑی قیادت ملوث نہیں تھی۔ ڈاکٹر فاروق ستار یہ بھی بتا دیں کہ 2012ء میں ایم کیو ایم کی بڑی قیادت کون لوگ تھے۔ وہ کس کے ملوث نہ ہونے کی مبارکباد دے رہے ہیں۔ ایک اور بیان رئوف صدیقی نے دیا ہے کہ مجھے انصاف مل گیا۔ اگر یہ انصاف ہے تو پھر یہ سب روز محشر کا انتظار کریں۔