مسئلہ کشمیر جنرل اسمبلی میں اٹھانے پر بھارت ترکی پر برہم

168

نیویارک/اسلام آباد (خبر ایجنسیاں) مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے بیان پر بھارت برہم ہو گیا ، وزیراعظم عمران خان نے عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز اٹھانے پر طیب اردوان کا شکریہ ادا کیا ہے جبکہ اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل مندوب ٹی ایس ترومورتی نے سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کو دوسرے ممالک کی خودمختاری کااحترام کرنا چاہیے۔ ترومورتی نے ٹوئٹ کیاہم نے ریاست جموں اور کشمیر کے حوالے سے ترکی کے صدر کے بیان کو پڑھا ہے اور بھارت کے اندرونی معاملات میں ان کی مداخلت قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔ ترکی کو دوسرے ممالک کی خودمختاری کا احترام کرنا چاہیے اور اپنی پالیسیوں پر غور کرنا چاہیے۔یاد رہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کشمیر پر ایک بار پھر کہا ہے مسئلہ کشمیر ایک سلگتا ہوا مسئلہ ہے اور جموں و کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے والے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد مسئلہ اور بھی سنگین ہوگیا ہے۔علاوہ ازیں اقوام متحدہ نے کورونا وائرس کی عالمی وبا جیسے دنیا بھر کے معاملات پر بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے کوششیں کرنے کا عہد کیا ہے۔اس تنظیم کے قیام کے 75 برس مکمل ہونے کے موقع پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اس بارے میں ایک اعلامیے کی متفقہ منظوری دی گئی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے طے کردہ وڈیو پیغام نشر کرنے کے بجائے امریکی سفیر چیرِتھ نارمن شیلے نے اجلاس سے خطاب کیا۔شیلے نے کہا کہ امریکا نے اس تنظیم کی کامیابی میں مرکزی کردار ادا کیا ہے لیکن اقوام متحدہ میں شفافیت کا فقدان ہے اور یہ تنظیم آمریت پسندوں اور آمروں کے ایجنڈے کے خلاف حد سے زیادہ کمزور ثابت ہوئی ہے۔چین کے صدر شی جن پنگ نے اپنے وڈیو پیغام میں کہا کہ چین کثیر ملکی اتحاد کے ذریعے مشترکہ اہداف کے حصول کی غرض سے جدوجہد جاری ر کھے گا اور اقوام متحدہ کو مرکزی حیثیت دینے والے بین الاقوامی نظام کی پاسداری کرے گا۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں مسئلہ کشمیر اٹھانے پر ترک صدر طیب اردوان کا شکریہ ادا کیا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں استحکام و خوشحالی کو مسئلہ کشمیر سے الگ نہیں کیا جا سکتا، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود 80 لاکھ افراد مقبوضہ کشمیر میں محصور ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ طیب اردوان کے جنوبی ایشیا کے استحکام و خوشحالی کو مسئلہ کشمیر سے جدا نہ کرنے کے بیان کو قدرکی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ترکی کی غیر متزلزل حمایت حق خود ارادیت کی جائز و منصفانہ جدوجہد کرنے والے کشمیریوں کے لیے ہمت و حوصلے کا ایک ذریعہ ہے ۔یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان اِن دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود ہیں جہاں انہوں نے گزشتہ روز ترک صدر طیب اردوان سے ملاقات کی تھی۔ملاقات میں باہمی تعلقات اور خطے کی صورتحال پر گفتگو کی گئی تھی۔