محمد زبیرنوازشریف معاملے پرآرمی چیف سے 2بار ملے‘ پاک فوج۔کوئی ملاقات نہیں ہوئی‘ مریم نواز

125

اسلام آباد (آن لائن+صباح نیوز) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے انکشاف کیا ہے کہ سابق گورنر سندھ اور ن لیگ کے رہنما محمد زبیر نے آرمی چیف سے 2ملاقاتیں کیں جن میں نواز شریف اور مریم نواز کے عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔ بدھ کو نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ محمد زبیر نے پہلی ملاقات اگست کے آخری ہفتے جب کہ دوسری ملاقات 7ستمبر کو کی جس میں ڈی جی آئی ایس آئی بھی موجود تھے ۔انہوں نے واضح کیا کہ دونوں ملاقاتیں محمد زبیر کی درخواست پر ہی ہوئی جبکہ دونوں ملاقاتوں میں انہوں نے نواز شریف اور مریم نواز کے بارے میں ہی بات چیت کی تھی۔فوجی ترجمان نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ڈی جی آئی ایس آئی کی موجودگی میں واضح کیا کہ قانونی معاملات عدالتوں جبکہ سیاسی معاملات پارلیمنٹ میں ہی حل ہوں گے، ان معاملات سے پاک فوج کو دور رکھا جائے۔ دوسری جانب ن لیگ کی نائب صدرمریم نواز کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے کسی نمائندے نے آرمی چیف سے ملاقات نہیں کی۔اسلام آباد میں کمرہ عدالت میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی رہنماؤں کی ملاقات اسلام آباد میں نہیں بلکہ پنڈی میں ہوئی لیکن نوازشریف کے کسی نمائندے نے آرمی چیف سے ملاقات نہیں کی۔ مریم نواز کا کہنا تھاکہ گلگت بلتستان کا سیاسی معاملہ ہے جس کا تعلق عوامی نمائندوں سے ہے، یہ فیصلے پارلیمنٹ میں ہونے چاہئیں جی ایچ کیومیں نہیں، نہ ان معاملات پرسیاسی قیادت کوبلانا چاہیے نہ سیاسی قیادت کوخود جانا چاہیے، ان امورپربات کرنے کے لیے جس کو آنا ہے وہ پارلیمنٹ آئے۔ن لیگ کی نائب نے کہا کہنوازشریف کی صحت آپریشن کی متقاضی ہے لیکن جب تک کورونا ہے نوازشریف کا آپریشن نہیں ہوسکتا، نوازشریف کا امیون سسٹم کمزور ہے اور ان کا علاج جاری ہے۔قبل ازیں مریم نوازنے نوازشریف اور شہباز شریف کے درمیان کسی بھی قسم کے اختلافات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایک تھے، ایک ہیں اورہمیشہ ایک رہیں گے ،اِن کوتوڑنے کے خواب دیکھنے والے خود ٹوٹ جائیں گے۔ ایسے کئی آئے اورکئی گئے۔ شہباز شریف کوسالگرہ کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہبازشریف نے بھائی سے بلا خوف وفاداری نبھائی اوروہ میرے لییدوسرے باپ کا درجہ رکھتے ہیں۔ادھر سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی تصدیق کی ہے تاہم انہوں نے اس بات زور دیا ہے کہ یہ ان کی ذاتی ملاقات تھی جس کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے میرے ذاتی تعلقات ہیں اور ان سے میری 2 ملاقاتیں ہوئی ہیں البتہ میں نوازشریف یا پارٹی کے لیے کچھ مانگنے نہیں گیا تھا، میں نے کہا کہ میں یہاں کسی کے لیینہیں آیا۔ سابق گورنر کا کہنا تھا کہ کبھی ان معاملات پر آرمی چیف سے کوئی بات نہیں ہوئی اور سابق وزیراعظم نوازشریف یا ان کی صاحبزادی مریم نواز نے ملاقات کرنے کا نہیں کہا، اس طرح کی ملاقاتیں خفیہ ہوتی ہیں، سمجھ نہیں آتا فوجی ترجمان کو بات کرنے کی ضرورت کیوں پڑی۔محمد زبیرنے یہ بھی کہا کہ اگر معاملات طے کرنے ہوتے تو 2018ء سے پہلے ہی کرلیتے، ملاقات اور کھانے پر سیاست پر بات چیت ہوتی رہتی ہے، اتنے گھنٹے بیٹھے رہیں گے تو مریم اور نوازشریف پر بھی بات چیت ہوگی۔