ترک صدر کی  اسرائیل پرسخت تنقید، اسرائیلی مندوب برداشت نہ کرسکے، اجلاس سے واک آؤٹ

369

انقرہ:صدر رجب طیب ایردوان کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں  اسرائیل پر کڑی تنقید پر اسرائیلی سفیر کمرہ اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے،اردوان کا کہنا تھا کہ مقدس مقامات کے جانب بڑھتے گندے ہاتھوں کو روکنا ہو گا، ترکی فلسطینی عوام کی رضا مندی کیساتھ کھڑا ہے،اسرائیل  اقوام متحدہ اور عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیر رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیل کے اقوام متحدہ میں دائمی مندوب گیلاد نے، ایردان صدر ایردوان کے 75 ویں جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران اسرائیل کی فلسطین کے خلاف جارحانہ،  پر تشدد اور اپنے جائز حق سے باز رکھنے کی پالیسیوں  کا ذکر کرنے پر کمرہ اجلاس کو ترک کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ مقدس مقامات کی میزبانی کرنے والے القدس کے احترام  کی جانب بڑھنے والے گندے ہاتھوں کی جرات مندی ہر گزرتے دن بڑھتی جا رہی ہے،فلسطینی مظلوم عوام اسرائیل کی تمام تر جارحانہ، پر تشدد اور حوصلے پست کرنے کی پالیسیوں کے خلاف نصف صدی سے زائد عرصے سے مزاحمت کا مظاہرہ کرتے چلے آ رہے ہیں۔

ڈیل آف دی سینچری کےمعاہدے کے نام  تلے فلسطین پر مسلط کیے جانے کی کوشش ہونے والے ہتھیار ڈالنے کے منصوبے   کے مسترد کیے جانے پر اسرائیل نے ابک کی بار اپنے اتحادیوں کے ہمراہ  قلعے کو اندرونی طور پر فتح کرنے کی کاروائیوں میں تیزی لائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکی فلسطینی عوام کی رضا مندی نہ ہونے والے کسی بھی منصوبے کی حمایت نہیں کرے گا۔  بعض ممالک کا اس چال میں حصہ دار بننا اسرائیل  کی گندی چالوں میں معاونت فراہم کرنے سے بڑھ کر کوئی مفہوم نہیں رکھتا۔

اقوام متحدہ کی قرار دادوں  اور عالمی قوانین  کے منافی القدس میں سفارتخانے کھولنے کے ارادے کا اظہار کرنے والے  ممالک  مسئلہ فلسطین کو مزید گھمبیر بنانے  میں معاون ثابت ہو رہے ہیں،اس مسئلے کو صرف اور صرف 1967 میں وضع کردہ سرحدوں کی بنیاد پر دارالحکومت  مشرقی  القدس ہونے والی ریاست ِ فلسطین کے قیام کی بدولت ہی حل کیاجانا ممکن ہے، اس سے ہٹ کر تمام تر کوششیں بے معنی ، یکطرفہ  اور غیر منصفانہ ہیں۔