سندھ حکومت کی واحد پبلک ٹرانسپورٹ پیپلز بس سروس بند کردی گئی

162

کراچی (رپورٹ:منیر عقیل انصاری) سندھ حکومت کی واحد پبلک ٹرانسپورٹ پیپلز بس سروس بند کردی گئی ہیں، پیپلزپارٹی حکومت کا گزشتہ 15برس میں کراچی والوں کو 10 بسیں دے کر فخر کرنے اور شہر قائد پر احسان کا قصہ بھی تمام ہوگیا ہے۔

سندھ حکومت کے تعاون سے چلنے والی پیپلز بس سروس بند کردی گئی ہے، جبکہ محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ پیپلز بس سروس بند ہونے سے بے خبر ہے۔تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے مارچ2018میں ”پیپلز بس سروس‘ کے نام سے ایک نئی بس سروس شروع کی گئی تھیں، جو کہ قائد آباد سے ٹاور سفر کرتی تھیں، اس کا کرایہ 20سے50روپے تک مقرر کیاگیا تھا۔

دوردراز علاقوں کے رہائشیوں کیلئے یہ بس سروسز ایک نعمت سے کم نہیں تھیں، مردوخواتین مناسب کرائے میں، اپنے مطلوبہ مقامات تک آسانی سے پہنچ جاتے تھے۔ ان بسوں کے بند ہونے کی وجہ سے مسافروں کو اپنے مطلوبہ مقامات تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔

پبلک ٹرانسپورٹ کم ہونے کی وجہ سے پہلے ہی مسافر بسوں پر لٹک کر اور چھتوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ سندھ ریجنل ٹرانسپورٹ اٹھارٹی اس حوالے سے لاعلم ہے کہ آیا یہ بس سروسز بند کردی گئی ہیں یا نہیں؟ ا گر بند کردی ہے تو اس کے پیچھے کیا وجوہات ہے؟ اس حوالے سے سندھ حکومت کے سیکرٹری آر ٹی اے نذر شہوانی بھی بے خبر ہیں۔

واضح رہے کہ اس وقت کے صوبائی وزیر ٹرنسپورٹ سید ناصر حسین شاہ نے دو سال قبل یہ دعویٰ کیا تھا کہ پیپلز بس سروس کو عوام کی سہولت کیلئے شروع کیاگیاہے اور اس کی بسوں میں وقت کے ساتھ اضافہ کیاجائے گا، یہاں اضافہ تو دور کی بات، جو بسیں چل رہی تھیں وہ بھی اچانک بند ہوگئی ہیں۔

سائیں سرکار کا یہ عظیم کارنامہ ہے کہ کراچی کے عوام کیلئے 15سال میں چلائی گئی صرف 10 بسوں کی سروس بھی بند کردی گئی ہے، شہریوں کو سستی سواری کی سہولت صرف دو سال ہی میسر آئی ہے، مزید بسیں چلانے کا دعویٰ بھی پورا نہیں کیا گیا ہے۔صرف دو سال میں ہی پیپلز پارٹی حکومت نے بس سروس بند کردی ہے۔

پرائیوٹ سروس انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ہر ماہ لاکھوں روپے نقصان برداشت کررہے تھے، ڈیزل مہنگا ہونے کے باوجود کرائے نہیں بڑھائے گئے، 10 بسوں پر روزانہ 60 سے 80 ہزار روپے کا فیول لگتا ہے جبکہ کرایہ 20، 30 اور 50 روپے مقرر تھا۔ہم مسلسل نقصان برداشت کررہے تھے اور اب روٹس پر بسیں بند کردی ہیں،سندھ حکومت کے تعاون سے چلنے والی پیپلز بس سروس کی بندش کے بعد بسوں کو ہائی وے پر موجود نجی کمپنی کے دفتر منتقل کردیا گیا ہے۔

پیپلز بس سروس بند ہونے پر شہریوں نے شدید رد عمل کا اظہاراور سندھ حکومت کی کارکردگی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ 15 برس میں 10 بسیں دیں وہ بھی دو سال میں ہی بند کردیں، شہر کی پبلک ٹرانسپورٹ کا برا حال ہے۔پیپلز بس سروس کی بندش پر کراچی کے شہری کہتے ہیں صرف دکھاوے کیلئے بسیں چلائیں، مقصد پورا ہوگیا تو بسیں بند کردیں، سندھ حکومت نے عوام کو کچھ نہیں دیا ہے۔

سند ھ ریجنل ٹرانسپورٹ اٹھارٹی کے سیکر ٹری نذر سہوانی نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز بس سروس بند ہونے کے حوالے سے لا علمی کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا کہ میں معلومات حاصل کرنے کے بعد ہی آپ کو تفصیلات سے آگاہ کر سکوں گا،ابھی صرف یہ بتا سکتا ہوں کہ پیپلز بس چلانے والی کمپنی بس چلانا نہیں چاہتی ہیں۔

اس حوالے سے صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ کے ترجمان عمران سانگی نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ کوروناوائرس کی وبا کی وجہ سے پیپلز بس سروس کو عارضی طور پر بند کیا گیا تھا تاہم اب بس سروس بحال کردی گئی ہے اور یہ بسیں کراچی،لاڑکانہ سمیت سندھ کے دیگر شہروں میں بھی چل رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے ایک روٹ پر10پیپلز بسیں چلتی ہیں بعض بسیں خراب ہونے کی وجہ سے سڑکوں پر نہیں آپاتی ہے اسی وجہ سے یہ بسیں کم نظر آتی ہیں۔