شاہ عبد العزیز :اسلامی سزائوں نے امن قائم کیا

121

شاہ عبدالعزیز19ذی الحجہ 1293ھ مطابق 1876ء کو ریاض شہر میں پیدا ہوئے تھے۔ شاہ عبدالعزیز کو بچپن سے ہی گھڑ سواری کا بیحد شوق تھا۔ وہ تلوار گلے میں ڈال کر گھوڑے پر سوار ہوکر ادھر اُدھر گھومنا پھرنا پسند کرتے تھے۔شاہ عبدالعزیز میں قائدانہ خوبیاں و دیعت تھیں۔ اسی وجہ سے وہ جدید ریاست کے قیام کا مشن احسن طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب ہوئے۔ شاہ عبدالعزیز اسلامی عقائد کے پابند تھے۔ عقائد کا دفاع پوری قوت سے کیا کرتے تھے۔ زندگی کے تمام شعبوں میں اللہ کی شریعت کے نفاذ پر پختہ ایمان رکھتے تھے۔ والدین کی تابعداری، خاندان سے وفاداری، بھلائی اور علم سے محبت ، بہادری اور فیاضی ان کی نمایاںخصوصیات تھیں۔
شاہ عبدالعزیز بہت ساری خوبیوں کے مالک تھے۔انہوں نے مختلف علاقوں، قبیلوں اور عوام کو جو طوائف الملوکی میں مبتلاتھے ایک اکائی میں تبدیل کردیا۔ انہوں نے وسیع و عریض علاقے میں امن و امان کا بول بالا کردیا۔ اپنے دشمنوں کو دوستوں میں بدلنے کا ہنر جانتے تھے۔ربیع الاول1373ھ مطابق9نومبر 1953ء کو شاہ عبدالعزیز کا انتقال ہوگیا۔انہوں نے ایک طرف تو ایمان اور علم سے مسلح ریاست کی داغ بیل ڈالی تھی ۔ بانی مملکت کے بعد ان کے جانشین بیٹوں شاہ سعود، شاہ فیصل، شاہ خالد، شاہ فہد انکے مشن کو آگے بڑھاتے رہے۔ آجکل شاہ سلمان بن عبدالعزیز فرمانروا اور ان کے فرزند محمدبن سلمان ولی عہد ہیں ۔
حاجیوں کیلئے امن و امان کارنامہ
سعودی عرب کے شہری ، مقیم غیر ملکی حرم شریف کے مہمان اور مسجد نبوی شریف کے زائرین مملکت میں امن و امان کو مثالی مانتے اور سمجھتے ہیں کہ 24گھنٹے اس امن کی برکتوں سے فیض یاب ہورہے ہیں۔آج جو امن و امان مملکت میں ہماری زندگی کا معمول بنا ہوا ہے بانی مملکت شاہ عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کے دور سے قبل ایسا نہیں تھا۔ جزیرہ نما عرب کا یہ علاقہ بدامنی کا شکار تھا۔ یہاں ڈاکہ زنی، رہزنی اور خونریزی کا سلسلہ عام تھا۔حج پر خطر سفر تھا۔ حج پر جانے والے جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلتے۔ یہاں حاجیوں کا مال و متاع لوٹنے اور انکی جان پر ہاتھ صاف کرنے والے پیشہ ور گروہ سرگرم عمل تھے۔ سلطنت عثمانیہ اپنے تمام تر کروفر کے باوجود حج راستوں کو محفوظ بنانے میں ناکام رہی تھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ سلطنت عثمانیہ نے حاجیوں کے قافلوں کے ہمراہ فوجی دستے تعینات کررکھے تھے اور آخر میں سلطنت عثمانیہ کے کرتا دھرتا حاجیوں کو چوروں اور ڈاکوؤں کے شر سے محفوظ کرنے کے لئے انہیں تاوان دینے پر مجبور ہوگئے تھے۔
بانی مملکت شاہ عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ آئے تو انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ ’’بدامنی، بدنظمی اور جرائم کا دور ختم ہوچکا ہے ، اب بدامنی کرنے والوں کو اسلامی شریعت کی مقررہ سزاؤں کا سامنا کرنا پڑیگا۔ جو بھی بدامنی کا مرتکب ہوگا اسے عبرتناک سزا دی جائیگی۔ بہت جلد بدامنی پھیلانے والوں کو یہ ادراک و احساس ہوگیا کہ معاملہ انکے تصورسے کہیں بڑھ کر ہے۔ اب نئے عہد کا آغاز ہوچکا ہے اور انکا واسطہ ایسے رہنما سے پڑ رہا ہے ، جو وہی کرتا ہے جو کہتا ہے۔ چند برسوںمیں مملکت کے مشرق، مغرب، شمال جنوب ہر علاقے میں امن وامان کا بسیرا ہوگیا۔
مملکت میں مقیم غیر ملکی دن رات میں کسی بھی وقت مملکت کے ایک شہر سے دوسرے شہر ، ایک قریہ سے دوسرے قریہ اور ایک قصبے سے دوسرے قصبے اور ایک علاقے سے دوسرے علاقے بے خوف وخطر ہوکر سفر کرتے ہیں۔ مشرق میں خلیج عرب سے لیکر مغرب میں بحر احمر تک شمال میں اردن اور شام سے متصل سرحدوںسے لیکر جنوب میں یمن اور عمان تک پورا علاقہ امن وامان سے معمور ہوچکا ہے۔ یہاں وسیع و عریض صحراء بھی ہیں۔ پرخطر بلند و بالا پہاڑی علاقے بھی ہیں۔ طویل پٹی والا ساحل بھی ہے۔ گھنے جنگل بھی ہیں اور بہت بڑا غیر آباد علاقہ بھی ہے۔
ایک سعودی عہدیدار نے ایک بڑے امریکی عہدیدار سے ایک خاص موقع پر خاص ماحول میں ایک سوال کیا تھا: سوال یہ کیا تھا کہ ہم یہاں سعودی عرب میں خالص سونے سے بھرا ٹرک مدینہ منورہ سے ریاض کسی بھی وقت حفاظتی دستے کے بغیر بے خوف و خطر بھیج دیتے ہیں۔ کیا آپ امریکہ میں ایسا کرسکتے ہو؟ سوال یہ ہے کہ یہ امن و امان جس سے ہم فیض یاب ہورہے ہیںکیا یونہی حاصل ہوگیا ہے۔ سعودی اور مقیم غیر ملکی جس سکون اور اطمینان سے یہاں زندگی گزار رہے ہیں یہ کسی حکمت عملی کے بغیر یونہی چل رہا ہے۔ نہیں، اسکے بہت سارے اسباب ہیں۔ شاہ عبدالعزیز نے اس حوالے سے ایک مرتبہ کہا تھا کہ اس ملک پر طاقتور حکمران اقتدار میں رہ چکے ہیں لیکن وہ مکہ مکرمہ اور جدہ کے راستے کو کبھی محفوظ نہ کرسکے تو مملکت کے دیگر علاقوں کو کس طرح تحفظ فراہم کرسکتے تھے۔ آج جو ملک کے طول و عرض میں امن و امان کا بسیرا نظر آرہا ہے اور جسے ہر شہری اور مقیم غیر ملکی محسوس کررہا ہے ۔