سانحہ بلدیہ فیکٹری ، زبیر چریا اور بھولا کو سزائے موت ، متحدہ بچ گئی

147
کراچی: سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس8برس بعد نمٹادیا گیا۔فیکٹری تاحال ویران دکھائی دے رہی ہے جبکہ سزائے موت پانے والے مجرموں کے فائل فوٹو

 

کراچی(نمائندہ جسارت)کراچی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 8 سال بعد سانحہ بلدیہ فیکٹری کا فیصلہ سنا دیا۔عدالت نے بھتا نہ دینے پربلدیہ فیکٹری میں آگ لگا کر 264افراد کو قتل کرنے کے اس مقدمے میں ایم کیوایم کے سیکٹر انچارج رحمان بھولا اور زبیر چریا کو 264 مرتبہ سزائے موت دینے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں 4 ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا جن میں ایم کیو ایم رہنما اورسابق صوبائی وزیر رؤف صدیقی، ادیب خانم، علی حسن قادری اور عبدالستار شامل ہیں۔عدالت نے 4 ملزمان فضل احمد، علی محمد، ارشد محمود اور
فیکٹری منیجر شاہ رخ کو بھی سہولت کاری کے جرم میں 264بار عمر قید کی سزا سنائی ہے۔عدالت نے واردات کے ماسٹر مائنڈ اور اس وقت ایم کیوایم تنظیمی کمیٹی کے سربراہ حماد صدیقی اور علی حسن قادری کو اشتہاری قرار دیا ہے اور ان کے دائمی وارنٹ جاری کردیے ہیں۔انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد 2 ستمبر کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔عدالت نے 270 صفحات پر مشتمل کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رحمان بھولا اور زبیر چریا کو 264 افراد کے قتل کے جرم میں 264 مرتبہ سزائے موت دی جائے۔حکم نامہ کے مطابق 60 لوگوں کو زخمی کرنے کے جرم میں 10، 10 سال قید اور ایک، ایک لاکھ جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔تحریری حکم نامے میں 264 جاں بحق افراد کے ورثا کو 2، 2 لاکھ روپے دینے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔مجرمان پر بھتا خوری کے الزم میں 10، 10 سال قید اور 1، 1 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ فیکٹری میں آگ لگی نہیں بلکہ لگائی گئی تھی،سہولت کاروں نے کیمیکل کے ساتھ مجرموں کو فیکٹری میں داخل ہونے میں مدد کی اور اسی کیمیکل کے استعمال سے 264 جانوں کا نقصان ہو ا ہے۔تحریری حکم نامہ میں کہا گیا کہمجرمان لواحقین کو 27 ، 27 لاکھ روپے دیت بھی ادا کریں گے۔عدالت نے مجرم شاہ رخ، علی محمد، فضل محمد اور ارشد محمود کی ضمانت منسوخ کرتے ہوئے انہیں جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔تحریری حکم نامے کے مطابق رؤف صدیقی، حسن قادری، ڈاکٹر عبدالستار اور ادیب خانم کے خلاف استغاثہ جرم ثابت نہیں کر سکے،چاروں ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر رہا کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ اس مقدمے میں ابتدائی طور پر علی انٹر پرائز فیکٹری کے مالکان عبدالعزیز بھائیلہ ان کے 2بیٹوں ارشد اور شاہد بھائی سمیت جنرل منیجر اور چار چوکیداروں پر غفلت کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا تاہم اس مقدمے میں اس وقت دوسرا رخ اختیار کیا جب 2015 ء میں رینجرز کی جانب سے ہائی کورٹ میں جے آئی ٹی رپورٹ پیش کی گئی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھتا نہ ملنے پر فیکٹری کو آگ لگائی گئی تھی اس عمل کو دہشت گردی قرار دیا گیا۔ 2016 ء میں دوبارہ تحقیقات کے بعد پولیس نے دوبارہ مقدمہ درج کیا، اسی سال کے آخر میں ایم کیو ایم کے سیکٹر انچارج رحمان بھولا کو بیرون ملک سے گرفتار کر کے لایا گیا۔عبدالرحمن عرف بھولا کے بیان کے بعد سابق صوبائی وزیر رؤف صدیقی کا نام مقدمے میں شامل کیا گیا تھا، رحمان بھولا نے مجسٹریٹ کے روبرو بیان میں کہا تھا کہ حماد صدیقی کے حکم پر اس نے زبیر چریا کو آگ لگانے کے لیے کہا تھا اس کے بعد اس کو معلوم ہوا کہ رؤف صدیقی نے مالکان کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے اور اس مقدمے کے خاتمے کے لیے 40 سے 50 ملین روپے طلب کیے ہیں۔ اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر ساجد محبوب نے دلائل دیے کہ رؤف صدیقی نے دباؤ ڈال کر فیکٹری مالکان کے خلاف ہی مقدمہ درج کرایا۔ ملزم عبدالرحمن بھولا نے بھی بیان میں اعتراف کیا تھا کہ رؤف صدیقی اور حماد صدیقی نے متاثرین اور مالکان کے درمیان معاملہ حل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا اور سیٹیلمنٹ کے لیے فیکٹری مالکان سے 5کروڑ روپے وصول کیے۔فیکٹری مالک ارشد بھائلہ نے بھی اپنے بیان میں رؤف صدیقی کا نام لیا تھا۔فیکٹری میں آتشزدگی کے واقعے پر بنائی گئی جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق یہ حادثہ نہیں ’دہشت گردی‘ تھی اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی کراچی کی تنظیمی کمیٹی کے سربراہ حماد صدیقی کی ’ایما پر ایم کیو ایم کے کارکنوں نے یہ اقدام اٹھایا تھا۔ جے آئی ٹی واقعے کے ڈھائی برس بعد یعنی جون 2015 ء میں بنائی گئی تھی اور تقریبا 5برس بعد رواں سال منظر عام پر آئی۔اس جے آئی ٹی نے پولیس کی تحقیق پر بھی کئی سوالات اٹھائے اور کہا ہے کہ تحقیق غیر پیشہ وارانہ طریقے سے کی گئی، ایف آئی آر ’بے ایمانی‘ سے دائر کی گئی اور اس میں اندرونی و بیرونی دباؤ کا عمل دخل رہا جس نے ’دہشت گردی‘ کے واقعے کو ایک عام قتل کی شکل دی لہٰذا پہلے سے دائر ایف آئی آر واپس کی جائے اور نئے سرے سے ایف آئی درج کی جائے۔جے آئی ٹی کے سامنے علی انٹرپرائز کے مالکان ارشد بھائیلہ اور شاہد بھائیلہ نے دبئی میں بیان ریکارڈ کروایا کیونکہ دونوں بھائی اس واقعے کے چند ماہ بعد دبئی منتقل ہو گئے تھے۔ بیان کے مطابق واقعے سے دو تین ماہ قبل مئی، جون سنہ 2012 کو شاہد بھائیلہ نے ایم کیو ایم بلدیہ سیکٹر کے انچارج اصغر بیگ کے بھائی ماجد بیگ سے پروڈکشن منیجر منصور کے دفتر میں ملاقات کی تھی۔ماجد نے کہا کہ سیکٹر انچارج اب ہم سے کروڑوں روپے لینے کی بات کر رہے ہیں۔ بھائیلہ کے مطابق انہوں نے اس کو ’بھتے میں اضافے کی کوشش‘ سمجھ کر نظر انداز کیا۔ اسی عرصے میں اصغر بیگ کو ہٹا کر رحمن بھولا کو بلدیہ سیکٹر کا انچارج مقرر کیا گیا۔‘ایک روز فیکٹری میں رحمان بھولا نے کار کے سامنے آ کر دھمکی دی کہ بھتے کا معاملہ حل کریں اور ایم کیو ایم کی کراچی میں تنظیمی کمیٹی کے سربراہ حماد صدیقی سے رابطہ کریں۔ اس نے 20 کروڑ روپے یا فیکٹری میں حصہ دینے کی بات بھی کی۔ملزم رضوان قریشی نے جے آئی ٹی کو بتایا کہ پارٹی کے مرکزی رہنما حماد صدیقی نے فرنٹ مین رحمان بھولا کے ذریعے 20 کروڑ روپے بھتا مانگا تھا۔فیکٹری مالکان نے اس سے بلدیہ کے سیکٹر انچارج اصغر بیگ کو آگاہ کیا جو اپنے بھائی ماجد بیگ سمیت انہیں عزیز آباد میں نائن زیرو لے گئے جہاں وہ کراچی تنظیمی کمیٹی یعنی کے ٹی سی کے سربراہ حماد صدیقی اور فاروق سلیم سے ملے اور بتایا کہ مالکان پارٹی کے ہمدرد ہیں اور انہیں بھتے کے بارے میں آگاہ کیا۔اسی دوران ان میں تلخ کلامی ہوئی، حماد صدیقی اور فاروق نے اس کو ’پارٹی پالیسی‘ قرار دیا اور مطالبے سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا۔ کچھ دنوں بعد حماد صدیقی نے سیکٹر انچارج اصغر بیگ کو معطل کر دیا اور جوائنٹ سیکٹر انچارج رحمن بھولا کو سیکٹر انچارج بنا دیا اور رحمن بھولا کو 20 کروڑ روپے بھتہ وصول کرنے کا حکم دے دیا۔اکاؤنٹنٹ عبدالمجید نے اپنے بیان میں جے آئی ٹی کو بتایا کہ واقعے والے روز رات کو ساڑھے آٹھ بجے کے قریب شاہد بھائیلہ نے دفتر سے فائل لانے کے لیے کہا جو گودام کے ویئر ہاؤس کے قریب واقع تھا۔ اسی دوران اس نے ایک عجیب سے بْو محسوس کی جو اس سے قبل کبھی محسوس نہیں کی تھی، وہ دفتر سے باہر آیا تو اس نے آگ کی چنگاریاں دیکھیں اور پلک جھپکنے میں شعلے بلند ہو گئے، وہ خوف زدہ ہو گیا اور انتظامیہ کے دفاتر کی طرف بھاگا۔ڈائریکٹر سٹاف کے ساتھ پہنچا اور حکم دیا کہ مین سوئچ آف کر دیں تاکہ شارٹ سرکٹ سے بچا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں گرمائش اس قدر تھی کہ کھڑا ہونا دشوار تھا۔پروڈکشن منیجر محمد منصور نے بھی اس بیان کی توثیق کی اور جے آئی ٹی کو بتایا کہ 11 ستمبر کو وہ ارشد اور شاہد بھائلہ کے دفتر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ عبدالمجید چلایا کہ فیکٹری میں آگ لگ گئی ہے جب دفتر سے باہر آئے تو آگ پھیل چکی تھی عبدالمجید کو فائر بریگیڈ لانے کے لیے بھجوایا گیا جو ڈیڑھ گھنٹہ گزرنے کے باوجود نہیں پہنچی۔فیکٹری کے گیٹ کیپر ارشد محمود نے جے آئی ٹی کو بتایا کہ وہ تقریباً رات کو 8بجے فیکٹری کے فینیشنگ ڈپارٹمنٹ میں ملازم زبیر عرف چریا سے ملے۔اس وقت زبیر 5دیگر لوگوں کے ساتھ تھا جن میں وسیم دہلوی بھی شامل تھے جبکہ دیگر کو وہ نہیں جانتا۔ ‘زبیر نے کہا کہ انہیں واش رومز کی طرف لے جاؤ کچھ دیر کے بعد زبیر بھی آ گیا اور اس نے سگریٹ میں بھری ہوئی چرس دی۔ چونکہ فیکٹری میں سگریٹ پینا منع ہے تو میں ڈر گیا کہ کوئی رنگے ہاتھوں پکڑ کر انتظامیہ کے حوالے نہ کر دے۔’زبیر نے سیاہ رنگ کے لفافے اپنے دوستوں کو دیے (جس میں کوئی مواد موجود تھا)، جو زبیر نے ویئر ہاؤس میں پھینکے۔ 10سیکنڈ میں آگ بھڑک اٹھی۔ تمام افراد ویئر ہاؤس سے نکل گئے۔جے آئی ٹی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ارشد محمود نے 15 سے 20 ملازمین کے ساتھ آگ بجھانے کی کوشش کی لیکن آگ قابو سے باہر ہو گئی۔ اس نے دوبارہ دو تین منٹ کے بعد زبیر کو دیکھا جب آگ دوسری منزل پر پہنچ گئی تو اس نے مالکان کو یہ کہتے سْنا کہ سامان نہ بچاؤ، لوگوں کی زندگیاں بچاؤ۔جے آئی ٹی کو دیے گئے بیان میں ارشد محمود نے مزید کہا کہ وہ فیکٹری کے دوسرے بلاک کی طرف دوڑے لیکن سیکنڈ فلور پر سیڑھیوں کا راستہ بند تھا جبکہ کینٹین کی طرف جانے والے دروازے بھی بند تھا، کسی نے اس کو کینٹین کی چابی دی اور جب اس نے دروازے کھولا تو حیران ہوا کہ زبیر اور کچھ اجنبی موجود تھے۔پروڈکشن منیجر محمد منصور نے بھی اپنے بیان میں اس صورتحال کی تصدیق کی اور کہا کہ فیکٹری ورکرز کاشف اور شانی نے زبیر اور وسیم دہلوی کو چند اجنبیوں کے ساتھ گودام میں دیکھا جہاں آگ بھڑکی تھی اور کچھ ملازمین نے انہیں چھت پر بھی دیکھا۔جے آئی ٹی نے اپنے رپورٹ میں بیان کیا ہے کہ فیکٹری کے دروازے بند نہیں رہتے تھے ماسوائے گودام کے جہاں سے ڈینم کی سامان کی منتقلی ہوتی تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فیکٹری سے محفوظ نکلنے والے مزدوروں نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔