جان بچانے والی مزید 94 ادویات مہنگی ، کورونا ویکسین کی قیمت 8400 روپے مقرر

148

 

اسلام آباد(نمائندہ جسارت)وفاقی کابینہ نے جان بچانے والی 94 ادویات کی قیمتیں بڑھانے اور کورونا ویکسین کی قیمت 8ہزار 400روپے مقرر کرنے کی منظوری دے دی۔منگل کو وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس کے ایجنڈے میں 17 نکات شامل تھے۔ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز کے ہمراہ پریس بریفنگ میں وزیراعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے ادویات مہنگی کرنے کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے ایمرجنسی میں استعمال ہونے والی 94 ادویات کی قیمتیں بڑھانے کی منظوری دے دی ہے جب کہ کورونا ویکسین کی قیمت 8ہزار400 روپے رکھی گئی ہے۔وزارت صحت کے ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جن ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دی گئی ہے ان میں ہائی بلڈ پریشر، کینسر، امراض قلب کی ادویات و اینٹی ریبیز ویکسین شامل ہیں۔ ڈرگ پالیسی 2018 ء میں ان ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی سفارش کی گئی تھی۔وزارت صحت کے
ذرائع نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان ادویات کی قیمتوں میں کئی سال سے اضافہ نہیں کیا گیا تھا۔ قیمتوں میں اضافہ ان ادویات کی عدم دستیابی کی بنا پر کیا گیا ہے۔ عدم دستیابی کے باعث یہ ادویات اصل قیمتوں سے زائد داموں میں فروخت ہورہی تھیں۔ وفاقی کابینہ نے ان ادویات کی قیمتیں ریشنلائز کرنے کی اجازت دی ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میںاپوزیشن کی اے پی سی کا بیانیہ مستردکرتے ہوئے قومی سلامتی کے اداروں پر تنقید پراظہار تشویش کیا گیا۔اجلاس میں چیئرمین اوگرا اور ممبر اوگرا کی تعیناتی موخرکردی گئی ،چیئرمین اوگرا کی آسامی کے لیے دوبارہ اشتہارجاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جنسی زیادتی میں ملوث درندوں کو سخت سزائیں دینے کا بل لانے کا بھی اعلان کیا گیا،اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔اجلاس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مذہبی معاملات پر وزرا کوئی بیان جاری نہ کریں ،حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،عوام اپوزیشن کے لییسڑکوں پر نہیں نکلیں گے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی تقریر نشر کرنے کی اجازت دی تا کہ عوام کو ان کے مزید جھوٹ اور بیماری کا پتا چل سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چھوڑ سکتا ہوں لیکن کسی کو بھی این آر او نہیں دوں گا ، ملک کے لیے مشکل فیصلے کیے اوراب ان فیصلوں کے اثرات آنا شروع ہو گئے ہیں،ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے جس کی تکلیف اپوزیشن کو ہو رہی ہے ۔یہ جلسے جلوس کریں،ریلیاں نکالیں، لانگ مارچ کریں ،حکومت کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے ،پہلے بھی مافیا کا مقابلہ کیا اور اب بھی کروں گا،کئی سال پہلے کہا تھا کہ یہ دونوں پارٹیاں اندر سے ایک ہیں اور اس کا عملی نمونہ قوم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔