یورپی یونین نے دفاعی کمپنی پر پابندی لگادی،ترکی برہم

143

برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپی یونین نے اقوام متحدہ کی جانب سے لیبیا کو ہتھیاروں کی ترسیل پرعائد پابندی کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں اور افراد پر پابندی عائد کردی، جن میں ترکی کی دفاعی سازوسامان بنانے والی کمپنی سرفہرست ہے۔ یورپی وزرائے خارجہ نے ترکی، قزاقستان اور اردن کی 3 کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو لیبیا کو اسلحہ فراہم کر رہی ہیں، جب کہ 2 افراد بھی اس پابندی کی زد میں آئے ہیں، جو لیبیا میں جنگی ساز و سامان کی تیاری کے لیے سازوسامان کی فراہمی میں ملوث رہے ہیں۔ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ تُرک کمپنی اوراسیا شپنگ کے ایک جہاز کا نام سرکن ہے، جس نے مئی اور جون میں ہتھیاروں پر پابندی کے باوجود لیبیا کے لیے فوجی سازو سامان پہنچایا۔ یورپی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں طے کیا گیا ہے کہ ان کمپنیوں کے یورپی یونین میں موجود اثاثوں کو منجمد اور یورپی یونین کی فنانس مارکیٹ سے علاحدہ کیا جائے گا، جب کہ ان کو یورپی بلاک میں کسی ملک کے ساتھ کاروبار کرنے سے روکا جائے گا۔ دوسری جانب ترکی نے کہا ہے کہ تُرک کمپنی اوراسیا شپنگ پر یورپی یونین کی طرف سے لگائی جانے والی پابندیاں یورپ کے دوہرے معیار اور متعصبانہ رویوں کی عکاس ہیں۔ تُرک وزارت خارجہ نے اوراسیا شپنگ پر عائد کی گئی یورپی پابندیوں کو ایک غلط فیصلہ قرار دیا ہے۔ ترکی نے س فیصلے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب مشرقی بحیرۂ روم میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کوشش کی جارہی ہے، ایسے غلط فیصلے کرنا مناسب نہیں ہے۔ بیان میں یورپی یونین پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ اس کے لیبیا کے نیول مشن ’’آیرینی‘‘ نے خصوصاً متحدہ عرب امارات کی طرف سے خلیفہ حفتر کو بھیجے جانے والے ساز و سامان کو نظر انداز کیا ہے۔ بیان کے مطابق یورپی یونین کے مشن آیرینی کے تحت حفتر کی حمایت کی جا رہی ہے، جب کہ اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ لیبیا کی حکومت کو سزا دی جا رہی ہے۔ لیبیا میں قائم قومی حکومت کو ترکی اور قطر کی حمایت حاصل ہے، جب کہ حفتر کو متحدہ عرب امارات ، فرانس، مصر اور روس کی حمایت حاصل ہے۔ تُرک وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ اگر یورپی یونین خطے میں سیکورٹی اور استحکام چاہتی ہے تو اسے اپنے متعصبانہ رویے کو بدلنا ہوگا او ترکی کے ساتھ بات چیت کرنا ہوگی۔