’’گلگت بلتستان‘‘ پر بھارتی حملہ، پاکستان کا فیصلہ

2211

اللہ کے سوا اس کائنات کا کوئی مالک نہیں ہے اور نہ ہو گا۔ ’’نعمت اللہ شاہ ولی‘‘ کا آٹھ سو پچاس سال قبل کا ایک شعر آج ٹھیک ہوتا نظر آرہا ہے کہ:
قدرت حق میکند غالب چناں مغلوب دا
از عمق بینم کہ مسلمان کامراں پیدا شود؟
ترجمہ: اللہ تعالیٰ اس طرح اپنی قدرت سے مغلوب کو غالب کر دے گا۔ میں گہری نظر سے دیکھ رہا ہوں کہ مسلمان فاتح اور کامران ہوں گے۔ پاکستان کی مدد کے لیے شمال کی طرف سے آنے والا ’’لشکرِچائنا‘‘ ہی کی طرف اشارہ معلوم ہوتا تھا۔ اب چین کی افواج پاکستان میں ’’لداخ گلوان ویلی‘‘ میں موجود ہیں۔ اس لیے پچھلے چار اشعار کی پیش گوئی مستقبل قریب سے قریب تر ہو تی جارہی ہے۔
اطلاع یہ ہے اس وقت بھارت امریکا سے F- 5 کے حصول کے لیے کوشاں ہے جس کی تفصیل میں اپنے گزشتہ کالم میں دے چکا ہوں۔ اب یہ بھی اطلاعات ہیں کہ متحدہ عرب امارات میں اسرائیل اپنے جاسوسی آلات نصب کرنے میں مصروف ہے جہاں سے پاکستان اور چین کی جاسوسی کی جائے گی۔ اسرائیل پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے لیے بھارت کو ایک دفاعی نظام بھی فراہم کر رہا ہے جو اس نے امریکا کی مدد سے تیار کیا ہے۔ امریکا اسرائیل کے کہنے پر بھارتی وزیر اعظم مودی نے ’’گلگت بلتستان‘‘ کی رٹ لگا رکھی اور وہ اس بات کا اعلان کر رہے ہیں پاکستان ’’گلگت بلتستان‘‘ سے بھارت پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت ’’گلگت بلتستان‘‘ پر حملہ کر ے گا۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے گزشتہ ماہ ’’پاکستان ائر فورس نے اپنی فضائی مشقیں گلگت بلتستان میں کی تھیں جن پر بھارت نے پُروپیگنڈا شروع کر دیا کہ پاکستان چین کے ساتھ مل کر بھارت پر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ بھارت کی اصل پریشانی کیا ہے؟
لیکن قبل اس سلسلے میں سابق عبوری وزیرِاعظم معین قریشی نے اپنے اقتدار کے دوران اُس وقت کے قائم مقام صدر وسیم سجاد کو ایک سمری بھیجی تھی۔ جس میں انہوں نے گلگت بلتستان کو خودمختاری دینے کے لیے صدر سے منظوری کی درخواست کی تھی۔ قائم مقام صدر وسیم سجاد نے اس سمری کے قانونی نکات پر اپنی بھرپور رائے دی اور اس سلسلے میں قوانین بھی بنا کر معین قریشی کو فائل بھیج دی تھی جس میں انہوں نے معین قریشی سے کہا تھا کہ آپ اس کام کو کرنے کا اختیار نہیں رکھتے ہیں۔ اس لیے آپ یہ کام منتحب حکومت کو کرنے کے لیے چھوڑدیں۔ معین الدین احمد قریشی نگراں وزیراعظم کی حیثیت سے 18 جولائی 1993 سے 19 اکتوبر 1993ء تک اقتدار میں رہے۔
’’گلگت بلتستان‘‘ تو ایک طویل عرصے سے گم شدہ کہانی کے طور پر موجود تھا لیکن اب یہ علاقہ اہمیت حاصل کر گیا جب چین نے ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ منصوبے کا اعلان کیا۔ گلگت بلتستان ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ منصوبے کا گیٹ وے بن چکا ہے جہاں سے لداخ اور گلوان ویلی کا راستہ نکلتا ہے۔ بھارت اور امریکا سی پیک منصوبے کے گیٹ وے کو ناکام بنانے کے لیے گلگت بلتستان کی بقا اور سلامتی کو ایک مرتبہ پھر تباہ کرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں اسی وجہ سے آج کل بھارتی ایوانوں اور میڈیا میں گلگت بلتستان کا بڑا شور کیا جارہا ہے اور بار بار بھارت یہ کہہ رہا ہے پاکستان کشمیر پر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ پاکستان نے اس سلسلے میں بھارت کو بتادیا ہے کہ اگر بھارت نے گلگت بلتستان پر حملہ کیا تو اس کے جواب میں پاکستان کشمیر کا محاذ بھی کھول دے گا۔ گلگت بلتستان ریاست جموں کشمیر و اقصائے تبت کا شمالی علاقہ ہے۔ 1840 سے پہلے یہ علاقے مختلف ریاستوں میں بٹے ہوئے تھے جن میں بلتستان گلگت شامل ہیں اس کے علاوہ ہنزہ، نگر الگ خود مختار علاقے تھے۔
ان علاقوں میں گلگت اور بلتستان کو جنرل زور آور سنگھ نے فتح کر لیا اور ریاست جموں کشمیر میں شامل کر دیا۔ گلگت اور بلتستان۔ 1848ء میں کشمیر کے ڈوگرہ سکھ راجا نے ان علاقوں پر قبضہ کر لیا اور جب پاکستان آزاد ہوا تو اس وقت یہ علاقہ ریاست جموں و کشمیر و اقصائے تبت میں شامل تھا۔ 1948ء میں اس علاقے کے لوگوں نے خود لڑ کر آزادی حاصل کی اس آزادی کا آغاز گلگت سے ہوا اور یکم نومبر 1947 کو گلگت پر ریاستی افواج کے مسلمان افسروں نے قبضہ کر لیا، اس کے بعد سے علاقہ پاکستان میں ہے۔ زرداری حکومت نے اس خطے کو نیم صوبائی اختیارات دیے۔ یہ واحد خطہ ہے جس کی سرحدیں چار ملکوں سے ملتی ہیں 71 19ء کی جنگ میں اس کے کچھ سرحدی علاقوں میں جھڑپیں ہوئیں جس میں کئی دیہات بھارتی قبضے میں چلے گئے اس وجہ سے یہ علاقہ دفاعی طور پر ایک اہم علاقہ ہے نیز یہیں سے تاریخی شاہراہ ریشم گزرتی ہے۔ اب اسی علاقے کو سی پیک منصوبے کا گیٹ وے کہا جارہا ہے اس لیے بھارت اس پر قابض ہونے کی تیاری کر رہا ہے۔ اسی لیے چین اس کو بچانے کے لیے پہلے لداخ اور اس کے بعد پینگونگ جھیل پر اپنا قبضہ مکمل کرنے کی کوشش کر رہا ہے ایک عالمی اخبار نیول نیوز کا کہنا ہے کہ! China Strengthens Inland on India Border
اخبار تفصیل میں لکھتا ہے کہ: چین نے Type-928D assault Boat پینگونگ جھیل کے اندر اُتار دیا ہے جس میں 60نیول سیلرز اور افسران سوار ہیں جھیل کے ارد گرد بوتل نیکس ہے اور ایک ہزار مربع کلومیٹر کے میدانی علاقے کو بھارتی افواج کی آمد رفت کے لیے بند کر دیا گیا۔ پینگونگ جھیل سطح سمندر سے 18ہزار فٹ کی بلندی پر ہے اور اس علاقے میں بھارت کی نقل و حمل مکمل طور سے بند ہو چکی ہے۔ امریکا اور بھارت اپنی تمام تر کوشش کے بعد بھی چین کو ایک انچ بھی پیچھے ہٹانے میں مکمل طور سے ناکام نظر آرہے ہیں۔ پاکستان نے ’’گلگت بلتستان‘‘ کو صوبہ بنانے کے لیے سرکاری اعلان بھی کر دیا ہے اور اس سلسلے میں ریاست نے اپوزیشن کو بھی اعتماد میں لے لیا ہے۔ لیکن دوسری جانب ایک ایسے موقع پر نواز شریف کو ’’پاکستان کے عوام جمہوریت اور پاکستان کی بقا اور سلامتی کشمیریوں کا درد اور پاکستان کے سعودی عرب کے تعلقات کا بھی شدت سے خیال آگیا‘‘۔ جب بھارت کا وزیرِ اعظم مودی کشمیریوں پر بد ترین ظلم کر رہا تھا، تو اس ظالم کو اپنی نواسی کی شادی میں خاموشی سے بلا لیا اس وقت پاکستان کاکو ئی خیال نہیں آیا۔ انہیں دنوں ’’نیپال‘‘ میں بھارتی وزیرِ اعظم سے خفیہ ملا قات کی اور اُس وقت کے بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط کو بھارتیوں کے تیزی سے ویزے جاری کر نے احکامات جاری کیے۔ یہ اور بہت سے جرائم ہیں جن کا جواب دینے کے بجائے عین ایسے وقت میں جب پاکستان کی سرحد پر جنگ جاری اور سر پر جنگ کھڑی ہے تو ان کو پاکستان کے عوام کا بھی خیال آگیا۔ لیکن اب شاید تاریخ کا صفحہ پلٹ چکا ہے۔ اب نوازشریف کے دوست اور کشمیریوں پر ظلم ڈھانے والے مودی کو کشمیریوں کی بد دعا نے انجام سے دوچار کرنا شروع کر دیا ہے۔ تاریخ کا یہ فیصلہ ہر حکمران کے لیے یکساں ہے کہ وقت پر اگر کام نہیں کیا تو حقارت اور نفرت اس حکمران کا مقدر بن جاتی ہے۔ پاکستان کی ریاست کے اپنے فیصلے ہیں ان کو جن کے بارے میں معلوم ہے کہ ’’غدار اور چور ہیں‘‘ ان کو ہی وزیرِاعظم اور صدر بنایا جاتا ہے اور وفاداروں کو ہمیشہ محرومی کا سامنا رہتا ہے؟