افسوس! فرعون کو یکساں نصاب کی نہ سوجھی (پہلی قسط)

371

کیا وزیراعظم عمران خان اتنی بصیرت کے حامل ہیں کہ قوم کے معمار کا کردار ادا کرتے ہوئے تعلیم کے میدان میں ایسی پیش قدمی کرسکیںکہ ہمارا تعلیمی قبلہ درست ہوسکے؟ جواب ہے ’’مذاق نہ کریں‘‘۔ عمران خان جس طرح ملک کو چلارہے ہیں ایک ریوڑ چلانے والے کا علم ان سے زیادہ ہوگا لیکن پھر بھی ہمارے سلیکٹرز ان سے یوں مطمئن ہیں جیسے وہ قوت فیصلہ اور قوت عمل کے اسمارٹ سے پہاڑ ہیں۔ نواز شریف کو اس لیے میدان میں اُتارا گیا تھا کہ وہ بے نظیر کا راستہ روک سکیں۔ بے نظیر کو اس لیے وزیراعظم بنایا گیا تھا کہ وہ نواز شریف کی حریف ثابت ہوسکیں لیکن عمران خان کو صرف اس لیے سلیکٹ نہیں کیا گیا کہ وہ نواز شریف کی پڈنگ بنا سکیں بلکہ انہیں لانے کا ایجنڈا اس سے کہیں زیادہ اور بہت زیادہ ہے۔ ملکی اور عالمی قوتیں ان سے بہت کچھ کام لینا چا ہتی ہیں۔ واحد قومی نصاب (SNC) اس سمت میں ایک پیش قدمی ہے جس کا مقصد اسلام، شعائر اسلام اور مشرقی اقدار کے بجائے ہیومن ازم کی بنیاد پر تعلیمی نصاب کو استوار کرنا ہے۔ قوم کو جس دیوار سے لگا دیا گیا ہے اس دیوار پر واحد قومی نصاب کی تشہیر اس طرح کی جارہی ہے کہ واحد قومی نصاب 2020 میں قرآن وسنت کی تعلیمات کو شامل کیا گیا ہے۔ اس جعل سازی میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے سیکولر اور لبرل لابیوں کی طرف سے اس پر چیخ وپکار کا بندوبست بھی کردیا گیا تاکہ نقل پر اصل کا گمان ہو۔ درحقیقت یہ نصاب اسلام کو کچلنے کے لیے انتہائی خطرناک استعماری منصوبہ ہے جس کا مقصد اسلامی افکار اور اسلامی فہم کو زہر آلود کرنا ہے۔ اس عقیدے کو متزلزل کرنا ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور زندگی کے ہر شعبے کے لیے قرآن وسنت ہی واحد ماخذ ہیں۔
واحد قومی نصاب کے مقاصد اور اہداف ’’SDG-4‘‘ سے ہم آہنگ اور اسے آگے بڑھانے کا عمل ہے جس کا مقصد ہمارے تعلیمی نظام کو اقوام متحدہ کے مخصوص ادارے UN DESA کے متعین کردہ اہداف کے مطابق ڈھا لنا ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے اس کی سب سے خطرناک شق ایس ڈی جی ہدف نمبر 4.7 ہے جس کا مقصد ہمارے بچوں کے جذبات، میلانات، خواہشات، ذہنی اور نفسی حالت کی تشکیل نو ہے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ مذ ہب، سیاست، معاشرے اور عالمی امور کے بارے میں طلبہ کے خیالات اور نقطہ نظر کو مغربی اقدار کے مطابق ڈھا لنا ہے۔ اس استعماری منصوبے کا ہدف یہ ہے کہ مسلم دنیا میں بھی اسلام کی وہی حیثیت ہو جو مغربی معاشرے میں عیسائیت کی ہے۔ مغربی معاشرے میں عیسائیت کی کیا حالت ہے مختار مسعود مرحوم نے لوح ایام میں اسے اس طرح بیان کیا ہے۔ ’’ان کے مصور بے خوف ہوکر خدا کی تصویریں بناتے ہیں۔ ان کے فلم ساز اداکاروں کو پیغمبر بنادیتے ہیں۔ ان کے ادیب کسی کو معاف نہیں کرتے۔ سیدنا عیسی ؑکو بھی نہیں۔
روسی ادیب دوستو یفسکی نے اپنے ناول The Brothers Karmazov میں سیدنا عیسی ؑکے عارضی ظہور کا قصہ بیان کیا ہے۔ لوگ صدیوں سے پشت در پشت سیدنا عیسی ؑکے ظہور کی دعائیں مانگ رہے تھے۔ سیدنا عیسی ؑنے طے کیا کہ اصلی ظہور سے پہلے دنیا کا ایک چکر لگا لیں۔ انہوں نے سولھویں صدی میں اسپین کے شہر سیول کو اپنے مختصر دورے کے لیے منتخب کیا۔ ان دنوں اسپین میں فرقہ واریت کا زور تھا۔ رومن کیتھولک چرچ کی مذہبی عدالتیں سرگرمی سے لوگوں کے عقائد کی تفتیش کررہی تھیں۔ جس کسی پر چاہتے لا مذہبیت اور دہریت کا الزام عائد کردیتے اور آگ میں زندہ جلادیتے۔
سیدنا عیسی ؑ کے عارضی ظہور سے ایک دن پہلے سیول کے محتسب اعلیٰ نے الحاد کے الزام میں ایک سو افراد کو زندہ جلایا تھا۔ اس مذہبی تقریب میں شرکت کی سعادت حاصل کرنے کے لیے بادشاہ، درباری، بڑے پادری، حکمران طبقے کی رئیس دولت مند خواتین اور شہر کی ساری آبادی جمع ہوئی۔ اسی دن سیدنا عیسی ؑخاموشی سے شہر میں داخل ہوئے۔ محبت کا آفتاب ان کے دل میں روشن تھا، جس کی حرارت اور چمک ان کی آنکھوں میں تھی۔ ان کے چہرے پر لا محدود درد مندی اور رحم دلی کی مسکرا ہٹ کھلی ہوئی تھی۔ لوگ سیدنا عیسی ؑ کو پہچان گئے اور ان کے گرد جمع ہوگئے۔ انہوں نے لوگوں کو خیروبرکت کی دعائیں دیں۔ ایک اندھے کو آنکھوں کی روشنی دی۔ ایک مردہ بچی کو زندہ کیا۔ لوگ بے اختیار بول اٹھے ’’یہ تو وہی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور نہیں ہوسکتا‘‘ اتنے میں مذہبی محتسب اعلیٰ کا ادھر سے گزر ہوا۔ اس نے بھیڑ دیکھی، معجزہ دیکھا اور اصل بات کو جان گیا۔ اس صورت حال کا تدارک کرنے کے لیے اس نے حکم دیا کہ اس شخص کو فوراً گرفتار کیا جائے اور کال کوٹھڑی میں بند کردیا جائے۔ حکم کی تعمیل ہوئی۔ کسی کو احتجاج کی جرأت نہ ہوئی۔ لوگ بوڑھے محتسب اعلیٰ کے حضور سجدے میں گر گئے اور تعظیم بجالائے۔
رات کی تاریکی میں محتسب اعلیٰ جیل میں عیسی ؑ سے ملا اور کہنے لگا ’’آپ عیسی ؑ کی ذات گرامی ہیں یا ان کے بھیس میں کوئی اور؟ مجھے معلوم ہے آپ کیا کہیں گے لیکن مجھے آپ کا جواب درکار نہیں۔ میں کل صبح آپ کو بھی بدعتی قرار دے کر زندہ جلادوں گا۔ یہ بات آپ کو زیبا نہیں کہ پندرہ صدیاں گزرنے کے بعد ہمارے معاملات میں دخل دیں۔ آپ سارے اختیارات پوپ کے سپرد کرچکے ہیں۔ اب آپ کے ظہور کی کوئی ضرورت نہیں رہی‘‘۔ یہ کہہ کر محتسب اعلیٰ نے جیل کا دروازہ کھولا اور کہا ’’چلے جائو، خبردار واپس مت آنا، ہرگز ہرگز واپس نہ آنا‘‘۔ قیدی نے بوڑھے محتسب کے ہونٹوں کو چوما اور خاموشی سے اپنی راہ لی۔ رات کی تاریکی میں وہ بہت جلد نظروں سے اوجھل ہوگیا۔
نیو یارک کے سینٹرل پارک کے شرقی کنارے پر فوٹو گرافی کے میوزیم میں آٹھ دس تصویریں آویزاں کی گئیں جن کا عنوان تھا ’’مسیح کی آمد‘‘۔ تصاویر میں یہ دکھایا گیا تھا کہ سیدنا مسیحؑ دین ودنیا کی اصلاح کے لیے آسمانوں سے اترے تو سیدھے نیویارک پہنچے۔ گھوم پھر کر شہر دیکھا تو پتا چلا کہ لوگ ان کی تعلیمات بالکل فراموش کرچکے ہیں۔ خود غرضی، حرص و ہوس میں گرفتار ہیں۔ وہ بہت مایوس ہوئے۔
ایک تصویر میں دکھایا گیا تھا کہ یسوع مسیح جو خود کو چرواہا اور لوگوں کو اپنی بھیڑیں سمجھتے تھے رات کو نیو یارک کے اس علاقے میں جا نکلے جہاں گلیاں دن کے وقت بھی غیر محفوظ ہوتی ہیں۔ ایک نوجوان غنڈے نے ان سے کہا جو کچھ جیب میں ہے سیدھی طرح سے نکال دوورنہ مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا۔ وہاں سے کیا نکلنا تھا جیب خالی تھی۔ سیاہ فام غنڈے نے جیسا کہ ان کا چلن تھا غصہ میں آکر ان کو گولی ماردی۔ اس کا کہنا تھا ’’اگر تمہارے پاس ڈالر نہیں ہیں تو تمہیں اس دنیا میں آنے اور میرے علاقے میں گھومنے کا بھی کوئی حق نہیں۔ خواہ تم مسیح موعود ہی کیوں نہ ہو۔ اس آخری تصویر میں سیدنا عیسیؑ کو نیویارک کی ایک گلی میں اوندھے منہ گرا ہوا دکھایا گیا تھا۔ ان کا خون بہہ کر فرش پر جم گیا تھا۔ تصویر کے نیچے درج تھا۔ وہ آیا۔ اس نے دیکھا اور بے موت مارا گیا‘‘۔
مغربی دنیا میں دین کو، مقدس شخصیات کو زندگی اور زندگی کے معاملات سے اس طرح الگ کردیا گیا ہے کہ اب وہاں کوئی مقدس شخصیات نہیں جن کا ادب واحترام کیا جائے جن کا نام آئے تو آنکھیں بھیگ جائیں۔ یہ مغربی تعلیم ہی ہے جس نے اجتماعی زندگی، ریاست اور آئین سے دین کو لا تعلق کردیا ہے۔ تعلیم کے لیے اقوام متحدہ کا یہ استعماری منصوبہ جس سے یکساں نصاب تعلیم ماخوذ ہے اس وقت پیش کیا گیا ہے جب مسلم معاشروں میں اسلام کی بنیاد پر حکمرانی، ریاست، اسلامی طرز حکمرانی اور امت کی یکجہتی کے لیے وسیع پیمانے پر فکر کی جارہی ہے۔ آج امت مسلمہ استعمار کے ورلڈ آڈر کو مسترد کررہی ہے وہ استعماری آڈر جس کے بھیڑیوں نے امت مسلمہ کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے ہیں۔ ان کے دین اور مقدس شخصیات کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور ان کی دولت کو لوٹا جارہا ہے۔
(جاری ہے)