ملاقاتوں کو خفیہ رکھنا سیاستدانوں کی نہیں اسٹیبلشمنٹ کی مجبوری ہے، فضل الرحمن

152

کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے مرکزی رہنمااورجمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ انضمام کے نام پرفاٹا کے ساتھ جوکچھ ہوا ہے گلگت والے اس سے سبق سیکھیں،ملاقاتوں کو خفیہ رکھنا سیاستدانوں کی نہیں اسٹیبلشمنٹ کی مجبوری ہے، ملاقات کے ایجنڈے میں صرف گلگت بلتستان کا معاملہ شامل تھا،ان کے بلانے پر پارلیمانی رہنماؤں نے ملاقات کی ہے ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ بتائیں کہ اس حکومت کو لانے کے لیے کون کون سرگرم رہا،ملک میں ریاستی سطح پر فرقہ ورانہ فساد کی کوشش کی جارہی ہے،نیب سے انصاف کی توقع نہیں ہے، تصادم سے بچنے کیلیے اداروں کو اپنی ڈگر پرچلنا ہوگا، ملک میں احتساب کا دوہرا معیارہے، سیاستدانوں کا احتساب ہورہا ہے ،وزیر اعظم احتساب کے بجائے ہاتھ جوڑ کر ریٹائرڈ جرنیل سے استعفا واپس لینے پراصرارکرتے ہیں ان کے احتساب کو ترجیح نہیں دی جارہی۔حقیقی جمہوریت ،آئین کی بالادستی اور اسٹیبلشمنٹ کو انتخابی عمل سے دورکرنے کے لیے اپوزیشن متحد ہے،آئندہ 2روزمیں اہم فیصلوں کا اعلان کریں گے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پرجے یوآئی سندھ کے سیکرٹری جنرل مولانا راشدمحمود سومرو، مولانا عبیدالرحمان اور اسلم غوری و دیگربھی موجود تھے۔مولانا فضل الرحمن نے مزید کہاکہ پاکستان بحیثیت ریاست اپنی بقاء کی جنگ لڑرہا ہے،ہمارا عزم ہے کہ وطن عزیزکو سیاسی اور اقتصادی بحران سے نکالیں گے، اس ناجائز حکومت کو نکال کر عوام کی حکومت لائیں گے۔ انہوں کہاکہ سقوطِ کشمیر نے قومی غیرت کا جنازہ نکال دیا ہے، گلگت بلتستان کی سیاسی و جغرافیائی حیثیت کو تبدیل کرنے کے لیے ریاستی ادارے حرکت میں آگئے ہیں۔فیٹف کی شرائط پر قانونی سازی کرکے وطن عزیز کی آزادی کو بیچا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری قوم جس نے پاکستان سے امیدیں رکھیں آج ان کو مایوس کیا جارہا ہے،لداخ اور کشمیر دونوں طرف اور وادی کشمیر سب کشمیر کا حصہ ہیں،70برس سے جن لوگوں نے ہمارے ساتھ سیاست کی ان کے خون کے ساتھ ایسا کیسے کریں گے،اگر پریشر آنے پر ایسا کیا گیا تو یہ غلام قوموں کی نشانی کے برابر ہے، ہم گلگت کے ایجنڈے پر بیٹھے مگر پارلیمانی رہنماؤں کو بلاکر دوسری باتیں ظاہر کی گئیں،جس چیز کی پردہ داری کی جارہی ہے وہ غلط ہے جن لوگوں نے میزبانی کی ان کی ذمے داری ہے کہ پردہ داری کریں،اجلاس کامقصد گلگت بلتستان کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ استعفوں کے معاملے پر بیٹھک آج ہوگی،نیب نوٹس سے نہیں ڈرتے یہ مچھر کی بھن بھناہٹ کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے کہاکہ میڈیا اور سیاست ساتھ ہے یہ ایسا جوڑ ہے جو اکیلے نہیں چل سکتے،میڈیا کی مجبوری سمجھتے ہیں وہ جموریت کے ساتھ کھڑا نہیں ہونا چاہتے۔انہوں نے کہاکہ جس سیاستدان نے ملک کو آئین اورجمہوریت پر چلانے کی بات کی اسکے خلاف کام شروع ہوا۔