سانحہ بلدیہ فیکٹری کا 270 صحفات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری

225

کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی کی انسدادِ دہشتگردی عدالت نے 270 صحفات پر مشتمل سانحہ بلدیہ کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ مرکزی ملزم رحمان بھولا اور زبیر چریا کو 264 افراد کے قتل کے جرم میں 264 مرتبہ سزائے موت دی جائے۔

فیصلے میں دونوں مجرموں کو فیکٹری کے اندر ملازمین کو قتل کرنے کے جرم میں 264 مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔حکم نامہ کے مطابق 60 لوگوں کو زخمی کرنے کے جرم میں 10، 10 سال قید اور ایک، ایک لاکھ جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔تحریری حکم نامے میں 264 جاں بحق افراد کے ورثا کو 2، 2 لاکھ روپے دینے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

مجرمان پر بھتا خوری کے الزم میں 10، 10 سال قید اور 1، 1 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔تحریری حکم نامے کے مطابق مجرم شارخ، علی محمد، فضل محمد، ارشد محمود کو سہولت فراہم کرنے کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

تحریری فیصلے میں بتایا گیا کہ سہولت کاروں نے کیمیکل کے ساتھ مجرموں کو فیکٹری میں داخل ہونے میں مدد کی اور اسی کیمیکل کے استعمال سے 264 جانوں کا نقصان ہو ا ہے۔تحریری حکم نامہ میں کہا گیا کہ ملزمان لواحقین کو 27، 27 لاکھ روپے دیت بھی ادا کریں گے۔

عدالت نے ملزم شاہ رخ، علی محمد، فضل محمد اور ارشد محمود کی ضمانت منسوخ کرتے ہوئے انہیں جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔تحریری حکم نامے کے مطابق رؤف صدیقی، حسن قادری، ڈاکٹر عبدالستار اور ادیب خانم کے خلاف استغاثہ جرم ثابت نہیں کر سکے ہے۔

تحریری حکم نامے میں بتایا گیا کہ چاروں ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر رہا کیا گیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ عدالتی حکم نامے کے مطابق مفرور ملزم حماد صدیقی اور علی حسن قادری کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کردیے گئے ہے۔