مسئلہ کشمیر اور فلسطین اقوام متحدہ کی ناکامیوں کے مظاہر ہیں: وزیر خارجہ

194

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین اقوام متحدہ کی ناکامیوں کے مظاہر ہیں، یو این کی قراردادوں اور فیصلوں کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کے 75ویں اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی طرف سے نیک تمناؤں کا اظہار پیش کرتا ہوں، یہ ہنگامہ خیز واقعات اور دلچسپ امکانات کا سفر ہے، آج خوش کن اتحاد کی خوشیاں منانے کا موقع ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی ڈائمنڈ جوبلی منانا یقیناً ایک تاریخی موقع ہے، آج اقوام متحدہ کے بنیادی اصولوں کو پلٹ کر دیکھنے کا موقع ملا ہے، خیالات پیش کرنے پر معزز ایوان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا سے مقابلے کے لیے بےپناہ عالمی تعاون دیکھ چکے ہیں، خوشیاں منانے کے ساتھ کمزوریوں کو بھی ساتھ میں دیکھیں، اس ادارے نے تخفیف اسلحہ، نوآبادیات کے خاتمے میں اہم کردارادا کیا، اقوام متحدہ نے دنیا کو جنگ کے خطرات سے روکنے میں اہم کردارادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی مجموعی کامیابیوں کو ناکامیوں کے ساتھ ملا کر دیکھنا ہوگا، باہمی تعاون بالخصوص سلامتی کونسل کی سطح پر کم ترین ہے، پاکستان ہمیشہ اقوام متحدہ کے وجود کو ناگزیر سمجھنے والا ملک رہا ہے۔

مقبوضہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ یو این کی قراردادوں اور فیصلوں کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، مقبوضہ جموں کشمیر کے عوام استصواب رائے کے حق کے لیے اب تک منتظر ہیں، مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین اقوام متحدہ کی ناکامیوں کے مظاہر ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نے 26 ممالک کے 47 مشنز میں 2 لاکھ فوجی دستے مہیا کیے، مشنز کے لیے فراہم کیےگئے دستوں میں سے ہمارے 157 جوان شہید ہوئے، پاکستان دنیا میں سب سے بڑی تعداد میں مہاجرین کی میزبانی کرنے والا ملک ہے، شکوہ نہیں کر رہے لیکن پاکستان اپنے حصے سے زیادہ وزن اٹھا رہا ہے۔