سانحہ بلدیہ متاثرین نے بلدیہ فیکٹری کیس کے فیصلے کو ادھورا انصاف قرار دیا ہے

215

کراچی (رپورٹ:منیر عقیل انصاری) سانحہ بلدیہ متاثرین نے بلدیہ فیکٹری کیس کے فیصلے کو ادھورا انصاف قرار دیا ہے، یہ دہشت گردی کا واقعہ تھا، مالکان سے جب سے دہشت گردوں نے بھتہ طلب کیا تو اس وقت فیکٹری مالکان نے متعلقہ انتظامیہ سے رابطہ کیوں نہیں کیا اپنی فیکٹری کیوں بند نہیں کی فیکٹری کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر کیوں چھوڑ دیا گیا تھا۔

ان درندوں نے 260 زندہ لوگوں کو آگ میں جھلسہ کر مار دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ علی انٹرپرائز کے مالکان ارشد بھائیلہ اور شاہد بھائیلہ بھی شریک جرم ہیں انھیں بھی سزا دی جائے۔

سانحہ بلدیہ (علی انٹر پرائزز)متاثرین ایسوسی ایشن کی چیئر پرسن سعیدہ خاتون نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے سانحہ بلدیہ کیس کے فیصلے پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کوفیکٹری مالکان کوس بھی سزائے دینا چاہیے تھا۔

(260) لوگوں کو زندہ جلانے میں فیکٹری مالکان بری زمہ نہیں ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیکٹری مالکان بھی اس دہشت گردی میں برابر کے شریک ہیں۔ جب 20 کروڑ روپے بھتا مانگا جا رہا تھا تو مالکان کسی کا انتظار کررہے تھے انہوں نے سیکورٹی کے اداروں سے کیوں رابطہ نہیں کیا تھا۔

260 افراد کے زندہ جلانے سے ہزاروں بچے یتیم ہو گئے ہیں ابھی بھی لوگ اپنے پیاروں کو یاد کرکے روتے ہیں۔سعیدہ خاتون نے سوال کیا کہ مالکان کی جانب سے ایک سیاسی جماعت کے رہنما کو نو کروڑ روپے دینے کی بات ہوئی تھی،جے آئی ٹی میں بھی اس کا ذکر آیا، وہ نو کروڑ روپے کہاں ہیں جو لواحقین کو نہیں مل سکے ہے۔

سعیدہ خاتون کا کہنا ہے کہ سانحہ بلدیہ فیکٹری میں مالکان بھی ملوث تھے،سزا سب کو ملنی چاہئے تھی۔ انہوں نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کے فیصلے کو ادھورا انصاف قرار دیا ہے،ان کاکہنا ہے کہ ہمیں پورا انصاف چاہئے۔مالکان سمیت تمام ملزمان ملوث تھے،سزا سب کو ملنی چاہئے تھی۔

فیکٹری میں جھلس کر ہلاک ہونے والے متاثرین کے لواحقین فیصلے کو ادھورا انصاف سمجھتے ہیں،اس واقعے میں 18 سالہ سلیم احمد بھی ہلاک ہوئے تھے۔ ان کے والد کا کہنا ہے کہ وہ مالکان کو بھی ذمہ دار سمجھتے ہیں کیونکہ جب آگ لگنے کی اطلاع سن کر وہ یہاں پہنچے تو انھوں نے فیکٹر ی منیجر سے درخواست کی کہ وہ مرکزی دروازے کا تالا کھولیں مگر ایسا نہیں کیا گیا،اگر تالا کھولتے تو شاید کچھ جانیں بچ جاتیں۔

آٹھ سال ہو چکے ہیں مگر ہمارے زخم اب بھی تازہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی ایسوسی ایشن سے مشاورت کے بعد آئندہ چند روز میں اپنا مکمل موقف میڈیا کے سامنے پیش کریں گے۔

نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی کے صدر خالد خان نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہو ئے کہا ہے کہ سانحہ بلدیہ فیکٹری کے محفوظ فیصلے کی تاریخ کی تبدیلی نے ثابت کردیاتھاکہ فیصلہ سیاسی ہوگا ماسٹرمائینڈحکومت کے اتحادی باعزت بری ہوگئے ہیں۔

افسوس ہے کہ آج بھی ویسے ہی فیصلے سامنے آئے جو ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں سیکڑوں غریبوں کو چلا دیا گیا لیکن فیصلہ وہی روایتی آیاہے،استعمال ہونے والوں کو سزا اور اصل مجرموں کو آنچ بھی نہیں آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کا فیصلے کے بعد بلدیہ متاثرین کو شدید مایوسی ہوئی ہے،جو کیس کے اصل مجرم ہے جنہوں نے کروڑوں روپے بھتہ وصول کیا ہے ان کو پو چھنے والا کوئی نہیں ہے۔انہوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے سانحہ بلدیہ کیس پر نظرثانی کرتے ہوئے ازخود نوٹس لینے اور سانحہ کے اصل قاتلوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

نیشنل ٹریڈ یونین کے جنرل سیکرٹری ناصر منصور نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سانحہ بلدیہ کیس کے فیصلے کو ہم یک طرفہ فیصلہ سمجھنے میں اس کیس میں بلدیہ فیکٹری کے ملازمین کو شریک ہی نہیں گیا ہے۔ جبکہ 260افراد جو زندہ جلا دیے گئے ان کے لواحقین کو بھی اس کیس میں شامل کرنا چاہیے تھا جو سراسر نا انصافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ منگل کو سانحہ بلدیہ کے حوالے سے ہونے والے فیصلے نے بہت سے سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ بلدیہ فیکٹری کے مالک نے موجودہ پاک سر زمین پارٹی کے رہنما انیس قائم خانی کو 9 کروڑ روپے بلدیہ متاثرین کو تقسیم کرنے کے لیے دیے تھے۔ لیکن 8 سال بعد متاثرین کو 1روپے ادا نہیں کیے گئے ہیں ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں ہے کیونکہ وہ پاک سر زمین پارٹی کے لیڈر بننے ہوئے ہیں۔

فیصلے سے لگتا ہے کہ ایک کو ظالم اور دوسرے کو مظلوم ثابت کیا جا رہا ہے۔ مالکان کو بے گناہ قرار دیا گیا ہے جبکہ میرے نزدیک مالکان بھی مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہوئے ہے انہیں جب دھمکیا دی جا رہی تھی تو انہوں نے پولیس اور دیگر متعلقہ انتظامیہ کو کیوں باخبر نہیں کیا تھا۔

انہوں نے فیکٹری میں پاکستان کے لیبر قوانین کو بھی نظر انداز کیا ہوا تھا انہوں نے کہا کہ ہمیں پورا انصاف اس وقت ملے گا جب سانحہ متاثرین کے ساتھ سنجیدگی کے ساتھ سنا جائے گا اور ان کے ساتھ انصاف کیاجائے گا ہم اس فیصلے کو یکطرفہ سمجھتے ہیں۔