ترک یونان بڑھتی ہوئی کشیدگی

245

ترک صدر رجب طیب اردوان نے یونان کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ متنازع علاقے سے متعلق مذاکرات کرے ورنہ نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہے۔ استنبول میں ایک اسپتال کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ ایتھنز حکومت جلد یہ بات سمجھ جائے گی کہ ترکی سیاسی، فوجی اور اقتصادی سطح پر یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ بے بنیاد نقشے اور دستاویزات پھاڑ کر پھینک دے۔ صدر اردوان کا کہنا تھا کہ وہ یا تو سیاست اور سفارت کاری کی زبان کو سمجھیں یا پھر میدان میں تکلیف دہ تجربات کے لیے تیار رہیں، ترکی اور ترک عوام پہلے ہی ہر ممکنہ نتیجے کے لیے تیار ہیں۔ واضح رہے کہ ترکی بحیرہ روم کے مشرقی متنازع علاقے میں گیس کے ذخائر تلاش کر رہا ہے جبکہ یونان اس علاقے کو اپنی ملکیت قرار دیتا ہے۔ یورپی یونین اس معاملے میں یونان اور قبرص کے ساتھ ہے اور ترکی کو ممکنہ پابندیوں کی دھمکی بھی دے چکا ہے۔ یورپی یونین کے دوطاقتور ملکوں میں سے ایک فرانس کھل کر یونان کا ساتھ دے رہا ہے جبکہ جرمنی ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے۔ فرانس نے پچھلے ماہ بحری جنگی جہاز اور طیارے خطے میں بھجوائے تھے اور فرانس نے یونان اور قبرص کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقیں بھی کی تھیں۔ جب کہ قبرص فرانس سے 8 رافیل طیارے، 4 کثیرالمقاصد بحری جنگی جہاز، 4 نیوی ہیلی کاپٹرز، نئے اینٹی ٹینک ہتھیار اور نیوی تارپیڈوز اور ائرفورس میزائل بھی خرید رہا ہے۔ اس کے علاوہ قبرص 15 ہزار نئے فوجی بھرتی کرنے کے ساتھ ملکی دفاعی صنعت میں بھاری سرمایہ بھی لگا رہا ہے جس سے یونان کے کٹھ پتلی سمجھے جانے والے قبرص کے ترکی کے خلاف مستقبل کے عزائم کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ترکی کے نقطہ نظر سے ایک پریشان کن امر یہ ہے کہ امریکا بھی ترک قبرص تنازع میں سرگرم ہوچکا ہے اور اس نے قبرص پر 33 سال سے عائد اسلحہ کی پابندیاں ایک سال کے لیے اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو پچھلے دنوں نہ صرف قبرص کا دورہ کرچکے ہیں بلکہ قبرص کے صدر سے ملاقات میں ان کا کہنا تھا کہ قبرص کو اپنے اکنامک زون میں قدرتی وسائل کی تلاش کا حق بھی حاصل ہے جس پر ترکی کی تشویش میں اضافے کو ایک فطری عمل قرار دیا جارہا ہے۔
دوسری جانب ترکی نے یونان اور اس کے وزیر اعظم پر بحیرہ روم میں ترکی کی مداخلت کے الزامات کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ ترکی کی مخالف قوتوں کا استدلال ہے کہ مشرقی بحیرہ روم میں تناؤ تب ہی کم ہوسکتا ہے اور اس ضمن میں بات چیت کا ڈول تب ہی ڈالا جاسکتا ہے جب انقرہ یونان کو دھمکیاںدینا بند کرے گا۔ یاد رہے کہ مشرقی بحیرہ روم میں ترکی اور یونان کے درمیان حالات اس وقت کشیدہ ہوگئے تھے جب پچھلے ماہ ترکی نے اپنے بحری جنگی جہازوں کے ذریعے قدرتی گیس اور تیل سے مالا مال ان سمندری حدود میں گیس اور تیل کی تلاش کا سلسلہ شرو ع کیا تھا اس کے بعد سے خطے کے ان دو اہم ممالک کے درمیان محاذ آرائی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ترکی اور یونان دونوں ناٹو کے اہم ارکان ہیں اور ناٹو ان دونوں رکن ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے میں تادم تحریر ناکام نظر آتا ہے حالانکہ ناٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے گزشتہ دنوں ان دونوں ممالک سے رابطے کے بعد کہا تھا کہ یونانی اور ترک رہنماؤں نے ممکنہ تصادم کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ناٹو کی سطح پر تکنیکی بات چیت پر اتفاق کیا ہے لیکن دوسری جانب ایتھنز نے کہا ہے کہ وہ تکنیکی بات چیت پر کبھی راضی نہیں ہوا ہے جس میں کسی بھی صورت ترکی کے ساتھ بات چیت نہیں کی جاسکتی ہے۔
ناٹو کے سیکرٹری جنرل اور ناروے کے سابق وزیر اعظم اسٹولٹن برگ نے واضح کیا ہے کہ ان کی یہ کوشش مشرقی بحیرہ روم میں ہونے والے واقعات اور حادثات کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی تھی، ان کا کہنا تھا کہ یونان کے خلاف ترکی کے سمندری دعوئوں کی جڑ کو دور نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ترکی یونان محاذ آرائی میں کمی کے لیے ناٹو یا وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ بنیادی مسئلے کو حل کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ ان کی کوششوں کا مقصد ایسے میکانزم کی تیاری ہے جس کے ذریعے ناٹو کے ان دو اتحادی ممالک کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کوکم کرکے کسی بڑے حادثے سے بچا جاسکے۔ ناٹو سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان ابھی تک کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا ہے البتہ یہ بات خوش آئند ہے کہ ان کے درمیان بات چیت شروع ہوگئی ہے۔ دریں اثناء قبرص کے صدر نیکوس انستاسیادس نے کہا ہے کہ ہم خطے میںبڑھتے ہوئے تناؤ کا سامنا کررہے ہیں اور جو صورتحال بن رہی ہے وہ انتہائی غیر مستحکم اور تشویشناک ہے۔ انہوں نے ترکی پر زور دیا کہ وہ یا تو اس معاملے کو دی ہیگ میں بین الاقوامی عدالت انصاف کے پاس لے جانے کے لیے راضی ہو جائے یا پھر اس کے پاس بین الاقوامی ثالثی کا آپشن کھلا ہے جس پر ترک وزیر خارجہ کاوسوگلو نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ذمہ دار یونان اور اس کے اتحادی قبرص کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب ناٹو کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کی تجویز پیش کی گئی تھی تو اس وقت یونان نے اس سے اتفاق کیا تھا لیکن اب وہ اس تجویز سے خود ہی منحرف ہورہا ہے۔ لہٰذا اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے امید کی جاتی ہے کہ ترکی اور یونان برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے خطے کو کسی ممکنہ تصادم سے بچانے میں ذمے داری کا ثبوت دیں گے۔