کشمیر ہاتھ سے نکل رہا ہے

217

پاکستان میں حکومت اور اپوزیشن اے پی سی اور الزام جوابی الزام کے کھیل میںمصروف ہیں ۔ فوج کو سیاست میںمداخلت کے مواقع دینے کی پھر کوششیں ہو رہی ہیں ۔ ایسے موقع سے بھارت کیوں نہ فائدہ اٹھائے۔ اس کی کشمیرپر قبضے کی سازش مسلسل جاری ہے ۔ ہر چند روز بعد اس کا ایک قدم آگے بڑھا ہوا نظر آتا ہے ۔ اگرچہ خبر پرانی ہے لیکن پارلیمنٹ میں بھارتی وزیر مملکت برائے داخلہ جی کرشن ریڈی نے بتایا کہ بھارتی حکومت نے17 لاکھ ہندوئوں کو کشمیر کے ڈومیسائل جاری کیے ہیں انکا کہنا ہے کہ21لاکھ13ہزار8سو افراد نے ڈومیسائل کے لیے درخواست دی تھی ۔ ان میں17لاکھ کو ڈومیسائل دے دیے گئے ۔ ڈومیسائل جاری کرنے کے کام کو تیز کرنے کے لیے تحصیلدار اور نائب تحصیلدار کو بھی اختیارات دے دیے گئے ہیں اور اس مقصد کے لیے قانون میں تبدیلی بھی کی گئی ۔ بھارت کی کوشش ہے کہ کم سے کم وقت میں کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کیا جائے اور ہندو آبادی زیادہ ہو جائے ۔ اگرچہ اس کام کے لیے اسے ابھی بہت وقت لگے گا لیکن پاکستان کی طرف سے تو محض بیانات ہی دیے جا رہے ہیں ۔ اگر بھارت مطلوبہ تعداد پوری کر کے کشمیر میں استصواب رائے کا مطالبہ مان لے اور اچانک استصواب کرا لے اورپاکستانی قیادت اپوزیشن کے دو رہنمائوں کو سیاست سے دور رکھنے کیلیے ساری قوت صرف کر تی رہے اسے کشمیر پر توجہ دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی تو کیا ہو گا ۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی حکمران اپنے دو سیاسی مخالفین کو سیاست سے باہر کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے اور بھارت کشمیر پر قبضے کے لیے اپنے قدم بڑھاتا رہے گا ۔ کشمیر ہر آنے والے دن پاکستان کے ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے ۔ یہاں کون مداخلت کرے گا ۔ جب ہر معاملے میںمجبوراً مداخلت کرنی پڑتی ہے تو کشمیر کے لیے یہ مجبوری کب آئے گی ۔