حکومت اور کرپٹ جماعتوں نے کراچی کی عوام کو مایوس کیا، سینیٹر سراج الحق

250

کراچی:امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک میں اس وقت سب سے زیادہ نقصان پی ٹی آئی کےسپوٹرز اور ووٹرز کو ہوا ہے،پیپلز پارٹی، مسلم لیگ اور ایم کیو ایم کا کارکن بھی پریشان حال ہے، ملک میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، موجودہ حکومت دو سالوں میں بچوں اور بچیوں کی عزت نہیں بچا سکی تو ملک کیسے چلائے گی،کراچی معاشی شہ رگ ہے لیکن کرپٹ جماعتوں نے کراچی کے عوام کو مایوس کیا، حکمرانوں نے کراچی سے اربوں روپے لوٹے اور اپنا بنک بیلنس بڑھایا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو جماعت اسلامی ضلع غربی کے تحت ایک روزہ تربیت گاہ کے اختتام پر ”عوامی سیشن“سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔آج پارٹی کا کلرک ایک بڑا سرمایہ دار بن گیا یہ ایک بڑی تبدیلی آئی ہے،حکومت الیکشن کمیشن اور پولنگ بوتھ کو آزاد چھوڑے اور شفاف انتخابات کروائے۔

انہوں نےکہا کہ 27 ستمبر کو شاہراہِ قائدین پر ”حقوق کراچی مارچ“ میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، کراچی کے عوام 27ستمبر کوشاہراہ قائدین پر ہونے والے مارچ میں خواتین و بچوں کے ساتھ شریک ہوکر جماعت اسلامی کی تحریک کاحصہ بنیں۔

سینیٹر سراج الحق نے مزید کہاکہ اپوزیشن جماعتیں پی ٹی آئی کی حکومت ختم کرکے اپنی حکومت قائم کرنے کی جدوجہد جبکہ ہم طاغوت کی حکومت ختم کرکے اللہ کی حاکمیت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ایک کامیابی وہ ہے جسے باطل دنیا میں کامیابی حصول اقتدار ودولت کو سمجھتا ہے،ایک وہ کامیابی ہے جو آخرت کی ہے یہ ہمارے پیش نظر ہے،ہم کسی وڈیرے، جاگیردار، سرمایہ داریاامیر جماعت اسلامی کے لیے بلکہ اللہ کی مخلوق کو رب کی طرف بلاتے ہیں یہی جماعت اسلامی کا دستور ہے۔

سراج الحق نے مزید کہا کہ ریاست مدینہ میں توجانوروں کے بھی حقوق ہوتے تھے یہاں خواتین اوربچوں کی عزتیں محفوظ نہیں، ہماری بیٹیاں غیر محفوظ ہیں،مجھے مقتولہ زینب کے والد نے بتایا کہ زینب الرٹ بل منظوری کے باوجود ابھی تک تھانوں میں نہیں پہنچا، وہ سارے قوانین جس میں غریبوں کی بات ہو اس کی کسی کو پروا نہیں اگریہی قانون کسی امیر کے لیے ہوتاتو اگلے دن عملدآمد کے لیے عدالتوں اور تھانوں تک پہنچ چکا ہوتا۔

انہوں نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ تینوں جماعتوں کواقتدار میں لائی مگرعوام کو مہنگائی، غربت، بیروزگاری کے سوا کچھ نہیں ملا، غریب غریب تر ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ کارکنان معاشرے کی بھلائی کیلیے اٹھ کھڑے ہوں،رائے عامہ ہموارکر کے ایک بڑے انقلاب کیلیے لوگوں کی ذہن سازی کریں۔