چودہ سالہ عماد علی نے قومی اسکریبل چیمپئن کا ٹائٹل اپنے نام کرلیا

166

کراچی:14 سالہ عماد علی قومی اسکریبل چیمپیئن بن گئے، بتیسویں گلیڈی ایٹر اسکریبل چیمپئن شپ کا ٹائٹل جیتنے والے سب سے کم عمر کھلاڑی کا ٹائٹل بھی اپنے نام کر لیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کورونا کی وباء کے باعث چھ ماہ سے تعطل کا شکار اسکریبل کی سرگرمیاں بحال ہوگئیں، پاکستان اسکریبل ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام کراچی میں تین روزہ  گلیڈی ایٹرز پاکستان اسکریبل (ماسٹرز) چیمپیئن شپ اختتام پذیر ہوگئی۔

ایونٹ میں ملک بھر سے 9سال سے 80 سال کی عمر کے 44 کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔

آٹھ مرتبہ کے قومی چیمپیئن وسیم کھتری کو دو روز تک واضح برتری حاصل تھی اور ان کی فتح کے امکانات روشن تھے۔

بیس گیمز کے بعد عماد  علی وسیم کھتری سے چار گیمز پیچھے تھے اورٹائٹل کی دوڑ سے تقریبا باہر ہوچکے تھے لیکن  چودہ سالہ جونئیر ورلڈ چیمپیئن  نے حیران کن کم بیک کرتے ہوئے اپنے استاد وسیم کھتری کو مسلسل چار گیمز میں شکست دے کرٹائٹل لے اڑے۔

 عماد علی نے 27 میں سے 19 گیمز جیتے اوران کی جیت کا اسپریڈ اسکور 1469 رہا، نویں ٹائٹل کیلئے پرعزم وسیم کھتری نے دوسری پوزیشن حاصل کرسکے۔

  وسیم کھتری نے بھی 19گیمز جیتے لیکن ان کا اسپریڈ اسکور 1210 رہا۔ حماد ہادی خان نے 18 گیمز جیت کر تیسری پوزیشن حاصل کی۔ دفاعی چیمپیئن حشام ہادی خان ٹائٹل کے دفاع میں ناکام رہے اورچوتھے نمبر پر رہے۔

چیمپیئن شپ میں حصہ لینے والے تمام سینئیر پلیئرز بشمول سابق قومی چیمپیئنز کو نوجوان پلیئرز سے مقابلے میں سخت چیلنج کا سامنا رہا، نوسال کے بلال اشعر تمام سینئیر پلیئرز سے آگے رہے۔

 مہمان خصوصی ہارون قاسم نے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کرتے ہوئے  کہاکہ اس طرح کی مثبت سرگرمیوں کا انعقاد صحت مند معاشرے کے لیے ضروری ہے اور ہم سب کو ایسی سرگرمیوں کو پروان چڑھانا چاہیے۔

 دوا ساز ادارے فارم ایوو کے سی ای او سید جمشید احمد نے کہا کہ اسکریبل انسان کے مدافعتی نظام کو بہتر کرتا ہے، قومی سطح پر اس کھیل کی سرپرستی کی ضرورت ہے۔