دوسال گزرنے کے بعد بھی ایمپریس مارکیٹ اپنی اصل حالت میں بحال نہیں ہوسکی

222

کراچی (رپورٹ: منیر عقیل انصاری) بلدیہ عظمی کراچی نے عدالتی احکامات پر توصدر میں تاریخی عمارت ایمپریس مارکیٹ کو مسمار کردیا ہے، تاہم 2سال کا عرصہ گزرنے کے بعد اب بھی ایمپریس مارکیٹ اپنی اصل حالت میں بحال نہیں ہوسکی ہے۔

ایمپریس مارکیٹ کی اصل شکل میں بحالی اور بیوٹیفیکیشن کا پروجیکٹ 90کروڑ سے شروع ہوکر 1ارب 20کروڑ تک جاپہنچا ہے منصوبہ اب بھی مکمل نہیں کیا جاسکا ہے،مناسب دیکھ بحال نہ ہونے سے 35 سالہ قدیم دو درخت نامعلوم افراد نے کاٹ دیے ہیں۔

گزشتہ برس نومبر2018 میں ایمپریس مارکیٹ کے اطراف آپریشن کیا گیا اور 1500سے زایددکانوں اور تجاوزات کا خاتمے کیا گیا تھا،لیکن2 سال کا عرصہ گزرنے کے بعد اب بھی ایمپریس مارکیٹ اپنی اصل حالت میں بحال نہیں ہوسکی ہے۔ ایمپریس مارکیٹ کے گرد ملبے کا ڈھیر جمع ہوگیا ہے۔

ایمپریس مارکیٹ کو پرانی حیثیت میں بحال کرنا کے ایم سی کے ایڈ منسٹر یٹر کے لئے ایک امتحان بن گیا۔کے ایم سی حکام کے مطابق ایمپریس مارکیٹ عمارت کے گرد پارک بننا تھا جب کہ اندر آرٹ گیلری اور میوزیم بنانا تھا۔جس پر جلد ہی دوبارہ سے کام کا آغاز کردیاجائے گا۔

آپریشن ہوئے2 سال کا عرصہ گزر گیا ہے لیکن مگر تاحال ایمپریس مارکیٹ کی اصل بحالی نہیں ہوسکی ہے بلکہ عمارت کے گرد تجاوزات دوبارہ قائم ہونا شروع ہوگئیں ہیں۔طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی اب تک یہاں صرف گرل لگانے اور ہریالی کا کام ہی ہوا ہے۔شہر میں سپریم کورٹ کے احکامات پر ادھورا عمل درآمد ایک سوالیہ نشان ہے۔

دکانداروں کا کہنا ہے کہ ایمپریس مارکیٹ کو خوبصورتی کے نام پرحکومت نے پوری مارکیٹ کو الجھادیا ہے۔ مارکیٹ کی عمارت کے گردہماری 1500سے زاید دکانیں تھیں، تاریخی مارکیٹ کے دکاندارنومبر 2018 سے بجلی سے محروم ہیں۔

دکانداروں کا مزید کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کا عملہ انہیں تمام واجبات ادا کرنے کے باوجود بلیک میل کررہا ہے کے الیکٹرک کا عملہ ایمپریس مارکیٹ کے اطراف مسمار کی گئی 1500 دکانوں کے بجلی کے واجبات بھی ہم سے وصول کرنے کے درپے ہے، یہ دکانیں کے ایم سی کے محکمہ انسداد تجاوزات نے نومبر 2018 میں عدالت عظمی کے حکم پر مسمار کی تھیں۔

ذرائع کے مطابق کے ای کے بعض افسران بھی بجلی کا کنکشن دینے کے لئے رشوت کا مطالبہ کررہے ہیں۔خیال رہے کہ اس عمارت کو قومی ورثے کا درجہ حاصل ہے، سپریم کورٹ کی طرف سے احکامات جاری کیے جا چکے ہیں کہ اسے ایک ماڈل کے طور پر پیش کیا جائے۔