صوبائی انسٹی ٹیوٹ آ ف ٹیچر ایجوکیشن میں انتظامی بے قاعدگیوں کا انکشاف

124

کراچی(رپورٹ:حماد حسین)صوبائی انسٹی ٹیوٹ آ ف ٹیچر ایجوکیشن کا انوکھا کارنامہ‘ڈائریکٹر جنرل اپنے ہی محکمے کے کاموں سے لاعلم‘10ستمبر کو کراچی بھر کے جونیئر اسکول ٹیچر اور ارلی چائلڈ ہوڈ ایجوکیشن میں بھرتی ہونے والے اساتذہ کی ٹریننگ میں انتظامی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔10 ستمبرکو جاری شدہ مکتوب میں ڈائریکٹر جنرل نے 7ستمبرسے ٹریننگ کے آغازکے احکامات جاری کیے۔ٹریننگ کا آغاز 9ستمبر کو کیا گیا۔ذرائع کے مطابق محکمہ تعلیم سندھ نے 2019ء میں سندھ بھر میں جونیئراسکول ٹیچر اور ارلی چائلڈ ہوڈ ایجوکیشن میں بھرتی کے خواہشمند امیدواروں سے درخواست طلب کی تھی اور اسی سال کے آخر میں ان کی تعیناتی بھی کردی گئی تھی اور ان کا تربیتی کورس کا بھی آغاز فروری میں ہونا تھا تاہم کورونا وباکے باعث نہ ہوسکا جوکہ ستمبر میں اس کورس کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔ اس حوالے سے ڈائریکٹر جنرل عبدلمجیب برت کی جانب سے ایک مکتوب نمبر PITE/DG/Estt./524/2020ء بتاریخ 10ستمبر کو جاری کیا گیا جس کے مطابق کراچی کے نئے بھرتی ہونے والے 121جونیئر اسکول ٹیچرکی ٹریننگ کا آغاز 7ستمبر سے کیا جائے گا اور اختتام 22ستمبر کو ہوگاجبکہ کراچی کے5 اضلاع جس میں کورنگی‘شرقی‘کورنگی‘غربی اور ملیر میں نئے بھرتی ہونے والے 100ارلی چائلڈ ہوڈ ٹیچر کی تربیتی کورس کا آغاز 14ستمبر سے26ستمبر تک ہو گا ۔ذرائع کے مطابق ارلی چائلڈ ہوڈ ٹیچر کی تربیتی کورس کا آغازتو 14ستمبر سے کیا جاچکا ہے تاہم اب تک اساتذہ کو تربیتی کورس کا مینول ہی جاری نہیں کیا گیاہے۔جس کے باعث اساتذہ میںتربیتی کورس کرنافضول ہو گیا ہے۔ذرائع کے مطابق ٹریننگ کے دوران کچھ اساتذہ کی جانب سے ٹریننرسے کیمرہ کھولنے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے یہ کہا کر منع کردیا کہ اگر آپ لوگوں نے کیمرہ کھولا تو ہمارا سسٹم بیٹھ جائے گا۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی انسٹی ٹیوٹ آ ف ٹیچر ایجوکیشن کی جانب سے تمام اساتذہ کا مکمل قوائد جس میں نام‘والد کا نام‘قومی شناختی کارڈ نمبراور آن لائن کلاس کی آئی ڈی اور پاسورڈ واٹس گروپ میں جاری کردیا۔جس میں خواتین اساتذہ کی جانب سے شدید برہمی کا اظہار کیا گیا تھا۔ایک خاتون ٹیچر کا کہنا تھا کہ سرکاری ادارے کا اپنے ملازمین کی ایسی حساس تفصیلات واٹس گروپ میں جاری کرنا سمجھ سے بالاتر ہے اور سب سے عجیب یہ ہے کہ خواتین اساتذہ کی بھی تفصیلات جاری کی گئی ہیں جس میں خواتین اساتذہ میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو گیا ہے۔