عالمی اردو مرکز کے تحت ادبی و شعری نشستوں کا سلسلہ شروع

118

مجلس اقبال جدہ کے زیر اہتمام بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کیے یوم وفات کے موقع پر ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں مجلس اقبال کے صدر اور معروف شاعر ڈاکٹرسعید کریم بیبانی نے اعلان کیا کہ ادبی و شعری نشستیں عالمی اردو مرکز کے تحت جبکہ مجلس اقبال کے زیر اہتمام کلام اقبال کی مناسبت سے تقاریب منعقد کی جائیں گی۔ نمایندہ جسارت سید مسرت خلیل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی اردو مرکز اور اس کی ذیلی تنظیم مجلس اقبال کا ایک اہم مقصد علامہ اقبال کے موضوع پر باقاعدگی سے تقریبات کا انعقاد، شاعر مشرق اور قائد اعظم کے خیالات اور کارناموں کے متعلق آگاہی اور نئی نسلوں میں بیداری پیدا کرنا ہے۔ ڈاکٹر بیبانی نے کہا کہ کورونا کی وبا سے قبل ہر ماہ باقاعدگی سے اجلاس اور تقریبات کا اہتمام کیا جاتا تھا، جسے اب ایک بار پھر شروع کردیا جائے گا۔
مجلس اقبال کے تحت منعقدہ تقریب کے مہمان خصوصی پاکستان انٹرنیشنل اسکول جدہ کے پروفیسر وسیم شاہد بخاری تھے۔ انہوں نے فکر اقبال اور قائد کا سیاسی ارتقا کے عنوان سے کلیدی خطبہ دیا۔ تقریب کی صدارت عالمی اردو مرکز جدہ کے صدر اور ممتاز شاعر اطہر عباسی نے کی۔
تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، جس کا شرف قاری محمد آصف نے حاصل کیا جب کہ محمد نواز جنجوعہ نے ہدیہ نعت پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ مجلس کے جواں سال رکن احمد زبیر نے حکیم الامت کا مشہور کلام ’’خودی کا سر نہاں، لا الہ الا اللہ‘‘ سنایا، جس کے بعد مجلس اقبال کے چیئرمین عامر خورشید رضوی نے شرکائے محفل کو خوش آمدید کہا اور تنظیم کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔ تقریب کی نظامت کے فرائض مجلس اقبال کے معتمد سید شہاب الدین نے انجام دیے۔
مجلس اقبال کے صدر اور معروف شاعر ڈاکٹر محمد سعید کریم بیبانی نے تحریک آزادئ پاکستان کے عنوان سے اپنی نظم سنائی، جس میں انہوں نے تحریک آزادی کے واقعات کو شعری صورت میں قلمبند کیا۔ نظم کے آخر میں انہوں نے ان مصائب اور مظالم کا ذکر کیا جو آزادی کی تگ و دو میں مسلمانان برصغیر کو برداشت کرنے پڑے۔ نیویارک سے معروف نعت گو شاعر محسن علوی نے محفل کو رونق بخشی اور اقبال کی زمین میں نظم پیش کی۔
مہمان خصوصی پروفیسر وسیم بخاری نے اپنے کلیدی خطبے میں مدلل انداز میں ان عوامل کا ذکر کیا، جن کی وجہ سے قائد اعظم نے کانگریس سے تعلق توڑ کر مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس موقع پر مجلس اقبال کے سابق جنرل سیکرٹری حامد اسلام نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔
آخر میں عالمی اردو مرکز کے صدر اور مشہور شاعر اطہر عباسی نے اپنے خطبہ صدارت میں شرکا بالخصوص معروف صحافی رؤوف طاہر، مجلس اقبال کے سابقہ اراکین حامد اسلام، فضاء الرحمن اور مہمان خصوصی پروفیسر وسیم بخاری کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے قائد اعظم کے یوم وفات کی مناسبت سے ایک نظم سنائی جسے شرکا نے بے حد پسند کیا۔
تقریب میں مقامی شرکا کے علاوہ نیویارک سے معروف شاعر محسن علوی، پاکستان سے حامد الاسلام، فضاء الرحمن، حماد صابر، اظہر صابر، عبداللہ طارق ، لندن سے سرجن ڈاکٹر محمد علی، عمان سے محمد تنویر ، بھارت سے اطہر اسلوبی، زبیر سورتی اور دیگر احباب نے شرکت کی۔ اجلاس میں کثرت رائے سے طے پایا کہ مجلس اقبال کے تحت ہر ڈیڑھ ماہ بعد ایک نشست رکھی جائے جس میں

صرف اقبال کی شخصیت اور ان کے کلام کے حوالے سے گفتگو ہوگی۔ آخر میں مجلس اقبال کی تقریبات کو ترتیب دینے کی غرض سے 3 افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی جن میں عامر خورشید، ڈاکٹر کریم بیبانی اور سید شہاب الدین شامل ہیں۔