بھارت کا بڑھتا جنگی جنون

187

سمیع اللہ ملک

بھارت کے دفاعی بجٹ اورفوجی اخراجات نے کئی برس سے پوری دنیاکی توجہ حاصل کررکھی ہے۔ ہرسال جب بھارتی حکومت دفاع کے نام پراربوں ڈالرمختص کرتی ہے تودنیابھرکے تھنک ٹینکس اس کانہایت دلچسپی اورمختلف زاویوں سے بغورجائزہ لیتے ہیں۔ اس مرتبہ بھی جب بھارت کی وزیرخزانہ نے 2020-21 کے لیے 65.86 ارب ڈالر کا دیو قامت دفاعی بجٹ پیش کیااوراس طرح کل بجٹ میں پچھلے سال کی نسبت 4036721کروڑروپے کااضافہ کیاگیا، تو دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت نے اپنے بجٹ میں دفاع کے لیے اصل مختص رقم سے کئی گنا کم رقم ظاہرکی ہے کیونکہ یہ سمجھاجاتاہے کہ بھارتی حکومت اپنی ویب سائٹ پرجودفاعی بجٹ ظاہرکرتی ہے،اس میں پھر چپکے سے نظرثانی بجٹ اور اصل اندازوں کے نام پر اضافے کیے جاتے ہیں جوعالمی میڈیامیں رپورٹ نہیں ہوتے۔28اپریل کواسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ(سپری) نے اپنی سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہاکہ بھارت گزشتہ برس امریکااورچین کے بعددنیامیں تیسرابڑافوجی بجٹ مختص کرنے والاملک رہاجس کے فوجی اخراجات 171 ارب ڈالرتک پہنچ گئے ہیں۔ اس میں1990ء سے2019ء تک پچھلے30برس میں 259 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
بھارت کے دفاعی اخراجات اور مختلف ممالک کے ساتھ ہتھیاروں کے معاہدوں پرعالمی میڈیامیں بحث تقریباً سال بھرچلتی رہتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ وہ آخراس شعبے ہی میں اتنی تگ و دو کیوں کررہاہے اوراس پرہتھیاروں اوراسلحہ کے ڈھیرلگانے کااتناجنون کیوں سوارہے؟ اس کاجواب ڈھونڈنے کے لیے ہم بھارتی حکمت عملی کا 3 زاویوں سے جائزہ لیں گے۔ جنگی جنون میں لپٹی خارجہ پالیسی، اشتعال انگیزی میں ملبوس دفاعی پالیسی اور پہلی دونوں پالیسیوں کو مدد دینے والی اقتصادی پالیسی۔
بھارت کی خارجہ پالیسی سے متعلق بھارتی اسکالرراج موہن لکھتے ہیںبھارت کی وسیع حکمت عملی دنیاکو 3 دائروں میں تقسیم کرتی ہے۔پہلے دائرے میںجوقریب ترین پڑوسیوں پرمحیط ہے، بھارت برتری اور بیرونی طاقتوں کے اقدامات کوناکام بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ دوسرے دائرے میں جہاں ایشیااوربحرہندکے ساحل پرپھیلے نام نہادقدرے دورکے پڑوسی شامل ہیں، بھارت دوسری طاقتوں کے ساتھ توازن قائم کرنے اورانہیں اپنے مفادات کونقصان پہنچانے سے روکنے کے لیے کوشاں رہتا ہے۔ تیسرے دائرے میں،جس میں پوری دنیاشامل ہے، بھارت بڑی طاقتوں میں سے ایک کامقام پاناچاہتاہے جوعالمی امن وسلامتی میں ایک اہم کھلاڑی ہو۔
ہم اگرایشیا میں بھارتی خارجہ پالیسی کا جائزہ لیں تووہ اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ کسی نہ کسی محاذ آرائی میں مصروف ہے۔اس نے اپنے قیام کے فوری بعد حیدرآباد دکن،سکم، گوا اور جوناگڑھ اورپھرمقبوضہ کشمیرکوہڑپ کرلیا۔ اس کی پاکستان کے ساتھ1948ء، 1965ء، 1971ء اور 1999ء کی جنگوں سمیت کئی چھوٹی بڑی جھڑپیں ہوچکی ہیں اور یہ اب بھی لائن آف کنٹرول پر امن کو تہہ وبالا کرنے کے در پے ہے۔ اس نے چین کے ساتھ1962ء میں جنگ لڑی اوراب بھی لداخ کے سرحدی تنازع میں منہ کی کھاچکاہے جبکہ2017ء میں ڈوکلام کشمکش میں بھی اپنے ماتھے پر سیاہ دھبہ لگا چکا ہے، مگر پھربھی سرحدی جھڑپوں میں مصروف ہے۔ بھارت نے1980ء کی دہائی میں سری لنکامیں فوجی مداخلت کی تھی۔ 1988ء میں مالدیپ کے سیاسی معاملات میں بھی ٹانگ اڑائی۔ بھارت نے اس کے علاوہ بھوٹان میں اپنے مستقل فوجی تعینات کیے ہیں جبکہ پاکستان، بنگلادیش اور نیپال کے ساتھ سرحدی تنازعات میں بھی دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ بھارت کی خارجہ پالیسی میں جارحیت کااندازہ اس بات سے بھی لگایاجاسکتاہے کہ اس نے ایک ماہ کے اندر مئی میں پاکستانی علاقوں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو اپنی نیوز بلیٹن کا حصہ بنایا، چین کے ساتھ سرحدی تصادم کیا، جس میں بھارت کے حصے میں خوب رسوائی آئی اور اس نے چین کے مقام منساروور ک سڑک بنانے کے لیے نیپالی علاقے لپولیخ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جہاں سے یہ سڑک گزارناچاہتاہے، اس پالیسی پرنیپال نے شدیدردعمل دکھایاہے۔
امریکا کے سابق نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر زبگنیو برزیزنسکی اپنی کتاب اسٹریٹجک وژن: امریکا اینڈ دی کرائسس آف گلوبل پاورمیں لکھتے ہیں: بھارتی حکمت عملیاں ایران سے لے کرتھائی لینڈتک کے علاقے میں گریٹربھارت کی پوزیشن کا کھلا اظہار ہیں۔ بھارت بحرہند پر فوجی کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کررہاہے۔ قریبی ممالک بنگلادیش اوربرمامیں مضبوط ٹھکانے قائم کرنے کے لیے سیاسی کوششوں کی طرح اس کے بحری اورفضائیہ کے پروگرام اس رجحان کی جانب واضح اشارہ کرتے ہیں۔
بھارتی دفاعی پالیسی کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ اس کی حکومت نے مختص سالانہ دفاعی بجٹ کے علاوہ تینوں سروسز چیفس کوفوجی سازوسامان حاصل کرنے کے لیے 5 سالہ ماڈل منصوبہ تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔بھارتی بحریہ2027ء تک 200 جہازوں پرمشتمل بیڑہ حاصل کرناچاہتی ہے۔ اس کی کوشش ہے کہ 6 نئی آبدوزاور111نیول یوٹیلٹی ہیلی کاپٹرکاحصول ممکن بنائے۔ بھارت 2015ء میں36رافیل طیاروں کاآرڈردینے کے علاوہ 114نئے لڑاکاطیارے بھی حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔ بھارت فوجی ٹیکنالوجی درآمد کرنے کے لیے کئی ممالک سے معاہدے کررہا ہے۔ اکتوبر 2019ء میں پینٹاگون نے کہاتھاکہ واشنگٹن اوردہلی کے درمیان دوطرفہ دفاعی تجارت سال کے اختتام تک 18 ارب ڈالرتک پہنچنے کاامکان ہے۔اسی سال امریکی محکمہ خارجہ نے کہاتھاکہ وہ بھارت کو 62 ارب ڈالرکے عوض ایم ایچ60- آر سی ہاک ہیلی کاپٹر، 32 ارب ڈالرمالیت کے اپاچی ہیلی کاپٹر، 3 ارب ڈالرکے پی-8 آئی میری ٹائم پیٹرول ائرکرافٹ اور 737 ملین ڈالرکے ایم 777 ہاوٹزر فروخت کرے گا۔ اس کے بعد فروری 2020ء میں ٹرمپ کے دورہ بھارت کے دوران دونوں ممالک کے درمیان 3 ارب ڈالرکادفاعی معاہدہ ہوا۔ اس معاہدے کے تحت امریکابھارتی فوج کوہیلی کاپٹراوردیگرفوجی سازوسامان فراہم کرے گا ۔ اس کے علاوہ رواں سال کے اوائل میں امریکانے بھارت کو Integrated Air Defence Weapon System کی فروخت کی منظوری دی تھی، جس کی مالیت 871 ارب ڈالر ہوگی۔ اس نظام میں لانچر، ٹارگٹنگ اینڈ گائیڈنس سسٹمز، درمیانی فاصلے کے فضا سے فضا تک مار کرنے والے جدید میزائل (AMRAAM) اور اسٹنگر میزائل، تھری ڈی سینٹنل ریڈارز، فائرڈسٹری بیوشن سنٹرزاورکمانڈاینڈ کنٹرول یونٹس شامل ہوں گے۔ ہروقت جنگ کے لیے تیاررہنے والے بھارت کے لیے ایک فضائی دفاعی منصوبہ بنایاجارہاہے جس میں کئی پرتوں کاحامل میزائل دفاعی نظام قائم کیاجائے گا۔
اس نظام میں اندرون دہلی کی حفاظت National Advanced Surface to Air Missile Systemکے ذریعے کی جائے گی۔اس کے اوپرآکاش دفاعی میزائل نظام نصب کیا جائے گا، جس کی رینج25کلومیٹرتک ہوگی۔ اکتوبر 2020ء سے اپریل2023ء کے درمیان حاصل کیے جانے والے روسی ساختہ ایس400میزائل نظام دوسری پرت بنائے گا، جس میں 250، 200، 120 اور 380 کلومیٹر تک مارکرنے والے میزائل شامل ہوں گے۔ اگلی پرت میں اسرائیل کے اشتراک سے بنائے گئے زمین سے فضا تک درمیانی فاصلے تک مارکرنے والے براک-8میزائل نصب کیے جائیں گے۔ ایڈوانسڈ ائر ڈیفنس (اے اے ڈی) اور پرتھوی ائرڈیفنس (پی اے ڈی) انٹرسیپٹر میزائل دہلی کے میزائل شیلڈکی سب سے بیرونی پرت میں نصب کیے جائیں گے۔
بحرہند کی تزویراتی اہمیت کے بارے میں امریکی بحریہ کے ایڈمرل الفرڈ ٹی۔ماہن نے کہاتھاکہ جس کسی نے بھی بحرہندمیں میری ٹائم برتری حاصل کرلی وہ عالمی منظرنامے پرایک بڑاکھلاڑی بن جائے گااور اب بھارت پرخطے میں برتری کابھوت سوارہے۔ بھارتی بحریہ کاآبدوزبیڑہ نیوکلئیربیلسٹک میزائل آبدوز(ایس ایس بی این)آئی این ایس،چار فرانسیسی ساختہ سکورپین کلاس آبدوزوں اورروس سے حاصل کی گئیں اکولاکلاس آبدوزوں پرمشتمل ہے لیکن وہ اس میں مسلسل اضافہ کررہاہے۔اس وقت بحرہندمیں بھارت کے لگ بھگ 140 جنگی جہازلنگراندازہیں اور وہ 2027ء تک یہ تعداد 200 تک بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔ بھارت خطے میں اپنا اثر رسوخ بڑھانے کے لیے بحرہندمیں مختلف طریقوں سے اپنی طاقت بڑھانے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ وہ چاہتاہے کہ بحرہندکے ممالک میں چین کے اثر رسوخ کوقابوکرے کیونکہ ان ممالک میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے سے وہ ان کے پانیوں میں کاروباری مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے راستوں تک چین کی رسائی محدود کرنے کی پوزیشن میں آجائے گا اور اس سے جڑے اپنے مفادات حاصل کرسکے گا۔ بھارت انڈیمان اور نکوبار جیسے جزائر پر اپنے فوجی انفرااسٹرکچرکومضبوط کر رہاہے۔ یہ جزیرے آبنائے ملاکا تک ہونے والے بحری سفرپرنگاہ رکھنے کے لیے عمدہ جگہیں ہیں۔ بھارت نے یہاں بڑے سمندری گشتی طیاروں کے لیے وسیع میدان قائم کرنے کے ساتھ اسلحہ کے گودام بنائے ہیں اور بڑے جہازوں کے لیے لنگراندازی کی بہترین سہولت کابندوبست کرلیا ہے۔ بھارتی افواج بحرہند میں امریکاکے ساتھ Communications, Compatibility and Security Agreement کے تحت امریکی فوج کے ساتھ سمندرمیں مشترکہ آپریشنزاورسالانہ مشقیں کرتی ہیں۔ بھارت اورامریکادونوں اس سمندرمیں چین کا اثرورسوخ محدود کرنے کا مشترکہ مقصدرکھتے ہیں اوربھارت بحرہندمیں چین کی سرگرمیوں کاتوڑکرنے کے لیے بحیرہ جنوبی چین میںایکٹ ایسٹ پالیسی کے تحت چین کے خلاف اپنااثرورسوخ بڑھارہاہے ۔
اقتصادی شعبے میں دیکھاجائے توبھارت چین کے منصوبے Belt and Road Initiative (BRI)کی مخالفت کرتارہاہے لیکن اب وہ اس کے خلاف قائم ہونے والے نئے محاذکابھی رکن بن گیا ہے۔ نومبر 2019ء میں بنکاک تھائی لینڈمیں آسٹریلیا، امریکا اور جاپان نے بلیوڈاٹ نیٹ ورک (بی ڈی این)کے قیام کااعلان کیا۔ امریکاکی سربراہی میں شروع ہونے والے اس منصوبے کامقصدیہ ہے کہ مختلف بڑی بین الاقوامی کمپنیوں کی جانب سے چین میں ہونے والی سرمایہ کاری کووہاں سے اٹھاکرنئے صنعتی مراکزمیں لایا جائے جس کے لیے زمین بھارت فراہم کرے گا۔ اس نے ملک کے مختلف علاقوں میں بی ڈی این منصوبے میں امریکا کو 461589 ایکڑ زمین کی پیشکش کی ہے۔ یہ چین کے صنعتی مراکزکوتباہ کرنے کی ایک بہت جارحانہ کوشش ہے۔ اب بھارت اقتصاد ی میدان میں بھی چین کے مفادات سے براہ راست ٹکرارہاہے۔
بھارت کی جنگجوانہ خارجہ پالیسی،دفاعی اوراقتصادی پالیسیوں کاجائزہ لینے کے بعد ہرسال تیزی سے بڑھتے ہوئے اس کے فوجی اخراجات کامقصد واضح ہوجاتاہے اوروہ یہ ہے کہ بھارت ہرصورت میں ایشیاکاٹھیکیداربنناچاہتاہے اوراس کے لیے مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔بھارت کواندازہ ہے کہ اس کی اشتعال انگیزپالیسیاں کسی بھی وقت خطے میں جنگ چھیڑسکتی ہیں اوراس وجہ سے وہ ہتھیاروں کے انبارلگاکرہروقت بڑی جنگ کے لیے تیاررہنے کی کوششوں میں مگن ہے۔
کورونا وبا کے باوجود (چائنا انٹرنیشنل مشین ٹول اینڈ ٹولز نمائش) 18 سے 22 مئی 2020ء اور پھر 9 ستمبر سے 2020ء سے 11 ستمبر کی کامیاب عالمی تجارتی بین الاقوامی نمائش کر کے جرمنی (ای ایم او) اور شکاگو امریکا میں (آئی ایم ٹی ایس) کے عالمگیرحوالے کے بعد بہت بڑی پیشرفت کرکے اپنی برتری ثابت کرکے عالمی مارکیٹ میں اپناوجود منواچکا ہے جس میں30ممالک اورخطوں کے 1,300سے زیادہ مینوفیکچررزنے ہرسیشن میں حصہ لیااورجس کی32سے زیادہ ملکی اوربیرون ملک میڈیاکی سائٹ پرموجود رپورٹس نے امریکااوربھارت پرلرزہ طاری کردیاہے۔
چین کی ایران میں تیل وگیس، ٹرانسپورٹ، مواصلات اور تعمیراتی شعبوں میں لگ بھگ 410 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری خطے میں امریکی بالادستی کے لیے جہاں ایک ایسامشکل چیلنج ہے وہاں پر اعتماد چین اس خطے میں ناقابل تسخیرطاقت کے طورپرسامنے آ گیا ہے۔ اس سرمایہ کاری کے بدلے ایران اگلی چوتھائی صدی تک بڑے ٹینڈرمیں اولین ترجیح چینی کمپنیوں کودی جائے گی۔ ایران چین کواس مدت میں کم ازکم12فیصدرعایت پرتیل اورگیس فروخت کرے گااوراس فروخت میں بھی چین کی ضروریات کودیگر گاہکوں کی ضروریات پراولیت حاصل ہوگی۔ ایران موجودہ امریکی پابندیوں کے سبب محض 2 لاکھ بیرل روزانہ تک محدودہے جبکہ ایران اگرچہ یومیہ 50 لاکھ بیرل سے زائدتیل کی پیداواری صلاحیت رکھتا ہے۔ چین کی توانائی ضروریات اتنی ہیں کہ روس اورایران ہی اس کی تمام ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔
حالیہ معاہدے کے بعدروس اورایران کوایک مستقل اورمضبوط گاہک مل جائے گااورچین کو 2 مستقل قابلِ اعتمادسپلائرمل جائیں گے۔ ایرانی بندرگاہیں چین کے روڈاینڈریل منصوبے کاحصہ بن جائیں گی۔ ہائی اسپیڈ ریل لنک چین کووسطی ایشیا، ایران اور ترکی کے راستے یورپ سے جوڑے گا۔ چین ترکمانستان گیس پائپ لائن کی اگرایران تک توسیع ہو گئی تو آبنائے ہرمز سے بحیرہ جنوبی چین تک کے سمندری راستے میں درپیش ممکنہ خطرات سے کم ازکم چین تک پہنچنے والی توانائی کی رسد محفوظ ہوجائے گی۔ ان حالات میں سی پیک کی تکمیل اوراس کے استعمال کے لیے جہاں چین اپنی دفاعی ذمے داری کوبخوبی سمجھتاہے وہاں ضرورت اس امرکی بھی ہے کہ پاکستان کے دفاع کو مزید ناقابل تسخیربنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کی فوری ضرورت ہے تاکہ مکار بنیے کوواضح پیغام مل سکے۔